پرویز احمد
سرینگر //موٹاپے، گردوں کی بیماری، بلڈ پریشر اور شوگرکے مریضوں کے علاوہ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا افراد کی بڑی تعداد ’’نیندمیں سانس رک جانے ‘‘(Obstructive Sleep apenia) کی بیماری سے جوج رہے ہیں۔یہ نیند کی ایک ایسی بیماری ہے جس میں رات کو سوتے وقت گلے کے پٹھے آرام کی حالت میں آکر سانس کی نلی کو بند کردیتے ہیں۔ اس سے بار بار سانس رکتی اور چلتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میںطرز زندگی میں تبدیلی اور موٹاپے کی شرح بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس بیماری میں مبتلا افراد کی45فیصد ہے اور اس میں متواتر طور پر اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے مطابق اس بیماری میں مردوں کی شرح 68فیصد جبکہ خواتین کی 28فیصدہوتی ہے۔ ان کی اوسط عمر 40سال ہوتی ہے اور ان میں 53فیصد کو سانس رک رک کر چلنے کی شدید بیماری ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ 31فیصد مریضوں کو درمیانی درجہ کی اور 15فیصد مریضوں کو یہ بیماری معمولی نوعیت سے متاثر کرتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق اس بیماری کی بڑی وجوہات میں موٹاپا، بلڈپریشر اور نفسیاتی دبائو ہے اور ہر ایک مریض میں ایک سے زیادہ وجوہات پائی جاتی ہیں۔ 70فیصد مریضوں میںبیماری کی وجہ موٹاپا ،63.3فیصد میں بلڈ پریشر اور 56فیصد میں ذہنی دبائو پایا گیاہے۔ ماہر امراض چھاتی ڈاکٹر مدثر قادری کہتے ہیں کہ مریضوں کو علامات سے ہی پتہ چلتا ہے کہ سوتے وقت اس کی سانس رک رک کر چلتی ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ کشمیرمیں طرز زندگی میں تبدیلی کی وجہ سے کئی بیماریوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اس بیماری میں بھی یہی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیندکے دوران سانس لینے میںرکاوٹ کافی مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سگریٹ ، شراب اور دیگر وجوہات کی وجہ سے لوگ اس بیماری کے زیادہ شکار ہوجاتے ہیں ۔ انکا کہنا تھا کہ اگر اس کا علاج نہیں کیا جائے گا توایسے افراد کو ہائی بلڈ پریشر، حرکت قلب بند ہونے اور سٹروک کا خطرہ رہتا ہے۔ ڈاکٹر مدثر نے بتایا ’’وزن کم کرنے ، ورزش، سگریٹ نوشی سے نجات اور دیگر ضروری احتیاط سے ان بیماری کو کافی حد تک قابو کیا جاسکتا ہے۔