اعجاز میر
سرینگر// وادی کشمیر میں ایڈونچر ٹورازم کا شعبہ اس وقت شدید بحران سے دوچار ہے۔ نہ صرف سونہ مرگ کے مشہور گریٹ لیکس ٹریک تک رسائی معطل ہے بلکہ جنوبی ، وسطی اور شمالی کشمیر کے وہ تمام مقامات بھی بند ہیں جو ایڈونچر سیاحت کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ بیشتر پہاڑی اور ٹریکنگ مقامات پر عائد پابندیوں کے باعث مقامی کوہ پیما، ٹریکنگ گائیڈز، ٹٹو مالکان اور اس شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد مایوس اور شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ایڈونچر ٹورازم سے وابستہ افراد نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گریٹ لیکس سمیت تمام اہم ٹریکنگ راستوں کو دوبارہ کھولا جائے کیونکہ مسلسل بندش نے ان کی روزی روٹی بری طرح متاثر کر دی ہے۔ یاد رہے کہ گریٹ لیکس ٹریک کا آغاز گاندربل ضلع کے ناراناگ علاقے سے ہوتا ہے، جہاں سے تقریباً 15 کلومیٹر طویل دشوار گزار راستہ گنگہ بل جھیل تک جاتا ہے۔ یہ سفر پیدل یا گھوڑوں کے ذریعے طے کیا جاتا ہے۔ گریٹ لیکس ٹریک کے دوران گاڈسر، کشن سر، وشن سر، ستسر، گنگہ بل، نندی کول اور دیگر خوبصورت پہاڑی جھیلیں آتی ہیں جو موسم گرما میں مہم جو سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہتی ہیں۔ تاہم پابندیوں کے باعث اس پورے خطے میں سیاحتی اور مہم جوئی کی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔اسی طرح کولہائی گلیشیئر ٹریک، تارسر-مارسر، توسہ میدان، یوسمرگ، دارا سونہ مرگ، اپر دودھ پتھری، مہادیو ہارون ٹریک، کولگام کے چھرن بل، چھر سر، برم سر، بڑی بہک، ہون ہینگ، شوپیان کے کوثر ناگ، مہی ناگ، تراگہ پتھری اور دیگر کئی معروف ٹریکنگ راستے بھی تاحال بند ہیں۔ایڈونچر ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو ان مقامات تک عوامی رسائی بحال کرنی چاہیے تاکہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے متاثر روزگار کو سہارا مل سکے۔ ان کے مطابق سیاحتی سیزن کے عروج پر ٹریکنگ راستوں کی بندش نے سینکڑوں گائیڈز، ٹٹو مالکان اور معاون عملے کو بے روزگار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اس شعبے پر انحصار کرنے والے خاندان شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ٹریکنگ کمیونٹی کے افراد کا کہنا ہے کہ ٹریکنگ ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے اور راستوں کی مسلسل بندش بہت سے خاندانوں کو معاشی بحران سے دوچار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پہلگام حملے کے بعد حکام نے جامع سکیورٹی آڈٹ کے لئے متعدد سیاحتی مقامات اور ٹریکنگ راستے بند کر دیے تھے۔ اگرچہ بعد ازاں حفاظتی جائزوں کے بعد کئی سیاحتی مقامات مرحلہ وار کھول دیے گئے، تاہم بیشتر ٹریکنگ روٹس اب بھی بند ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ٹریکنگ سرگرمیوں کے لئے بکنگ کا عمل فروری سے شروع ہو جاتا ہے جبکہ جون، جولائی، اگست اور ستمبر کے مہینے ایڈونچر ٹورازم کے لئے سب سے اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال اپریل سے جاری بندش کے باعث 200 سے زائد ایڈونچر ٹور آپریٹرز مالی مشکلات کا شکار ہیں اور متعدد افراد بینک قرضوں کی ادائیگی میں بھی دشواری محسوس کر رہے ہیں۔ اس شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق سینکڑوں خاندان براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایڈونچر ٹورازم پر انحصار کرتے ہیں، لہٰذا ٹریکنگ راستوں کی جلد بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔