نویدِ سحر

’’ جگمیت‘‘  اپنے دوست اور روم میٹ ’’ٹاشی‘‘ کے ساتھ کمرے میں کافی دیر سے خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ گویاکہ لب سلے ہوئے ہوں۔جب سے آخری پیپر دیکرآیا تھا تب سے ایسے ہی خاموش اور گم سُم بیٹھا ہوا تھا ۔ناکسی سے کچھ کہا نا سنا ۔ اور تو اور اپنا فون بھی سرکا کر پرے رکھ دیا تھا ۔
’’یا ر !پریشان نہ ہو۔سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ۔تجھے کنجوق (خدا ) پر اور اپنی محنت پر بھروسہ تو ہے نا ‘‘ ٹاشی نے کہا ۔
لیکن جگمیت تو خیالوں کی دنیا میں کھویا ہوا تھا۔مراقبے کی حالت میں بیٹھا اپنی زندگی کے خاردار راستوں اور اس کی پُر خطراور تنگ پگڈنڈیوں میں الجھا ہوا اپنے ماضی کی یادوں کے ساتھ گھریلو مشکلات اور والدین کی پریشانیوں کا سوچ رہا تھا ۔اسے بار بار’’ چانگ تھانگ‘‘ کے اپنے بے آب و گیاہ علاقہ میں رہ رہے اپنے والدین اور ان کی صعوبتوں کا خیال آتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کتنی سختیاں جھیل کر اُس کے والدین اس کی اعلیٰ تعلیم کے لیے جتن کرتے ہیں ۔  ’’ چانگ تھانگ‘‘ کا دور دراز علاقہ جہاں کے جیالے باسی پر صُعب اور سخت زندگی گزارتے ہیں۔  جن کا سرمایہ ان کے کچھ مویشی ہوتے ہیں ۔ جو ان کی کل متاع زندگی ہوتی ہے ۔ جن میں سرا گائے(Yak)، گائے اور بھیڑ بکریاں ہوتی ہیں۔  یہ سخت جان خانہ بدوش چرواہوں کے قبیلے سخت موسموں میں پُر خطر گھاٹیوں ،پہاڑی دروں ،تیز دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے دوردرازہزاروں میلوں کی مسافات طے کرتے ہوئے چراہ گاہوں کی تلاش میں علاقہ کے طول و عرض میںہمیشہ محو سفر رہتے ہیں ۔  ان کی زندگی جہد ِ مسلسل اور جہد للبقاء کی مکمل تصویر ہے ۔ کھبی وادی کی تیز ہواؤں اور سخت موسموں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے تو کھبی پہاڑوں اور ٹیلوں پر باد مخالف اور دیگر آفات سماوی سے مقابل رہتے ہیں تاکہ وہ اپنے مویشیوں کو ،جن کے ساتھ ان کی معیشت جڑی ہے، پال سکیں۔ انہی مویشوں کی تجارت سے اور اُن سے حاصل شدہ دودھ ،دہی ،مکھن،اون اور پشمینے سے ان کی گذر بسر ہوتی ہے ، جن کے بدلے میں وہ اپنے لئے اناج ، کپڑے اور دیگر ضروریات کے سامان حاصل کرتے ہیں۔ 
جگمیت کو بھی معددے چند چرواہوں کے بچوں کی طرح انگچوک نے لداخ سے دور جموں اعلیٰ تعلیم کے لیے روانہ کیا۔ انگچوک نے اپنی کل جمع پونجی، جو چند سو روپیوں پر مشتمل تھی جگمیت کے حوالے کی اورایک خوش آئندمستقبل کی امیدکے ساتھ اسے اعلیٰ تعلیم کے سفر پر روانہ کیا ۔ چانگ تھانگ کی خاموش اور پر سکون کوہستانی وادی سے نکل کر شہر کے تیز رفتار اور پر شور ماحول کو پہلی بار دیکھا تو اسے خوشی کے بجائے مایوسی ہوئی۔ ایک انجانے خوف اور پریشانی نے اسے آگھیرا ۔  جب جموں کی حبس زدہ گرمی اور لو سے گھبرا جاتا تو اسے دامن کوہ میں واقع ان وادیوں کی یاد ستانے لگتی جن سے گزرنے والی برفانی ہوا بدن میں ایک نئی تازگی اور جوش پیدا کرتی ہے۔  حد نگاہ تک پھیلی ہوئی سڑکوں پر دوڑتی ٹریفک اور ایک دوسرے یہ سبقت لینے کی کوشش میں بدحواس لوگوں کو کاروں اور موٹروںکو دوڑاتے دیکھتا تو اسے اپنی پرسکون اور خاموش وادی کی یاد ستاتی جہاں ہر کوئی اپنے کام میں مگن مگر ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے تئیں فکرمند ،ایک دوسرے کے غمگسار اور مدگار تھے۔ یہاں پر حال ہی کچھ الگ تھا۔
’’اب کیا ہوگا ؟ کیسے رہ پائوں گا؟ــ‘‘  اس طرح کے ہزاروں سوال دماغ میں آتے۔  وہ شاید حوصلہ کھو دیتا مگر والدین کے جذبہ اور شوق کا خیال اسے ان حالات سے مقابلہ کرنے کی ایک نئی طاقت ایک نیا حوصلہ دیتا۔ 
ابتدائی کچھ دن لداخ سرائے میںاس کا قیام رہا۔ پھر داخلہ کے لیے اسکولوں کے مسئلہ کے علاوہ رہائشی انتظام کا بھی مسئلہ درپیش تھا۔ رہائشی مکان یا ’’ڈیرے‘‘ کی تلاش اکثر طلباء کے لیے ایک مشکل ترین امر ہوتا ہے۔ خصوصاً لداخ جیسے پسماندہ علاقہ کے طلباء کے لیے ۔  جو مکان ڈیرے کے لئے انہیں پسند آتے ہیں۔ان کا کرایہ زیادہ ہوتا ہے اور جس جگہ کرایہ معقول لگے وہاں کمروں کی حالت طالب علموں کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔  اس لیے عموماً ایسے طلباء اکثرشہر کے مضافات میں اپنا ڈیرہ جما لیتے ہیں۔  جگمیت اور اس کے دوست کو بھی بعض سینئر ساتھیوں کے تعاون سے اسی طرح کا ایک کمرہ مل گیا۔  اب کمرے کا کرایہ، ڈیرے کے سامان اور دیگر ضروریات کے علاوہ تعلیمی اخراجات اس کے قیاس سے بڑھ کے تھا۔ مگر انگچوک کی چاہت تھی کہ جگمیت پیسوں کی فکر نہ کرے۔ بس اپنی تعلیم پر توجہ دے۔  وہ جب بھی باپ سے پیسا مانگتا ،انگچوک گائوں کے نمبردار سے قرضہ لے کر بھیجتا ۔ باپ کے پاس تھا ہی کیا ۔ کچھ بھیڑبکریاں ،جن کے ذریعہ وہ چند سکے توجوڑ لیتا مگر بیٹے کی ضروریات فوری طور پر ان سے پوری نہیں ہوسکتی تھیں اور بیٹے کے تعلیمی اخراجات ،خوردونوش اور دیگر مصارف اس قلیل آمدنی سے ممکن نہیں تھے۔ لیکن بیٹے کی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے وہ نمبردار سے اس وعدے پہ قرض لیتا تھا کہ وہ موسم سرما کے ختم ہوتے ہی بکریوں کے بالوں سے حاصل شدہ پشمینہ نمبردار کو تھوک میں بیچ دے گا حالانکہ اس میں اس کا سراسر خسارہ ہی تھا مگر وقت پر پیسے پانے کی خاطر وہ یہ بھاری نقصان اٹھانے کو تیار تھا ۔ 
جگمیت نے جموں آکرایک سرکاری اسکول میں گیارہویں جماعت میں داخلہ لیا۔اختیاری مضمون میں ’’ سائنس ‘‘ کا انتخاب کیا اور ساتھ ہی اپنی حیثیت سے بڑھ کے کوچنگ کلاس کے لیے ایک اکیڈمی بھی جوائن کر لی ۔  شروع شروع  میں تمام کلاس میں وہ خود کو سب سے کمزرو اور غبی الذہن تصور کرتا تھا۔لیکن اپنی محنت ،اساتذہ کی توجہ ،دوستوں کی رہنمائی نے بہت جلد اسے اس ماحول میں ڈھال دیا ۔  دن رات ایک کر کے اپنی توانائی اور قوت ِ متحملہ سے بھی بڑھ کر وہ محنت کرنے لگا ۔ کھبی کھبی وہ اپنی زندگی کے بے یقین مستقبل کو لے کر پُر تشویش ہوجاتا ۔ مگر دور اندھیروں میں اسے امید کی ایک موہوم سی کرن نظر آتی ۔ صبر و تحمل اور استقامت کے دامن کو ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتا ۔ یہ سلسلہ جاری رہا ۔ پڑھائی میں کبھی لاپرواہی نہیں برتی۔  اس طرح دو سال کیسے گذرے پتہ ہی نہیں چلا ۔ تعلیم کے میدان میں محنت اور اپنے معیار کو بلند رکھنے کی کوشش میںوہ خود کو فراموش کر بیٹھا تھا۔  اب جبکہ وہ سارے امتحانات سے فارغ ہو چکا تھا اور ذرا سی سانس لینے کی فرصت ملی تو وہ باپ کی مجبوری ،بے بسی اور اس کی تعلیم اور مستقبل کے تئیں ان کی فکر مندی کے بارے میں سوچ کر کافی پریشان تھا ۔ جوں جوں نتائج کے دن نزدیک آرہے تھے اس کی پریشانی اور تشویش میں اضافہ ہورہا تھا ۔آج بھی باپ کی بے کسی اور ایثار کا سوچ کر مغموم اور دلگرفتہ بیٹھا تھا۔ اسے ٹاشی کی موجودگی کا بھی احساس نہ رہا ۔ آنسوں بھی ضبط کا باندھ ٹوٹ کر بے قراری سے پھسلتے جا رہے تھے ۔اپنے باپ کی پریشانی اور سختیوں کو یاد کرتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسوشبنم کے قطروں کی طرح گر رہے تھے ۔۔۔جبھی فون کی گھنٹی بجی۔ مگر اس کا دھیان فون کی طرف نہ گیا ۔ کافی دیر تک جب فون کی گھنٹی بجتی رہی توٹاشی نے فون اٹھایا اور جگمیت کو دیا۔ جگمیت کی زبان لڑکھڑا رہی تھی اور اس کے لہجہ سے مایوسی ظاہر تھی ۔ 
Hhhhh…Hhh..Hello…..Hello….Hello….ooo!
Hello! ہرش بول رہا ہوں !!تم نے ریزلٹ دیکھا ؟
نہیں Bro کوئی امیدہی نہیں ہے !!جگمیت نے جواب دیا ۔
ارے Bro اُداس کیوں ہو ؟۔تجھے پتہ ہے تمہارا سلیکشن ہوا ہے ۔Congratulation Bro!!! ہرش نے کہا ۔
ک۔۔۔!ک۔۔۔!ک۔۔۔!کیا۔۔۔۔کیا تم سچ کہہ رہے ہو ؟ جگمیت کنفرم کر رہا تھا ۔
ہاں Broتمہارا سلیکشن ہوا ہے !!!میں نے ابھی چیک کیا ۔ تم بھی کرلو ۔‘‘
اپنے دوست کی کامیابی پر ہرش کی خوشی دیدنی تھی ۔
یہ سنتے ہی جگمیت اورٹاشی نے بھی اپنے فون میں بیم و رجا کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ ریزلٹ چیک کیا۔ جگمیت کا NEET میں اچھے Rank سے سلیکشن ہوا تھا۔ دونوں اس کامیابی پر خوش تھے اور خوشی کے آنسوئو ںکے ریلے جگمیت اورٹاشی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ بہے جارہے تھے ۔ 
والدین کو اطلاع دینے کے لیے نمبردار کے گھر فون ملایا۔ مگر!  اس کے والدین! وہ جفاکش چرواہے نہ جانے کن وادیوں، درّوںاور پہاڑوں میں اپنے سفرِ کسب و معاش پر گامزن ہونگے ۔ اس خبر سے نرے بے خبر کہ ان کا بیٹا نوید ِ صبح کاپیغام لے کر اس تاریک شبستاں وادی میں امیدوں کا سورج بن کر آرہا ہے ۔
خاموش اور سرد رات کے اندھیرے میں چراہ گاہ کے کھلے آسمان تلے ٹم ٹم جگمگاتے تاروں کی چھاؤں میں مصور ِ مطلق کی حسین اور بے نظیر تخلیق میں کھویا ہوا ’’انگچوک‘‘ شہاب ِ ثاقب کو دیکھ کر من ہی من میں بیٹے کی کامیابی کی دعا مانگ رہا تھا ۔ رات کی تاریکی میں ٹمٹماتے، نیلگوں آسمان میں، روشن تاروں میں اپنے بیٹے کے تابندہ مستقبل کو کھوج رہا تھا ۔ ایک درخشاں مستقبل جو ان سب کی زندگی کی تاریکیوں میں اجالا بھر دے ۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔  ا نگچوک کھلی آنکھوں سے ایک خواب دیکھ رہا تھا ۔ جس کی تعبیر کے لیے وہ اپنا سب کچھ لٹانے کے لیے تیار تھا ۔ 
آسمان سے تارے ایک ایک کر کے غائب ہوچکے تھے ۔ دور افق پر مشرق میں ابھی نجم السحر، سپیدئہ سحر کی پھیلتی روشنی میں اپنی تابناکی قائم رکھنے کی ایک ناکام سی کوشش میں دھندلا تاجا رہا تھا ۔ سورج کی پہلی روپہلی کرنوں کے ساتھ وہ ایک اور نئے دن کی نوید دے کر غائب ہورہا تھا ۔ مغربی افق پر فلک بوس پہاڑوں کی برفیلی چوٹیاں آفتاب کی پہلی شعاعوں سے سرخی مائل سنہری قبا زیب تن کیے ہوئے نمودار ہونے لگیں۔دیکھتے ہی دیکھتے ندی کا پانی بھی یکلخت اسی رنگ میں رنگنے لگا۔ چہچہاتے پرندے اپنے آشیانوں سے نکل کر آب و دانہ کی تلاش میں وادی کے بسیط آسمان میں پرواز بھرنے لگے ۔  ان کی چہچہاہٹ سے خاموش وادی کا سکوت ٹوٹ گیا تھا اوررونق ِحیات بیدار ہوکر انگڑائی لے رہی تھی۔ قریب کے ٹیلے کے گونپا سے آتی ہوئی ناقوس اور زمزمہ خوانوں کی آواز فضا میں ایک روحانی کیفیت پیدا کر رہی تھی ۔عارضی خیموں کی چمنیوں سے منتشر دھواں فضا میں معلق تھا۔بھیڑ بکری ایک نئے دن کے جتن کے لیے مستعد باڑے کی چوکھٹ پر جمع ہو ہو کر ایک دوسرے پر سبقت لینے کے لیے بیقرار لگ رہے تھے ۔
انگچوک کی بیوی ایک ہاتھ میں گرم پانی کا لوٹا اور دوسرے میں چائے کی پیالی لے کے آئی ۔
’’کیا ہوا رات کو نیند نہیں آئی ؟ کہیں پھر سے کوئی تیندوا یا بھیڑیا تو نہیں آیا ؟اس سرد رات میںکھلے   آسمان تلے پہرا دیتے رہنا کتنا مشکل ہوتا ہوگا ‘‘؟  
 یہ کہہ کر حسرت سے اپنے شوہر کو چائے کی پیالی تھما دی ۔
’’نہیں !!!میں جگمیت کے بارے میں سوچ رہا تھا‘‘۔ انگچوک نے چائے کی پیالی پکڑتے ہوئے کہا ۔  ’’ بہت یاد آتی ہے اس کی ۔کہیںپیسے کی کمی تو نہیں ہوگی اسے ؟ ‘‘  انگچوک نے  ایک سرد آہ بھر کر کہا۔
’’ہاں!!! آج میرے بھی خواب میں آیا تھا وہ! پریشان لگ رہا تھا ۔مجھ سے بات بھی نہیں کر رہا تھا‘‘۔انگچوک کی بیوی نے کہا
’’کونجوق ( خدا ) کرے وہ ٹھیک ہو ‘‘۔
’’انگچوک کہاں ہو ؟ ۔۔۔۔!!!کہاں چھپے بیٹھے ہو ؟۔۔۔۔!!! ‘‘ دور سے کسی پکارنے والے کی آواز آرہی تھی ۔مگر وہ دونوں جگمیت کی باتوں میں ایسے کھوئے ہوئے تھے کہ انہیں نمبردار کی آواز تک سنائی نہیں دی ۔جو انہیں پکارتا پکارتا اُن کے سامنے نمودار ہوگیا۔ انگچوک اور اس کی بیوی  ہاتھ جوڑے ہوئے ’’ جولے ‘‘ کہتے ہوئے مودباً کھڑے ہوگئے ۔ 
انگچوک کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں۔ اس کے لہجے سے شرمندگی جھلک رہی تھی۔وہ سوچ رہا تھا کہ کہیںصبح صبح پیسوں کے تقاضے کے لیے تو نہ آیا ہو ۔
’’جولے  !  نمبردار صاحب ! ‘‘ہچکچاتے ہوئے انگچوک نے خیر مقدم کیا ۔
علیک سلیک کے بعد نمبردار نے وہ نوید سنا دی جس کے لیے وہ اتنی صبح ان کے پاس آیا تھا ۔
’’جولے  انگچوک !  بہت بہت مبارک ہو ۔تمہارا بیٹا ڈاکٹر بن گیا ہے ۔ ‘‘
انگچوک سمجھ نہیں پارہا تھا کہ کیسے اس کا بیٹا راتوں رات ڈاکٹر بن گیا ہے ۔ اس کے بار بار پوچھنے پر نمبردار نے اسے بتایاکہ جگمیت کا سلیکشن ڈاکٹری تعلیم کے لیے ہوگیا ہے ۔ا ور چند سالوں کی ٹریننگ کے بعد وہ ڈاکٹر بن کر آئے گا ۔ 
انگچوک اور اس کی بیوی ایک غیر یقینی حالت میںپُر نم آنکھوں سے ایک دوسرے کو تک رہے تھے ۔ انہیں اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا اور بار بار استفسار کر رہے تھے کہ آیاجو کچھ کہا وہ سچ ہے۔!!!!!!!!!
’’ہاں بھائی کل رات کو ہی جگمیت کا فون آیا تھا ۔رات بہت ہوچکی تھی اس لیے تمہارے پا س نہ آسکا ۔ یہ خوش خبری دینے کے لیے صبح ِ کاذب سے ہی اپنے گھر سے روانہ ہوا ہوں‘‘ ۔ ان کی غیر یقینی کیفیت کو بھانپتے ہوئے نمبردار نے خوش دلی اور پر جوش انداز میں کہا  ’’ ارے بھائی ! اب یوں ہی بت بن کر کھڑے رہو گے کیا ؟  جائیے ! جا کر سب کو پیغا م دیجئے ۔چھنگ ونگ پیلائیے ‘‘۔
کچھ ہی پل میں چرواہوں کے قافلے میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔ سب اظہار ِ شادمانی کے لیے کھاتھق(روایتی رومال جوتعزیماًکسی کی کامیابی و شادمانی کے موقع پر اوڑھایا جاتا ہے ) لئے آنے لگے ۔ اس خوشی میں قبیلے کے تمام لوگ شریک تھے ۔ یقیناً یہ ایک اجتماعی خوشی کی بات تھی ۔ سہ پہر تک آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگ جوق در جوق ہاتھوں میں کھاتھق لئے مبارک بادی کے پیغام کے ساتھ آنے لگے  ۔اجتماعی پوجا ( چھوس ) کا اہتمام ہوا ۔ مکھن ، ستّو اور چائے کی ضیافت کے ساتھ چھانگ ( جو سے کشیدہ مقامی شراب ) کا بھی دور چلا اور رقص و سرود کی محفل رات دیر تک جمی رہی۔ 
کیوں نہ ہوتا ایسا! آخر اس پسماندہ اور دورافتادہ علاقہ کے خانہ بدوش چرواہوں کے ایک بیٹے نے اپنے علاقہ کا نام روشن کیا تھا اور اُن کی مشکلات سے بھری زندگی سے سختیوں کو کم کرنے والا ایک نجات دہندہ ان کو مل گیا تھا۔  ایسے علاقوں میں ابتدائی طبی سہولیات میّسر نہیں ہوتیں اور بنیادی علاج کے لیے دور دراز قصبے کے ہسپتال کا دشوار گزر سفر کرنا پڑتا ہے ، جو جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا۔  ایسے میں اپنے ہی علاقہ کے کسی بیٹے کا معالج یا ڈاکٹر بن جانے پر ان سب کا خوش ہوجانا ایک فطری عمل تھا ۔  
بنیادی طبی سہولیات سے محروم ان قبائیلیوں کو اپنا ڈاکٹر مل گیا تھا۔ ’’ چانگ تھانگ‘‘کے ریگزاروں میں اُمید کے پھول کھلنے لگے تھے ۔
���
ریسرچ اسکالر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی۔ حیدرآباد
موبائل نمبر؛9490029362