نواسہ رسولؐ امامِ حسین ؓ۔ بچپن میں ہی شہادت کی شہرت

 نواسہ رسول حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی شہادت کی بھی شہرت عام ہوگئی تھی حضرت علی، حضرت فاطمہ زہرا اور دیگر صحابہ کرام و اہلبیت کے جانثار رضی اللہ تعالیٰ عنہم سبھی لوگ آپ کے زمانہ شیر خوارگی ہی میں جان گئے کہ یہ فرزند ارجمند ظلم و ستم کے ہاتھوں شہید ہوں گے اور نہایت بیدردی کے ساتھ اُن کا خون سرزمین کربلا میں بہایا جائے گا۔ 
حضرت ام الفضل زوجہ حضرت عباس ؓفرماتی ہیں کہ میں نے ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہو کر امام حسین ؓ کو آپؐ کی گود میں دیا ،پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضورؐ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہؐ! یہ کیا حال ہے اور کیوں ہے؟ فرمایا: میرے پاس جبریل ؑ آئے اور یہ خبر پہنچائی کہ میری اُمت میرے فرزند کو شہید کرے گی۔ حضرت ام الفضل فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہؐ! کیا اِس فرزند کو شہید کردیگی؟ حضور نے فرمایا :ہاں۔ پھر جبریلؑ میرے پاس اس کی شہادت گاہ کی سرخ مٹی بھی لائے۔ ابن سعد و طبرانی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا کہ جبریلؑ نے مجھے خبر دی کہ میرا بیٹا حسین میرے بعد ارض ِطفؔ میں قتل کیا جائیگا اور جبریلؑ میرے پاس وہاں کی یہ مٹی لائے اور مجھ سے کہا کہ یہ حسین کی خوابگاہ (مقتل)کی مٹی ہے ۔’’طف‘‘ کوفہ کے قریب اُس مقام کا نام ہے جس کو کربلا کہتے ہیں۔ 
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ بارش کے فرشتہ نے نبی کریم ؐ کی خدمت میں حاضری دینے کے لئے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی۔ اجازت ملنے پر وہ فرشتہ جب بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا تو اس وقت حضرت امام حسین ؓ آئے اور نبیؐ کی گود میں بیٹھ گئے تو آپ ؐامام حسینؓ کو چومنے اور پیار کرنے لگے۔ فرشتہ نے عرض کیا یارسول اللہؐ!کیا آپ حُسین سے پیار کرتے ہیں؟ حضور نے فرمایا: ہاں۔ فرشتے نے کہا کہ آپ کی اُمت حُسین کو قتل کردیگی ،اگر آپ چاہیں تو میں ان کے قتل گاہ کی مٹی آپؐ کو دِکھا دوں، پھر وہ فرشتہ سرخ مٹی لایا جسے ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓنے اپنے کپڑے میں لے لیا۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی پاکؐ نے فرمایا کہ اے ام سلمہ! جب یہ مٹی خون بن جائے تو سمجھ لینا کہ میرا بیٹا حُسین شہید کردیا گیا ۔حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس مٹی کو شیشی میں بند کرلیا جو حضرت امام حسین ؓکی شہادت کے دن خون ہوگئی ۔ ابن سعد حضرت شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی ؓ جنگ ِصفین کے موقع پر کربلا سے گذر رہے تھے کہ ٹھہر گئے اور اس زمین کا نام دریافت کیا۔ لوگوں نے کہا کہ اس زمین کا نام کربلا ہے، کربلا کا نام سنتے ہی آپؓ زاروقطار رونے لگے، پھر فرماتے ہیں کہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک روز حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپؐ رورہے ہیں، میں نے عرض کیا یارسول اللہؐ! آپ کیوں رورہے ہیں؟ فرمایا: ابھی میرے پاس جبریل آئے تھے اور انہوں نے خبر دی ہے کہ میرا بیٹا حسین ؓدریائے فرات کے کنارے اِس جگہ پر شہید کیا جائیگا جس جگہ کو کربلا کہا جاتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ قافلہ گذر رہا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ شہیدوں کے اونٹ بیٹھانے کی جگہ ہے اور اس مقام پر ان کے کجاوے رکھے جائیں گے اور یہاں ان کے خون بہائے جائیں گے ۔آل محمد ؐ کے بہت سے جوان اس میدان میں شہید کئے جائیں گے اور زمین و آسمان روئیں گے ۔ان تمام روایات سے یہ واضح طور معلوم ہوا کہ رسول اللہ ؐ کو حضرت امام حسین ؓ کے شہید ہونے کی بار بار اطلاع دی گئی اور نبیؐ نے بھی اس کا بار بار ذکر فرمایا اور یہ شہادت عہد ِطفلی میں ہی خوب مشہور ہو چکی تھی اور سب کو معلوم ہو گیا تھا کہ آپ ؓکے شہید ہونے کی جگہ کربلا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نبیؐ کو معلوم تھا کہ میرا نواسہ شہید کردیا جائے گا تو اللہ سے دعا کیوں نہیں کی کہ اے اللہ! میرے نواسے کو بچالے۔ حضرت علی و حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھی بیٹے کی شہادت کی خبر پہلے سے ہی معلوم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں رد نہیں ہونگی، پھر ان لوگوں نے نبیؐ سے دعا کرنے کے لئے کیوں نہیں کہا ؟ جواب یہی ہے کہ دین کو بچانے کے لئے صبر و استقامت کی ضرورت ہوتی ہے اور دین کو پھیلانے کے لئے کرامت کی ضرورت ہوتی ہے اور نانا کے دین کو بچانے کے لئے نواسے نے اپنا گھرانہ قربان کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم تھا کہ آگے چل کر میرے دین کو جھٹلانے کی کوشش کی جائے گی ، قرآن مجید کی بے حرمتی کی جائے گی، دین اسلام کے اصول وضابطوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی، اُس وقت میرے نواسے سے کہا جائے گا کہ تم بھی بیعت کرو اور اگر میرا نواسہ بیعت کرلے گا تو دین ِاسلام کی شبیہ بگڑ جائے گی پھر آنے والی نسلیں کہیں گی کہ جب نبی کی شریعت کو بدلا جارہا تھا تو خود نبیؐ کے نواسےؓ نے مخالفت نہیں کی۔ گویا ظالموں کے لئے وہ سند بن جائے گی اور پھر دین ِاسلام کی تصویر بگڑتی چلی جائے گی، اس لئے نبیؐ نے آنکھوں سے آنسو بہایا لیکن دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھایا اور آج ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ ظلم و بر بریت، جاہلیت و دہشتگردی کے خلاف سب سے پہلے اور سب سے بڑی جنگ نانا محمد الرسول اللہ اور نواسہ امام حسینؓ نے لڑی ہے ۔(مشکوٰۃ/ خصائص کبریٰ/ صواعق محرقہ)
رابطہ:8299579972