نیوزی لینڈ دہشتگردانہ حملوں کا ملزم پیشِ عدالت

سرینگر/اٹھائیس سالہ دہشت گرد آور برینٹن، جس نے گذشتہ روز نیو زی لینڈ میں مساجد پر حملوں میں کم سے کم49مسلمانوں کو بھون ڈالا، کو سنیچر کے روز عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان پر قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

بی بی سی اُردو کے مطابق برینٹن کے علاوہ حکام کی تحویل میں دو اور لوگ بھی موجود ہیں۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دو دہشتگرد حملوں میں 49 افراد ہلاک اور 20 سے زیادہ لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملہ آور کے پاس پانچ بندوقیں تھیں اور ان کے پاس اس کا لائسنس بھی تھا۔

حملے کے ایک دن بعد کرائسٹ چرچ میں وزیراعظم نے کہا کہ اسلحہ سے متعلق ہمارا قانون تبدیل کیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ زیر حراست افراد میں سے کسی کا بھی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملا۔

واضح رہے کہ پولیس نے ابھی تک ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

ہسپتال کے چیف سرجن گرگ رابرٹسن نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ 48 افراد حملے کے بعد ہسپتال میں داخل ہوئے۔ چار افراد کی موت راستے میں ہی واقع ہو گئی تھی جبکہ سات افراد کو طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق زیر نگہداشت افراد میں سے 11 کی حالت تشویشناک ہے جن میں ایک دو سال اور ایک تیرہ سالہ بچہ شامل ہیں۔

سرجن رابرٹسن نے بتایا کہ زیادہ تر مریض مرد ہیں جن کی عمریں 30 سے 40 برس کے درمیان ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ایک چار سالہ بچی کو بھی آکلینڈ کے ہسپتال میں داخل کیا گیا جن کی حالت خطرے میں بتائی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش، انڈیا اور انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ ان کے شہری ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی ریڈکراس نے لاپتہ افراد کی فہرست اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہے۔

نیوزی لینڈ میں مختلف ملکوں کے شہری اپنے لاپتہ ہونے والے ساتھیوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر اطلاعات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔