نیشنل کانفرنس کی مجلس عاملہ کا خصوصی اجلاس سری نگر میں منعقد ، جموں وکشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال

سری نگر// جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کی مجلس عاملہ کا ایک غیر معمولی اجلاس آج نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔6 گھنٹے تک جاری رہے اس طویل اجلاس میں پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ ،جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر کے علاوہ مجلس عاملہ کے معزز ممبران نے شرکت کی۔
 
اجلاس میں جموں و کشمیر اور یہاں کے عوام کو درپیش چیلنجوں کے علاوہ امن و قانون کی بگڑتی ہوئی صورتحال، جموں وکشمیر کی سیاسی صورتحال اور پارٹی امورات کے بارے میں تبادلہ خیالات ہوا۔
 
اجلاس کے شرکاءنے اپنے اپنے عام لوگوں کے بنیادی مسائل و مشکلات، اقتصادی اور معاشی بدحالی, ریکارڈ توڑ بے روزگار اور کمر توڑ مہنگائی جیسے معاملات بھی اُجاگر کئے۔
شرکاء نے اجلاس کو اپنے اپنے علاقوں میں جاری پارٹی سرگرمیوں اور پارٹی پروگرواموں کے بارے میںبھی آگاہ کیا۔
 
جموں و کشمیر میں بڑھتے عدم برداشت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے فقدان پر مجلس عاملہ نے زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جو صورتحال پیدا کی جارہی ایک جمہوریت میں ایسے کام نہیں ہوتا ہے۔ ” جموںو کشمیرمیں جس طرح سے کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں اور جس طرح ذرائع ابلاغ کو دبایا جارہاہے وہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
 
“ مجلس عاملہ نے حکومت پر زور دیا کہ تمام صحافیوں کو رہا کیا جانا چاہئے۔” انکاﺅنٹروں اور جرائم پر رپورٹنگ کرنے سے کوئی ملی ٹینٹ یا مجرم نہیں بنتا ہے، صحافت کوئی جرم نہیں ہے، اس لئے حکومت کو چاہئے کہ ذرائع ابلاغ پر جاری دباﺅ کو ختم کیا جائے اور نظربندی صحافیوں کو بلا تاخیر رہا کیا جائے“۔
 
حکومتی ناکامی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجلس عاملہ نے کہاکہ انتظامیہ زمینی سطح پر لوگوں تک پہنچنے اور ان کے مسائل و مشکلات دور کرنے میںمکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور موجودہ دور میں لوگوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔
 
اگست2019 کے فیصلوں کی منسوخی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے مجلس عاملہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بلا تاخیر بحال کیا جانا چاہئے۔
 
اس کے علاوہ مجلس عاملہ نے بد سے بدتر ہوتی جارہی سیکورٹی صورتحال پر زبردست تشویش کا اظہار کیا اور سرینگر و ادھمپور دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور مرکزی حکومت سے یہ سوال پوچھا گیا کہ 5اگست2019کو جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے وقت جس امن و امان کے قیام کے دعوے کئے گئے تھے وہ امن کہاں ہے؟ مجلس عاملہ نے دھماکوں میں جاں بحق اور زخمی ہوئے شہریوں کیلئے بھر پور مالی امداد فراہم کی جائے۔
 
صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ اپنے خطاب میں مجلس عاملہ کے ممبران پر زور دیا کہ وہ لوگوں کے ساتھ زمینی سطح پر تال میل رکھیں اور پارٹی کی مضبوطی کیلئے کام کریں۔
 
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ماضی میں بھی بہت سارے چیلنجوں کا سامنا کیا اور ہمیشہ سروخ رو ہوکر اُبھر ہے لیکن اس کے لئے عوامی حمایت لازمی ہے۔ ہماری جماعت نے ماضی میں عظیم مالی اور جانی قربانیاں دیکر جموں وکشمیر کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کیاہے اور انشاءاللہ ہم موجودہ چیلنجوں میںبھی سروخرو ہوکر سامنے آئیں گے۔