نمازوں پر پابندی اور مظالم میں توسیع

 چرار شریف//لبریشن فرنٹ سربراہ محمد یاسین ملک نے چرار شریف میں منعقدہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہکشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں افواج اور پولیس انسانوں کا بے دریغ قتل کرنے میں منہمک ہیں اور انسانی برادری اس پرخاموش تماشائی بن کر مشاہدے میں مصروف ہے۔ظالموں اور جابروں کو معلوم ہونا چاہئے کہ مکافات عمل کے قانون کے تحت انہیں انسانیت کے ان خلاف جرائم کا ایک نہ ایک دن حساب دینا پڑے گا۔ امن ،تعمیرو ترقی،تجارت اور استحکام کا راز مسائل کے حل میں مضمر ہے کیونکہ امن خلا میں قائم نہیں کیا جاسکتا ۔اقوام متحدہ ایک ذمہ دار فورم کی حیثیت سے گہری نیند سے بیدار ہو اور امن عالم کو لاحق خطرناک مسائل جن میں مسئلہ جموں کشمیر اور مسئلہ فلسطین سرفہرست ہیں کو حل کرنے کی جانب توجہ مبذول کرے۔ یاسینملک  نے شب قدر کی عبادت چرار شریف میں ادا کی جبکہ دوپہر نماز جمعہ کے بعد انہوں نے چرار شریف کے احاطے میں ایک عظیم الشان عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں یاسین ملک نے کہا کہ جمعۃ الود اع کے موقع پر سبھی مسلمان جامع مساجد اور دوسری عبادت گاہوں میں جاکر عبادت کرتے ہیں اور یہ ایک مذہبی فریضہ بھی ہے لیکن اس پر بھی آر ایس ایس فسطائیت کی سرپرستی میں قائم پی ڈی پی سرکار نے اپنے آقائوں کو خوش کرنے کیلئے پابندی عائد کردی ہے اور آج جامع مسجد سمیت سیکڑوں مساجد میں نماز جمعۃ الوداع کی نماز بھی ادا نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ نماز پر یہ پابندی پی ڈی پی قیادت والی سرکار کی مسلم و کشمیر دشمنی کا ایک اور بڑا ثبوت ہے ۔کشمیر کی تحریک مزاحمت کے دوران قید کئے گئے اَسیران کی فوری رہائی کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ یہ اسیر ہمارے ہیرو ہیں جو اپنی جوانیاں اس قوم کے مستقبل کی تعمیر کیلئے دائو پر لگاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسکے کشمیری حواری آئے روز جمہوریت اور خیالات کی جنگ کے دعوے کرتے رہتے ہیں لیکن حق یہ ہے کہ اپنے مخالفین کی آواز کو بزور طاقت دبانے کیلئے جیلوں اور زندانوں کے دروازے وَا کردئے گئے ہیں۔یاسین ملک نے کہا کہ اگر بھارت اور اسکے حامی اپنے دعوئوں میں رتی بھر بھی یقین رکھتے ہیں تو انہیں بلا تاخیر کشمیری اسیروں کو جیلوں سے رہا کردینا چاہیے۔