سرینگر //دو روز تک رات کے درجہ حرارت میںبہتری کے بعد بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک بار پھر کڑاکے کی ٹھند پڑ گئی اور درجہ حرارت مین بہت زیادہ گراوٹ آگئی۔پچھلے 3دن سے دن کے درجہ حرارت میں ریکارڈ توڑ کمی دیکھی گئی۔درمیانی شب اور جمعرات دن بھر یخ بستہ ہوائیں چلتی رہیں اور اہلیان وادی شدید سردی سے ٹھٹھررتے رہے۔ جمعرات کوشہر سرینگر سمیت پوری وادی میں مطلع ابروآلودرہنے کے دوران یخ بستہ ہوائیں چلتی رہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق جموں و کشمیر اور لداخ میں 31 جنوری تک شدید سردی کی لہر جاری رہے گی اوریکم 2 اور 3 فروری کو پہاڑوں پر ہلکی برفباری اور بارش کا امکان ہے۔خشک موسمی صورتحال اورمطلع صاف رہنے کی وجہ سے راتیں بہت زیادہ سرد ترین ثابت ہورہی ہیں۔ دوران شب سر ینگرمیں درجہ حرارت منفی5.6ڈگری سلیشیس درج ہوا جبکہ اسے پہلے والی رات منفی2ڈگری سلیشیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔سرینگر میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بھی گر رہا ہے جو جمعرا ت کو 5.1ڈگری درج کیا گیا ۔سیاحتی مقام قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 10.5ڈگری سیلسیش اور زیادہ سے زیادہ 1.7 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔ گلمرگ میں شبانہ درجہ حرارت منفی13.4ڈگری سیلشیس اور زیادہ سے زیادہ منفی4.0ڈگر ی درج ہوا۔جنوبی کشمیر میں واقع سیاحتی مقام پہلگام میں شبانہ درجہ حرارت منفی12.3ڈگری سیلشیس جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرات 1.0ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔کوکرناگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی10.7اور زیادہ سے زیادہ 0.6 ڈگری ،کپوارہ میں کم سے کم منفی2.2ڈگری سیلشیس اور زیادہ سے زیادہ 6.1ڈگری سیلسیش درج کیاگیا۔درجہ حرات کم ہونے کے نتیجے میں کشمیر وادی میں جھیل ڈل سمیت دیگر آبی زخائر ایک بار پھر مجمند ہوئے اور صبح کے وقت پانی کے نل بھی مکمل طور پر جم چکے تھے ۔سردی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سڑکوں، گلی کوچوں، مکانوں کے صحنوں اور چھتوں سے برف نہیں پگلا حالانکہ عام دنوں میں دوپہر کے بعد تھوڑا بہت برف پگل جاتا تھا۔صبح و شام اور رات بھر ٹھنڈی ہوائیں چلنے کے نتیجے میں لوگوں کو گھروں میں ہی محصور رہنا پڑا۔ جمعرات کی صبح سردی کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ سڑکوں پر پالہ(پانی جم جانا) جم گیا تھا۔واضح رہے کہ وادی کشمیر میں سردیوں کے بادشاہ 40 روزہ چلہ کلان کا آخری مرحلہ چل رہا ہے،اور31جنوری کوچلہ کلان رخصت ہوجائیگا۔