وائس چانسلر کی صدارت میں سنٹرل یونیورسٹی کا اجلاس

گاندربل//سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کی ایگزیکٹو کونسل نے پیر کو پی آئی ایل اور لیگل امداد کے لئے مہاتما گاندھی سنٹر برائے بین المذاہب ریسرچ کے قیام کی منظوری دے دی۔یونیورسٹی کے گرین کیمپس میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین میر کے ہمراہ منعقدہ ایگزیکٹو کونسل کے 24 ویں اجلاس کے دوران یہ فیصلے لئے گئے۔اجلاس میں چیئرمین، رجسٹرار وفائنانس افسر پروفیسر فیاض احمد نکہ ، سکریٹری ہائیر ایجوکیشن سشما چوہان ،چیئرمین فاؤنڈیشن فار انٹی گریٹڈ ریسورس مینجمنٹ پروفیسر ڈاکٹر راکیش شرما اور سکولوں کے سربراہ آن لائن اور آف لائن شامل رہے۔پی آئی ایل اور قانونی امداد کے مرکز میں قانون کے طالب علم وادی کی مختلف بار کونسلوں میں وکلاء  کے مشورے سے معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقوں کو قانونی امداد مہیا کریں گے جبکہ مہاتما گاندھی سنٹر کی حیثیت سے وہ بین المذاہب تحقیق کریں گے ۔ اسکول آف سوشل سائنسز کے کونسل نے وتہ لار میں اضافی 96 کنال  اراضی کے اطراف میں حفاظتی دیوار تعمیر کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے دوران تولہ مولہ کیمپس میں جموں و کشمیر بینک برانچ کی تعمیر کو بھی منظوری دی گئی۔ممبران نے ایجنڈے کے مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس موقع پر اہم فیصلے لئے گئے۔وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین میر نے کونسل ممبران سے خطاب کرتے ہوئے انہیں یونیورسٹی کے کام کاج اور انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی میں درپیش رکاوٹوں سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کویڈ۔19 کی وبائی بیماری کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے بعد یونیورسٹی نے برتری حاصل کی اور آن لائن درس و تدریس کا عمل شروع کیا تاکہ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ طلباء مقررہ وقت میں ہی اپنے نصاب کا احاطہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کویڈ 19 کے دوران یونیورسٹی کے امتحانات اور تشخیص شعبہ نے طلباء کی دہلیز پر امتحان لیا اور جموں و کشمیر کے تقریبا ہر ضلع میں مراکز قائم کئے۔انہوں نے کہا "یونیورسٹی سب سے پہلے ایس او پیز کی سختی سے عمل کرکے آف لائن امتحانات دیتی تھی اور طلباء  کے نتائج بھی فوری طور پر اعلان کیے گئے تھے تاکہ ان کا قیمتی وقت بچایا جاسکے۔پروفیسر مہراج الدین میر نے ممبران کو یونیورسٹیوں کے سرینگر ضلع میں کرائے کی رہائش سے لے کر گاندربل کے سفر کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت یہ یونیورسٹی گاندربل ضلع کے چار مختلف کیمپس سے کام کررہی ہے جس میں تولہ مولہ کے کیمپس بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ مٹی کی بوجھ کم ہونے کی وجہ سے اس یونیورسٹی کو تولہ مولہ میں اپنا کیمپس بنانے میں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر حکومت نے حال ہی میں منتقلی کی گئی اضافی اراضی کو طلباء  کے لئے ہاسٹل کی تعمیر اور عملے کے لئے رہائش کے لئے استعمال کی جائے گی۔رجسٹرار فیاض احمد نکہ نے اس موقع پر اجلاس میں موجود اراکین اور ممبروں کو یونیورسٹی کے ذریعہ وقتاً فوقتا ًمنعقد ہونے والے مختلف قانون سازی اجلاسوں اور ان اداروں کے ممبروں کی مجموعی نشوونما اور ان کے فیصلوں اور تجاویز کے بارے میں آگاہ کیا۔