پرویز احمد
سرینگر //وادی میں نوعمر لڑکیوں میں نفسیاتی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کی وجہ سے خودکشی کرنے کا رحجان بھی بڑھ رہا ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 30فیصد نوعمر لڑکیاں ذہنی دبائو ، بے چینی اور تنائو کے عارضہ کی شکار ہوکر خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے کے بارے میں بھی سوچتی ہیں۔ان میں بیشتر کی عمر 12سے 18سال کے درمیان ہے جبکہ انتہائی ا قدام اٹھانے کی بڑی وجوہات میں 30فیصدمیں تدریسی دبائو،24فیصد میں گھریلو تنائو ،27فیصد میں رشتوں میں ناکامی، 11فیصد میں سوشل میڈیا ، 5فیصد میں اقتصادی پریشانی اور 2.5فیصد میں خودکشی کرنے کے وجوہات کی وجہ معلوم نہیں ہے۔اس کے علاوہ نوعمر لڑکیوں میں خودکشی کرنے کیلئے اکسانے والی طبی وجوہات میں ذہنی دبائو ،بے چینی اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔ انٹرنیشنل جنرل آف میڈیسنل اینڈ فارمسوٹیکل ریسرچ سینٹرکی جانب سے وادی میں خودکشی کرنے والی 200سے زائد نوعمر لڑکیوں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوعمر لڑکیوں میں 44فیصدذہنی دبائو ،19.5فیصد میں بے چینی،16فیصد میں روزگار سے متعلق تنائو،13فیصد میں پس صدمہ تنائوکا عارضہ اور7.5فیصد مختلف ذہنی بیماریوں کی وجہ سے خودکشی کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خودکُشی کی کوشش کرنے والوں میں 10سے12سال کی عمر کے 9فیصد، 13سے 14سال کے 22.5فیصد،15سے 16سال کی39فیصد جبکہ 17سے 18سال کی 29.5فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔خودکشی کیلئے استعمال ہونے والی کیمیات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ 52فیصد گھر میں موجود کیمیائی کھاد،30فیصد چوہے مار ادویات،11فیصد نشیلی ادویات جبکہ 5فیصد میں گھروں میں موجود دیگر کیمیات کا استعمال کرتی ہیں۔ خودکشی کی کوشش کرنے کے بعد 44.5فیصد کو ہسپتال پہنچانے میں 3گھنٹے،25فیصد میں 3سے 6گھنٹے اور 12فیصد میں 6گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگتا ہے۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر حنا حاجنی کا کہنا ہے کہ ٹیلی مانس کی مدد سے کئی نوعمر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی وقت پر کونسلنگ کرکے ان کو خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے سے روکا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت سوشل میڈیا سے متعلق دبائو اور کم عمر میں رشتوں میں ناکامی اور تعلیم میں خراب کارکردگی کی وجہ سے نو عمر نوجوان لڑکیاں اور لڑکے خودکشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر حنا نے بتایا کہ جہاں والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی مقابلے کے امتحان میں ناکامی سے زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ زیادہ محنت سے مزید کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر حاجنی نے بتایا کہ اسی طرح نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو سمجھنا ہوگا کہ رشتوں میں ناکامی سے زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتا ۔ ڈاکٹر حنانے بتایا کہ سوشل میڈیا پر زیادرہنے سے ذہنی دبائو بڑھتا ہے اور وہ دبائو بھی لڑکیوں میں خودکشی کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ذہنی دبائو کی صورت میں لوگوں کو ٹیلی مانس پر نفسیاتی ماہرین سے بات کرکے اپنے دلوں کو ہلکا کرسکتے ہیں۔