نیوزی لینڈ میں نمازیوں کی شہادت

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع دو مساجد پر جمعہ 15 ؍ مارچ کو ایک اکیلے دہشت گرد نے مسلسل کم و بیش 20 منٹ تک فائرنگ کرکے 49 ؍افراد کو شہید اور متعدد کو زخمی کردیا۔ خونی دہشت گرد آسٹریلیا کا شہری ہے۔ حملہ آورمذہباً عیسائی مذہب ہے اور چارسوسال قبل صلیبی جنگ میں مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں عیسائی لشکر کی شکست فاش کا بدلہ نہتے نمازیوںپر حملہ کرکے لیا ۔ اس خون آشام واقعے میں شہید اور زخمی ہونے والے سب کے سب مسلمان ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ’’ مہذب دنیا‘‘ خاموش ہے اور سوائے مذمتی بیانات کے کہیں سے کوئی سخت ردعمل نہیں آرہا نہ آیا۔ ایسے مواقع پر جو لبرل کہلانے والےلوگ کنڈل مارچ کر نے کے فراق میں رہتے ہیں ، وہ بھی کہیں نظر آتے۔ وجہ ظاہر ہے کہ حملے میں شہید ہونے والے سارے کے سارے مسلمان ہیں ۔ جنوری2015 میں جب ڈنمارک میں ہفت روزہ ’’شارلی ہیبڈوز‘‘ میں قابل اعتراض خاکے شائع کر نے کی پاداش میں اس اخبار کے دفتر پر حملہ کیا گیا اور برسرموقع 17؍ افراد ہلاک ہوئے تو دنیا کے سربراہانِ حکومت پیرس میں یک بار جمع ہوگئے اور کندھے سے ملاکر نہ صرف اس دہشت گردی کی مذمت کی بلکہ پانی پی پی کر مسلمانوں کو بھی کوسنا نہ بھولے ۔ آج چونکہ ایک خونی عیسائی دہشت گرد نے انسانیت کا سر جھکادیا تو دنیا پر مہر سکوتِ لب ثبت ہے۔ 
نیوزی لینڈ کا شمار دنیا کے پُرامن ممالک میں ہوتا ہے ،جہاں اس طرح کے انسانیت سوز واقعات کم ہی ہوا کرتے ہیں۔ عام تاثر یہی ہے کہ مسلمان ایسے ملکوں میں نسبتاً محفوظ ہیں یا یہ کہ مسلمانوں کے لیے یہ مغربی ممالک بہت بہتر ہےمگر دو مساجد پر تن تنہا ایک مسلح شخص کی اس خونین کارروائی نے نیوزی لینڈ کے حوالے سے بھی اس تاثر کی تغلیط و تکذیب کردی۔ اس مذموم المیے پر نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم نے بلا کسی تامل کے اسے دہشت گردی قرار دیا اور سوگوار مسلم کمیونٹی سے اظہار تعزیت کر نے میں کوئی کمی نہ رکھی، بیشتر ممالک بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کررہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کسی قسم کا  شدیددردعمل آئے گا کیوں؟ حملہ آور مسلمان تھا نہ مرنے والے غیر مسلم تھے، اس لئے ان ملکوں کاردعمل بھی اتنا زیادہ تیکھا نہ ہو ناقابل فہم بات ہے۔ حملہ بھی کسی شراب خانے، نائٹ کلب یا مندر اور گرجا گھر میں بھی نہیں ہوا، مسلمانوں کی عبادت گاہوں یعنی مساجد میں ہوا ہے۔ دنیا تو خود مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے ہوئے نہیں تھکتی ،اس لیے ا س سے کیسا ردعمل اور کس کے لیے ردعمل؟؟؟ سوشل میڈیا اس المیہ پر خاموش نہیں ہے۔ اس نے واشگاف لفظوں میں کہا کہ نیوزی لینڈ میں کاروائی کر نےو الے آسٹریلیوی دہشت گرد کی بندوق پر لکھا ہوا تھا: ’’حملہ آور دہشت گرد کو عالمی امن کے ٹھیکیدار ذہنی مریض کہہ دیں‘‘ غور کیجیے کہ دہشت گرد کی بندوق پر کیا لکھا ہوا ہے۔ اس کی بندوق اور میگزینوں پر متعدد عبارتیں درج ہیں جن میں سے ایک جملہ ہے ’  1683 vienna‘۔اس تاریخ کا ایک پس منظر ہے جو محاصرہ ٔویانا اور جنگِ ویانا کی یاد دلاتا ہے۔ جب جولائی 1683ء میں عثمانی فوج نے قرۃ مصطفیٰ پاشا کی قیادت میں دو ماہ تک ویانا کا محاصرہ کیا، تب 70 ہزار صلیبی فوجیں ویانا پہنچی تھیں، یہ عثمانیوں اور صلیبیوں کے درمیان ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ دہشت ترد کے بندوق کی نالی پر ایک عبارت درج ہے جس میں مہاجرین اور سیاحوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’جہنم میں خوش آمدید‘‘۔ اس کے علاوہ بھی متعدد جملے لکھے گئے ہیں جن سے یقین واثق ہوجاتا ہے کہ خونی دہشت گردکٹر پنتھی عیسائی ہے اور مسلمانوں سے شدید نفرت کرتا ہے ۔ اس نفرت کی وجہ وہ خود تاریخ سے ڈھونڈ کر لیا ہے اور الفاظ کے قالب میںاس نے بندوق پر لکھ د ئے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی جن مساجد میں موجود نمازیوں کو مسلح ملزم نے گولیوں کا نشانہ بنایا ان میں ایک’’ مسجد النور‘‘ بھی ہے۔ چوں کہ یہ حملہ مسلمانوں پر ہوا ہے، اس لیے ہمیشہ کی طرح اب ہمارے لئے حکام سے یہ سننا بھی غیر متوقع نہیں سمجھنا چاہیے کہ حملہ آور کا دماغی توازن دُرست نہیں تھا، لیکن کیا ایسا بھی کوئی پاگل ہوسکتا ہے جو گاڑی درست طریقے سے چلاکر اپنے ہدف کی طرف پورے اطمینان اور ذہنی یکسوئی کے ساتھ پہنچے اور پھر مساجد میں موجود مسلمانوں پر گولیاں برسا دے؟ ممکن ہے کہ دنیا پر حاوی جدید مغربی ماہر ین( مکار)اس شخص کی دہشت گردی کو اپنے کسی بھی من چاہے کھاتے میں ڈالیں کیوں کہ آج کل کی  بے مروت اور وحشت کی عادی دنیا میں مسلمانوں کا خون تو ہے ہی بے قیمت ،سو نیوزی لیڈ میں کچھ اور بے وقعت ہوگیا ِتو کون سا آسمان ٹوٹ پڑے گا؟؟؟
آج تک یہی دیکھا گیا ہے کہ مسلمان دہشت گرد کہلائیں لیکن دیگر مذاہب ماننے والے جنونیوں کو زیادہ سے زیادہ ذہنی تناؤ سے مغلوبshooter کہا جاتا ہے ۔ انہیں اپنے ملک کا قانون اور معاشرہ بھی ’’پاگل‘‘ کا سرٹیفکیٹ دے کر نئے گل کھلانے کے لئے چھوڑ دیتا ہے، جب کہ مسلمانوں کے لئے گونتا ناما بے ، ابوگریب اور بگرام ائر بیس کابل جیسے بدنام زماں عقوبت  خانے ہیں ۔اس لیے یہ بات  دُرست ہو گا کہ نیوزی لینڈ کی خون آشامی کےخلاف انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں کو آواز اُٹھانے کے لیے شرم دلانے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ ویسے بھی ایسی تنظیمیں اتنی فارغ بھی نہیں کہ’’معمول‘‘  کے مطابق مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وتشدد پر شور وغوغا کریں۔ اس لئے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی باتوں سے آپ اُن کی غیرت جگا سکتے ہیں تو آپ غلطی پر ہیں۔ بھلا جن کا وجود ہی بے غیرتی اور جانب داری کا نتیجہ ہو، ان میں غیرت کہاں سے آسکتی ہے؟ بایں ہمہ ہمیں سوچنا تو ہوگا کہ نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کو گولیوں کا نشانہ بنانے کے پیچھے کیا عوامل ہو سکتے ہیں ؟ اور ہمیں اپنی سطح پر مدافعانہ حکمت عملی وضع کر نی میں کوئی لیت ولعل کر نی چاہیے نہ تاخیر۔یہ بات تو طے ہے کہ مسلمان دشمن مغرب اور اس کے مشرقی حواری ہر صورت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ایسے میں تمام مسلمان ممالک خصوصاً پاکستان کو اپنے دشمنوں سے مذاکرات کرتے ہوئے بھی احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ خوش فہمی کی دنیامیںمست رہنےو الوں کہ سوچنا چاہیے کہ جہاں آسٹریلوی وزیراعظم نے بھی دہشت گرد کے آسٹریلوی شہری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے مانا کہ حملہ آور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا انتہا پسند اور متشدد دہشت گرد ہے، جس نے مسجد پر فائرنگ کر کے کئی معصوم انسانوں کی جان کی اور میں اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، ہواںا سی ملک کے ایک سنیٹر نے بر سرعام قاتل دہشت گرد کی ابلیسی کو جواز بخشا ۔ کرائسٹ چرچ المیہ کا ایکشن ری پلے کسی اور شہر میں نہ ہو،اس کے لئے مسلم کیمونٹی کو ہمہو قت چوکنا رہنا ہو گا اور سمجھنا ہوگا تہذیبوں کا تصادم مغرب کے لئے ایک تھیوری نہیں بلکہ مسلمانوں کو مختلف بہانے کر کے صفحہ  ٔ ہستی سے مٹانے کا نقش ِراہ ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ قانونِ مکافات ِعمل کے تحت ظالموں ، قاتلوں ، خونیوں کو اس دنیا میں بھی اپنے کئے کا خمیازہ اُٹھانا پڑ تاہے ۔
