سرینگر//پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند 22کشمیری اسیران کو اُتر پردیش کے آگرہ ہائی سیکورٹی جیل منتقل کیاگیا ہے ۔ یہ سبھی اسیران وادی اور جموں کے مختلف جیلوں میں مقید تھے ۔ادھر ان قیدیوں میں سے بعض کے رشتے داروں نے بیرون جموں کشمیر کے جیلوں میں ان کی منتقلی پر تشویش کااظہار کیا ہے۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو درجن کے قریب اسیران کو اُترپردیش کے جیل میں منتقل کیا گیا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ جموں کشمیر سرکار کے ایک حکمنامہ PB-V/776 of 2021 بتاریخ 16/10/2021کے تحت وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے 22قیدیوں کو جو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جموں کشمیر کی مختلف جیلوںجن میں سنٹرل جیل سرینگر،سنٹرل جیل جموں ، کوٹ بلوال جیل جموں ، ڈسٹرکٹ جیل اودھمپور، اور ڈسٹرکٹ جیل کٹھوعہ میں سال 2020سے قید تھے، کو اُتر پردیشن کے انتہائی حساس حفاظتی حصار والے آگرہ جیل منتقل کیا گیا ہے ۔ سرکار نے 10-Bجمو ں کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ 1978کے تحت تفویض کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان قیدیوں کی بیرون جموں کشمیر منتقلی کے احکامات صادر کئے ہیں۔ ان اسیران میں سے 9کا تعلق ضلع اننت ناگ، 8ضلع پلوامہ ،تین کا تعلق ضلع کولگام اور ایک ایک کا تعلق ڈوڈہ اور بارہمولہ سے ہے ۔ قیدیوںکی بیرون جموں کشمیر منتقلی وادی کشمیر میں شہری ہلاکتوں کے پے درپے واقعات رونما ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے ۔ البتہ سرکار کی جانب سے قیدیوںکی بیرون جیل منتقلی کیلئے کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ۔ قیدیوں کے رشتے داروں نے ان قیدیوں کی بیرون جیل منتقلی پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ اس سلسلے میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ قیدیوںکو اچانک بیرون جموں کشمیر منتقل کرنے سے وہ سخت پریشان ہوگئے ہیں۔