نیوزی لینڈ: چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

۲۰۰۰ء میں اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے اپنے ملک کے حوالے سے برملا ایک سچ کہا تھا کہ عنقریب امریکہ کی بیشتر آبادی حرام زادوں پر مشتمل ہو گی ۔واقعی ا س وقت امریکہ میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے بچے ہیں جنہیں اپنے باپ کا پتہ ہی نہیں ہے، والدین کو اولڈ ایج ہومز میں مر نے کے لئے پھینکا جاتاہے، بے قابو جنسی خواہشات پورا کرنے کے لئے قحبہ خانوں کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے اور عمل قوم لوط کی بھی قانونی اجازت ہے۔ امریکہ ا ور پورپ میں رائج الوقت مادر پدر تہذیب کے چلتے ہرانسان آزاد ہے کہ وہ جو مرضی کر گزرے ، چاہے اس سے شرافت کی دھجیاں اُڑیں ، انسانیت کا قلع قمع ہوجائے ، قانون کی مٹی پلید ہو، حرام ز ادوں کی فوج تشکیل پائے ۔  غرض مغرب کا انسان نما حیوان اپنی ہی دُھن میں مست ہے ۔ وہ اگر کرسی اقتدار پر بیٹھا ہو تو جارج بش کی طرح کمزور قوموں کو پتھر کے زمانے میں پہنچا سکتا ہے ، اس کا من کرے تو کسی چرچ، شراب خانے ، ناچ نغمے کی محفل ، کسی اسکول، کسی مسجد، کسی عدالت، کسی پارک ، کسی ہوٹل، کسی پبلک مقام یا کسی ریلوے اسٹیشن پر جاکر لوگوں کو اپنی بندوق کی غذا اور اپنے بم کا لقمہ بناسکتا ہے ، وہ جمہوریت کی کتاب میں اپنے اندر کے حیوان کی تسلی وتشفی کے لئے ظلم وتشد د کا ہر کوئی افسانہ لکھنے میں آزاد ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں ہر اُنتالیس منٹ میں ایک فحش فلم بنائی جاتی ہے اورچالیس ملین سے زیادہ لوگ متواتر فحش مواد دیکھنے کے عادی ہیں۔ ایک دوسرے سروے کے مطابق امریکہ میںقحبہ گری، جسم فروشی  اور جنسی آوارہ گردی سے ہر سال تقریبََا چالیس ملین ڈالر ز بطورِ ٹیکس ملکی خزانے میں جمع ہوجاتے ہیں۔ان حقائق کی روشنی میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مغربی بے حیاو بے مروت سماج کا اس وقت کیا بُرا حال ہے۔مغرب اس وقت اگر کسی چیز کے بل پر کھڑا ہے تو وہ بس اس کی جدید مشینری، اسلحہ سازی ،وار انڈسٹری اور ہمہ وقت جھوٹ پھیلانے والا میڈیا ہے۔ اگر یہ  چیزیں بالفرض کسی وجہ سے اس کی بند مٹھی سے پھسل جائیںتو اہل مغرب کا حرف ِ غلط کی مانند صفحہ  ٔ ہستی سے مٹ جانا صرف اسکنڈوں کا م ہے۔ دیارِ مغرب کوئی افغانستان نہیں کہ فاقہ کش اور بے سروسامان ہونے کے باوجود محض اپنی جرأ ت ایمانی کے بل پر کبھی بر طانیہ سے لوہے کے چنے چبوادیں ، کبھی روس کا سر غرور جھکوادیں، کبھی امریکہ سے دھول چٹوادیں ۔ افسوس کہ مغرب سے چلی آرہی پُر خطر آندھی مشرق میں اندھی تقلید بن کر اپنے ناکارہ اثرات  سے ہمارے عقل اور اخلاق کے چراغ بجھا تی چلیجارہی ہے۔ چونکہ مغرب میںصنعتی اور شہری ترقی( industralization and urbanisation) کی وجہ سے انسان کا اخلاق سے رابطہ پہلے ہی کٹ چکا ہے، خاندنی اخوت و محبت کا اٹوٹ بندھن قصہ پارینہ ہو چکا ہے، خاندان ، ہمسائیوں ، رشتہ داروں کے حقوق کا باب ہی ختم ہوچکا ہے، انسان اپنی ذاتی شخصیت کے حصار میں اتنا گم کردہ راہ ہو چکا ہے کہ جہاں کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ کی دومساجد میں آسٹریلیاایک باولے کتے کا بندوق چلاکر انسانیت کی تکا بوٹی کر نا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔
کشمیر میں مغرب کی اندھی تقلید سے بے راہ روی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہ ا یک قابل ِ تشویش امرہے اور یہاں مغرب کا وحشی پن جڑنہ پکڑے ،اس کے لئے اصلاح ِ معاشرہ کے طور طریقوں پر خاص دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ سرکاری سطح پر کلچرل پروگرام کے نام پر  جن ناچ نغموں کی محفلوں اور اخلاق سوز حرکات کو رواج دیا جاتا ہے ، اُسے احسن طریقے یعنی تعلیم و تزکیہ سے رو کنے کی ضرورت ہے ۔ واضح رہے کہ جہاں جہاں مغرب کا دیا ہوا مخلوط نظام تعلیم رائج ہو، وہاں اخلاقی زوال کا موافق ماحول فراہم ہونا ظاہر سی بات ہے۔ ہمارے یہاں یہ بدعت وسیع پیمانے پر پران چڑھائی جارہی ہے اور رہی سہی کسر موبائل اور جدید اور ٹیکنالوجکل  gadget پوری کرر ہے ہیں۔ انٹرنیٹ بے شک لامحدود فوائد سے بھرا ہوا ہے مگر ایک بار اس کاناجائز استعمال ہو تواس سے فرد یاسماج کی اخلاقی موت واقع ہوجاتی ہے جو دھیرے دھیرے نقصانات کی فصل کٹائی پر منتج ہو جاتی ہے۔ اس گھمبیر صورت حال میں مزید خرابی کا موجب بننے والی چیز یہ ہے کہ ہماری جواں نسل اسلامی تعلیمات سے کم وبیش بے خبر ہے۔ اُدھر مغرب تامشرق جب کچھ ایسی کم بخت انجمنیں بھی مختلف ناموں سے فعال ہوں جو یہ کہتی ہیں کہ لڑکی کا جسم اس کا اپنا جسم ہے، وہ اس کے ساتھ کیا کرے اور کیا نہ کرے، وہ کیا پہنے اور کیا نہ پہنے ، کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اس معاملے میں مداخلتِ بے جا کرے۔ ایسی گندی سوچ رکھنا روشن خیالی اورماڈرن ازم کہلاتا ہے اور جو کوئی فرد یا سماج اس پاگل پن کا مخالف ہو اس کو دقیانوسی ، رجعت پسند ، بنیاد پرست ، دشمن ِ ترقی، انتہا پسند کہہ کردھتکارا جاتا ے۔ زمینی حالات کی یہ مایوس کن تصویر دکھارہی ہے کہ ہم کس طرح دانستہ یاناداستہ طور مغرب کے نقش قدم پر آگے بڑھ ر ہے ہیں۔ امر واقع یہ بھی ہے کہ مغرب کے سوچنے سمجھنے والے ماہرین اپنی تہذیب اور بے راہ رو زندگی کی کھوکھلاہٹ سے گھٹن محسوس کر رہے ہیں۔ان کے سامنے بیک وقت مغرب کی دومتضاد تصویر یں ہیں، ایک تصویرآنکھوں کو چکاچوند کر نے والی مادی وسائنسی کامیابیا منعکس کر تی ہیں اور دوسری تصویرنیوزی لینڈ میں جمعہ کے دن دو مساجد میں گھس کر بے قصور نمازیوں پرا ندھا دھند فائرنگ کا المیہ ہیں جس پر انسانیت اشک بار اور حیوانیت نازاں ہے ۔ مغرب کے انسانیت کے بہی خواہ اہل عقل حسرتوں کے عالم میں اپنی تہذیب کو پانی  پی پی کر کو س رہے ہیں کہ ہمیں کس حیوانی پٹری پر لگایا دیا ہے۔ مغرب میں بے راہ روی کی بڑھتی زہرناک لہر کو ’’روشن خیالی ‘ ‘اور’’آزادی نسواں‘‘ کا کتنا بھی خوش نما نام دیا جائے مگر اُس کے دوزخی تنائج ہمارے سامنے نیوزی لینڈ کی مساجد پر دہشت گرادنہ حملے کی صورت میں موجود ہیں۔ مغرب میں آج سماجی ماہرین ایسے ہی واقعات کے پس منظر میں بحث کر رہے ہیں کہ آیا ہماری تہذیب زیادہ دیر تک ٹک سکے گی؟ سطح بین لوگ تہذیبوں کے صفحہ ہستی سے مٹنے کے اسباب میں نا خواندگی ، بیماری، موسمی بدلائو ، سیاسی کشمکش، انسانی خروج، اقتصادی جمود ، ٹیکنالوجی کی عدم موجودگی  اور خارجی حملوں کوگنتے ہیں لیکن کسی تہذیب کی زوال آمادگی کاسبب اس کے اندرا یمان ، انسانیت، اخلاق اور روحا نی طمانیت کا فقدان ہے۔ نیوزی لینڈ کا المیہ اسی امر کا اعلان ہے کہ مغرب دجالیت کی سلطنت ہے اور یہاں کے دجال جمہوریت ، انسانی حقوق اور خوش عنوانی کا کتنابھی بلند بانگ اعلان کریں مگر ان پر علامہ اقبال کی یہ پھبتی صادق آتی ہے   ؎   
 تم نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
 چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر