محمد تسکین
بانہال// ضلع رامبن کے نیل علاقے میں واقع نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سینٹر(این ٹی پی ایچ سی) باٹو، نیل میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی شدید قلت کے باعث مقامی آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ بنیادی طبی سہولیات کے فقدان نے علاقے کے غریب اور دور افتادہ آبادی والے لوگوں کی پریشانیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، جبکہ مریض بروقت علاج نہ ملنے کے سبب شدید ذہنی و جسمانی اذیت سے دوچار ہیں۔اس سلسلے میں جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے ضلع صدر رام بن افتیاز احمد سوہل نے اپنے دورہ نیل کے دوران سرکاری طبی مرکز کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ این ٹی پی ایچ سی باٹو، نیل میں مستقل ڈاکٹروں کی عدم دستیابی، پیرامیڈیکل اسٹاف کی کمی اور ضروری طبی سہولیات کے فقدان نے تقریباً چالیس ہزار آبادی کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقے کے مریض معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی کئی کئی کلومیٹر دور اُکڑال ، بانہال اور رامبن کا سفر کرنے پر مجبور ہیں اور اس صورتحال کیوجہ سے غریب خاندان، بزرگ شہری، حاملہ خواتین اور ایمرجنسی مریض سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ کئی مرتبہ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث مریضوں کی حالت تشویشناک ہو جاتی ہے، جبکہ رات کے اوقات میں صورتحال مزید سنگین بن جاتی ہے۔افتیاز احمد سوہل نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی جانب سے دیہی اور پہاڑی علاقوں میں صحت نظام کو بہتر بنانے کے دعوے زمینی سطح پر کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں اور نیل جیسے دور افتادہ علاقوں میں صحت مراکز صرف عمارتوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جہاں نہ مناسب ڈاکٹر موجود ہیں، نہ لیبارٹری سہولیات، اور نہ ہی ایمرجنسی خدمات موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پینتھرس پارٹی ضلع انتظامیہ رامبن اور محکمہ صحت جموں و کشمیر سے اپیکرتی ہیکہ وہ این ٹی پی ایچ سی نیل باٹو نیل میں تمام خالی اسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے اور مستقل میڈیکل آفیسر، نرسنگ اٹاف، ٹیکنیشنز اور دیگر ضروری طبی عملے کی تعیناتی میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے میں مزید لاپرواہی برتی گئی تو پینتھرس پارٹی عوام کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوگی، کیونکہ صحت جیسی بنیادی سہولت سے لوگوں کو محروم رکھنا ناقابل قبول ہے۔