سرینگر//وادی میںمہا شیو راتری جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی جس کے دوران مندروں میں پوجا پاٹ کی گئی۔مہا شیوراتری ، جسے مقامی طور پر ’’ہیرتھ‘ ‘کے نام سے جانا جاتا ہے ، منائی گئی۔ جمعرات کوکشمیری پنڈتوں نے گھرئوں کے علاوہ مندروں میں پوجا کی۔ پنڈتوں میں یہ تہوار ایک اہم مقام رکھتا ہے اور پنڈت اس کو شیو و پاروتی کے درمیان شادی کی خوشی کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن بارش یا برف باری اچھا شگون سمجھا جاتا ہے۔ شیو راتری کے موقعہ پرسب سے بڑا اجتماع شنکراچاریہ مندر میں ہوا۔ سرینگر کے امیراکدل میں واقع گنپت یار اور ہنومان مندر،کے علاوہ حول ، زیندار محلہ ،حبہ کدل اورکرالہ کھڈ و میں بھی خصوصی پوجا ہوئی جبکہ ضلع گاندربل میں تولہ مولہ کے میں کھیر بھوانی مندر میں عقیدت مندوں نے خصوصی پوجا کی۔ اس تہوار پر ، پنڈت ہندو دیوتاؤں کے احترام کے طور پر تر اخروٹ تقسیم کرتے ہیں۔ کشمیری پنڈت اویناش بھٹ کاکہنا ہے کہ شیوارتری پر بارش ہونا’’ا چھا شگون ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’اس سے نہ صرف خوشی ہوئی ہے بلکہ امید ہے کہ تمام فرقوںکے مابین تعلقات مزید مضبوط ہوجائیں گے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ مقامی روایت میں ہیرتھ کے دوسرے دن کو ’’سلام‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ اسی دن ہمیں مسلمان بھائیوں کی طرف سے مبارکباد ملتی ہے۔اس دوران شنکرآچاریہ کے نام سے مشہور جیشٹ ایشورمندر کو روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔ کشمیری پنڈت ہندو پھاگن مہینے میں تریوداشی اور چترداشی (تیرہویں اور چودھویں دن) کی درمیانی شب ہیرتھ مناتے ہیںاور شنکراچاریہ مندر ، جو قدیم یادگاروں میں سے ایک ہے،کو سجایا گیا تھا اور بدھ صبح سویرے وہاں پر خصوصی پوجا کی گئی۔شنکر آچار مندر میں عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہا جن میں مرد ، خواتین ، نوجوان لڑکے ، لڑکیاں اور بچے شامل تھے۔ وادی کے مختلف علاقوں سے مقامی مسلمانوں نے حسب روایت پنڈتوں کے گھر جاکر انہیں مبارکباد اور ہیرتھ سلام پیش کی اور مٹھائی تقسیم کی۔حکام کی جانب سے مہا شیو یاتری کے پیش نظر مچھلیوںکے موبائل مارکیٹ قائم کئے گئے تھے ۔ سرینگر اور وادی کے مختلف علاقوں میں قائم فوجی و نیم فوجی دستوں کے کیمپوں کے علاوہ فورسز بنکروں میں اس حوالے سے خصوصی پوجا کا اہتمام کیا گیا۔