غور طلب
صوفی یوسف
زندگی نام ہی مسائل اور مقابلوں کا ہے۔انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان نے اپنی زندگی کبھی مسائل اور مقابلوں کے بغیر نہیں گزاری ہے۔اس لئے ان مسائل سے بھاگنا نہ کوئی عقلمندی ہے اور نہ ہی ایک پائیدار حل ۔بلکہ ان کا مقابلہ کرنا ہے اور ایک ایسی سبیل ڈھونڈنکالنی ہے جو نہ صرف خود آج کے نوجوان کو اپنے لئے بہتر زندگی جینے کا ذریعہ بن سکیں بلکہ اور وں کے لئے راحت کے اسباب پیدا کرسکیں۔موافقت ان تمام اسباب میں سب سے پہلی اور کلیدی اہمیت کی ضرورت ہے ۔آج ہم اسی لفظ یعنی موافقت جسے انگریزی میں acclimatizationکہتے ہیں ،تفصیلاً بیان کرنے اور زندگی میں اس کی ضرورت پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔موافقت کوئی فلسفہ نہیںبلکہ یہ روز کا عمل ہے جو بنیادی طور ہمیں ماحول اور اس میں دستیاب حالات کے عین مطابق خود کو ڈھالنے اور جینے کا ہنر سکھاتا ہے۔یہ اس بات کی توجہ دلاتا ہے کہ ’’میں کیا کرسکتا ہوں ‘‘ بجائے اس کے کہ ’’میرے پاس کیا ہے‘‘۔یہی وہ چیز ہے جو ہمیں ہنر مند بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ہماراسب سے بڑا مسئلہ DegreeWorship ہے۔ ایم اے، ایم ایس سی کر کے بھی نوجوان خالی ہاتھ بیٹھا ہے، کیونکہ مارکیٹ کو ڈگری نہیں، Skill چاہیے۔بس انسان اسی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے جیتے جی مردہ لاش بن جاتا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں از خود راہیں تلاش کرنے کی عادت نہیں ہے۔حالانکہ پانی کو آگے بڑھنے میں جب کوئی چیز رکاوٹ بن جاتی ہے تو اس کے ساتھ جتن نہیں کرتا بلکہ دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے تاکہ زندگی کا سفر جاری رہ سکے۔انسان اس سے بھی بہتر کرنے کی پوزیشن میں ہے بشرطیکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال میں لائے لیکن اس کیلئے عملی موافقت ضروری ہے۔
عملی موافقت کیا ہے؟
اگرآپ انجینئر ہو اور نوکری نہیں مل رہی ہے تو فوری طور 3 مہینے میں AutoCAD، Python، یا Solar Installation سیکھ لو۔یہ مختصر دورانیے کے کورسز آپ کیلئے روزگار کے اچھے ذرائع پید ا کرسکتے ہیں، ٹھیک اسی طرح اگرآپ ایم اے اردو ہو تو Content Writing، یوٹیوب اسکرپٹ، یا ڈیجیٹل مارکیٹنگ پکڑ لو۔اس میدان میں آپ کا ہنر آپ کو ماہانہ اطمینان بخش آمدنی دے سکتا ہے۔ہاتھ ہنر سیکھو اور یقین مانویہ ’’گرنا”‘‘نہیں ہے۔ یہ Market Demand کے ساتھ خود کو سیدھا کرنا ہے۔ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ دنیا بدل گئی ہے اور اس طرح زندگی گزارنے کے رنگ ڈھنگ بھی بدل گئے ہیں ۔حصول روزگار کے طریقے بھی بدل گئے ہیں ۔ اس ضد کو ترک کرنا ہے کہ ہمیں افسر ہی بننا ہے ۔یہی در اصل ہار ہے۔جنگ و جدل اور بد امنی نے واقعی انسان کیلئے مسائل پیدا کئے ۔دنیا گلوبل ولیج کے باوجود اپنے علاقوں میں انسان کیلئے دیار غیر بن گئی ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں حوصلہ رکھنا ہے ۔ سرینگر میں کام نہیں تو دلی، بنگلور، دبئی، سعودیہ جاؤبلکہ مغرب میں بھی ہم روزگار کما سکتے ہیں۔ہجرت انبیاء کی سنت ہے۔ حضرت یوسفؑ نے بھی مصر ہجرت کی تھی۔ ہجرت کمزوری نہیں، حکمت ہے۔لوگوں کی منفی باتیں حوصلہ شکنی کا باعث نہیں بننی چاہئیں۔ہمارا نوجوان بھوکا مر جائے گا مگر ’’چھوٹا کام ‘‘نہیں کرے گا۔ بی اے پاس لڑکا رکشہ نہیں چلائے گا کیونکہ ’’عزت چلی جائے گی۔‘‘یہ سوچ ترک کرنے کی ضرورت ہے۔دنیا میں بھوک سے بڑی کوئی بے عزتی نہیںہے۔ ٹیوشن پڑھاؤ، سبزی بیچو، فری لانسنگ کرو۔ آج کا رکشہ والا کل کا فلیٹ اونر بن سکتا ہے۔ لیکن جو خالی بیٹھا ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘سوچتا رہے، وہ کل بھی خالی رہے گا۔ابتدائی طور آپ قلیل آمدنی حاصل کریں گے۔اس سے شرمانے کی ضرورت نہیں ۔اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔انگریزی میں کہتے ہیںEgo before incomeترک کرو اور آگے بڑھو۔ یہ موافقت کا پہلا اصول ہے۔
سب سے خطرناک چیز منفی سوچ ہے، جسےVictim Mentality بھی کہا جاتا ہے۔اس سوچ سے نکلنا ہے کہ ’’حکومت کچھ نہیں کرتی، سسٹم خراب ہے، سفارش نہیں، قسمت خراب ہے‘‘وغیرہ۔ سسٹم کو گالی دینے سے بل نہیں بھرے گا۔ سسٹم کے اندر یا باہر راستہ نکالو۔ 10 ہزار کی نوکری نہیں مل رہی؟ 3 جگہ 3 ہزار کے ٹیوشن پڑھاؤ = 9ہزار + عزت ملے گی۔ حکومت نوکری نہیں دے رہی؟ employment Self۔کا زمانہ ہے۔ ایک یوٹیوب چینل، ایک چھوٹی دکان، ایک اسکل۔ یہ تمہاری ’’سرکار‘‘ہے۔نوجوان چاہتا ہے کہ 6 مہینے میں BMW آ جائے۔ جب نہیں آتی تو مایوس ہو جاتا ہے۔یہ شارٹ کٹ ہے اورشارٹ کٹ ہمیشہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ہمیںCompound growth ki vrf dhian dina owga۔ مانو کہ پہلے 2سے3 سال ’’بنانے‘‘کے ہیں، ’’کمانے‘‘کے نہیں۔ آج 10 ہزار سے شروع کرو، اسکل بڑھاؤ، کلائنٹ بناؤ۔ 2 سال بعد وہی 1 لاکھ ہوگا۔ حضرت یوسفؑ نے بھی 7 سال قحط کی تیاری کی۔ کامیابی Overnight نہیں، Overtime ہوتی ہے۔یاد رہے، موافقت کا مطلب ہر قیمت پر سمجھوتہ نہیں ہے۔ رشوت دے کر نوکری لینا موافقت نہیں، جرم ہے۔ حرام کمائی موافقت نہیں، تباہی ہے۔ ظلم پر خاموشی موافقت نہیں، بزدلی ہے۔موافقت کا مطلب طریقہ بدلوہے مقصد نہیں۔ اصول بیچو نہیں، راستہ بدلو۔نوجوان کے لیے موافقت کا عملی مطلب ہے،’’جو ہے، جہاں ہو، جیسے بھی ہو،وہیں سے شروع کر دو۔ رُکنا موت ہے، چلنا زندگی ہے۔‘‘تمہارے ہاتھ میں BMW نہیں، لیکن موبائل ہے۔ اسی سے سیکھو، اسی سے کماؤ۔ آج کا Thar والا کل تمہیں دیکھ کر جلے گا —۔اگر تم آج ’’موافقت ‘‘کر لو۔یہ چند گزارشات ہیں جو ہماری نوجوان نسل کیلئے ہیں ۔اگر اپنائی جائیں تو ممکن ہے کہ ہم ایک کامیاب اور روشن مستقبل کے مالک ہوں گے۔
رابطہ ۔6006821363