کم روشنی ،چھوٹے دن اور محدود سرگرمیوں سے موڈ منظم کرنے والے کیمیکلز متاثر
پرویز احمد
سرینگر //موسم سرما کا ڈپریشن، جسے طبی طور پر سیزنل ایفیکٹیو ڈس آرڈر (SAD) کہا جاتا ہے، ایک قسم کا ڈپریشن ہے جو موسمی تبدیلیوں سے منسلک ہوتا ہے۔یہ بنیادی طور پر موسم خزاں/ سردیوں میں چھوٹے دنوں کے ساتھ شروع ہوتا ہے، جس سے کم توانائی، موڈ، کاربوہائیڈریٹ کی خواہش اور نیند کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جو اکثر موسم بہار میں پیدا ہوتے ہیں لیکن لائٹ تھراپی، لائف سٹائل کی تبدیلیوں (سیزنل تھیراپی)سے علاج کیا جا سکتا ہے۔نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج کی روشنی میں کمی،چھوٹے دن اور بھاری بادلوں کا احاطہ قدرتی روشنی کو کم کرتا ہے، جو موڈ کو منظم کرنے والے دماغی کیمیکلز کو متاثر کرتا ہے۔ اسکے علاوہ طویل اورسخت سردیاں، دسمبر-جنوری برف کے ساتھ بیرونی سرگرمیوں اور سورج کی روشنی کو محدود کرتی ہیں۔ماہرین کے مطابق کم دھوپ کا مطلب ہے کہ وٹامن ڈی اور سیروٹونن کی کم سطح (موڈ کو مستحکم کرنے والا)، جبکہ میلاٹونن (نیند کا ہارمون) بڑھ سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اس سے10فیصد لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ونٹر ڈیپریشن سے 72فیصدخواتین جبکہ 28فیصدمرد متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں 36فیصد کی عمر 20سے 30سال کے درمیان ہے۔ ان میں 32فیصد میں وٹر ڈپریشن کی علامتیں نومبر سے اپریل مہینے تک دیکھنے کو ملتی ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے شعبہ نفسیات کی جانب سے سال2023میں وٹر ڈپریشن پر کی گئی اپنی طرز کی پہلی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ موسم سرما اور موسم بہار میں 10فیصد لوگ ونٹر ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موسم سرما کے دوران خواتین گھروں میں بیٹھتی ہیں اس لئے وہ زیادہ متاثر ہوتی ہیں، جن میں 64فیصد شادی شدہ ہوتی ہیں۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر اعجاز احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ موسم میں بہتری کے ساتھ ہی ونٹر ڈپرشن علامتوں میں بھی کمی آجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ مہینے سے بہتری آتی ہے اور علامتوں کا اثر کم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اعجاز نے بتایا کہ موسم سرما میں دھوپ، جسمانی سرگرمیاں اوردیگر ورزشیں لوگوں کو ونٹر ڈپریشن سے دور رکھ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر اعجاز نے کہا کہ وٹرڈپرپشن کی بیماری میں عمر گذرنے کے ساتھ بہتری آتی ہے اور اسلئے یہ عمر رسیدہ افراد میں کم پایا جاتا ہے۔