پرویز احمد
سرینگر //ایک سروے کے مطابق بھارت میں ہر 7افراد میں ایک نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہے جن میں ذہنی دبائو ، بے چینی اور دیگر بیماریاں شامل ہیں ۔ وادی میں بھی صورتحال کچھ خوش آئندہ نہیں ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف میٹل ہیلتھ اینڈ نیرو سائنس کی سروے میں بتایا گیا ہے کہ وادی میں 47فیصد لوگ مختلف نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں ۔ ان میں 45فیصدذہنی دبائو جبکہ 39فیصد بے چینی، 34فیصد نامناسب رویے اور 9فیصد کو احساساتی مسال کا سامنا ہے۔ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا 47فیصد لوگوں میں سے خواتین کی شرح 50فیصد ،مردوں کی شرح 37فیصد جبکہ 13فیصد متاثرین کی عمر 18سال سے کم ہے۔ مارچ 2025میں شائع تازہ سروے رپورٹ کے مطابق خواتین میں ذہنی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ گھریلو پریشانی، گھریلو تشدد ، ٹروما اورمالی مشکلات ہیں جبکہ مردوں میںنفسیاتی بیماریوں کی بڑی وجوہات میں بے روزگاری، ناکام رشتے، منشیات، گھریلو تنازعات، والدین کا دبائو اور دیگر وجوہات شامل ہیں۔
ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ ذہنی بیماریوں کے پھیلائو کی سب سے بڑی وجہ طبی سہولیات کی عدم موجودگی اور نفسیاتی ماہرین کی کمی ہے۔ مینٹل ہیلتھ اینڈ نیرو سائنسز حکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’نفسیاتی بیماریوں میں پھیلائو کی بڑی وجہ جہاں ہم گھریلو پریشانیوں، بے روزگاری ، منشیات اور دیگر وجوہات کو قرار دیتے ہیں وہیں اس کی ایک بڑی وجہ ماہر نفسیات کی عدم دستیابی بھی ہے۔ مذکورہ ڈاکٹر نے کہا ’’ لوگ بدنامی اور پاگل قرار دینے کے ڈرسے علاج نہیں کرنے آتے ہیں اورجو لوگ علاج کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، انہیں نزدیکی طبی اداروں میں علاج کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا ’’ اگر اننت ناگ یا کپورہ کا کوئی ذہنی مریض مشکل سے علاج کیلئے راضی ہوجاتا ہے تو وہ پھر بھی علاج نہیں کراسکتا کیونکہ نزدیکی طبی اداروں میں نفسیاتی مفاہرین تعینات نہیں ہیں اور اس کی وجہ سے وہ علاج کرنا ہی ترک کردیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی کے سبھی ضلع ہسپتال میں نفسیاتی ماہرین کی تعیناتی لامی ہے کیونکہ ہسپتال آنے والے ہر 10افراد میں سے 4 اس کی لپیٹ میں ہیں۔انکا کہنا ہے کہ وادی میں جس طرح منشیات کی وباء پھیل چکی ہے اسی طرح یہاں نفسیاتی مریضوں کی تعداد میںہر گذرتے دن کیساتھ اضافہ ہورہا ہے۔انکا کہنا ہے کہ آئے دن نوجوانوں کی جانب سے خودکشی کے واقعات اسکی تازہ مثالیں ہیں کہ نفسیاتی ماہرین کی ہر ضلع ہسپتال میں تعیناتی سب سے بڑا مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔