عاصف بٹ
کشتواڑ// واڑون کے دور افتادہ علاقے میں مبینہ طوربروقت طبی سہولیات کی عدم دستیابی ایک بار پھر انسانی جان کے ضیاع کا سبب بن گئی جہاں ایک کمسن بچی نے اپنے باپ کی گود میں دم توڑ دیا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور مقامی لوگوں نے انتظامیہ کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ دو سالہ معصوم بچی مدیحہ عنایت جمعرات کی دوپہر مارگی میں ندی میں پھسل کر گر گئی۔ مقامی لوگوں و پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 30منٹ کے اندر بچی کو ندی سے نکال کر علاج کیلئےپی ایچ سی واڑون منتقل کیا۔ تاہم افسوسناک طور پر جب بچی کو ہسپتال پہنچایا گیا تو وہاں نہ کوئی ڈاکٹر موجود تھا اور نہ ہی طبی عملہ، جبکہ پی ایچ سی تالابند پایا گیا۔ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث معصوم بچی زندگی کی بازی ہار گئی اور والد کی گود میں دم توڑدیا ۔عوامی حلقوں نے اس واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور وڑون جیسے حساس علاقوں میں صحت سہولیات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ واڑون جیسے دور دراز علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نہ تو یہاں ماہر ڈاکٹر تعینات ہیں اور نہ ہی ایمرجنسی کی صورت میں فوری رسپانس کا کوئی مؤثر نظام موجود ہے۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ متعدد بار حکام کو اس مسئلے سے آگاہ کیا گیا مگر اب تک کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ مقامی سماجی و عوامی حلقوں نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت طبی سہولیات میسر ہوتیں تو قیمتی جان بچائی جا سکتی تھی۔ انہوں نے حکومت اور ضلع انتظامیہ سے فوری طور پر واڑون میں طبی ڈھانچے کو مضبوط بنانے مستقل ڈاکٹروں کی تعیناتی، ایمبولینس سروس کی فراہمی اور سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ وہیںغمزدہ خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے بڑی تعداد میں لوگ ان کے گھر پہنچے اور تعزیت کا اظہار کیا۔ عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔