نعیم الاظفرکی دلی طلبی مذموم :گیلانی

سرینگر//حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نےNIAکی طرف سے انکے فرزند ڈاکٹر نعیم الظفر گیلانی کو سمن جاری کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اخلاقی دیوالیہ پن کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کا کوئی ذی شعور انسان تصور بھی نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی تحقیقاتی اداروں کو کچھ پوچھنا ہے تو وہ یہاں قائم اپنے دفاتر میں بھی پوچھ تاچھ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ بھارت کی ایجنسیوں نے بارہا کھلے اور بند کمروں میں ہمارا موقف سُنا ہے۔ گیلانی نے کہاکہ ہم آج 7دہائیوں کے بعد بھی اُسی حقیقت پسندانہ اور مبنی برصداقت موقف پر قائم ہیں۔ حریت راہنما نے کہا کہ مجھے پچھلے 9سال سے اپنے گھر کی چار دیواری میں مقید کرکے رکھا گیا ہے۔ سیاسی سرگرمی تو دور کی بات ہے کسی سماجی سرگرمی یا اپنے عزیز واقارب کے خوشی یا غمی کے موقعوں پر شرکت کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ اب تحقیقاتی ایجنسیوں نے بڑی ڈھٹائی اور غیر اخلاقی طور میرے اہل خانہ خاص کر میرے فرزندوں کو ہراساں کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ اس سے پہلے میرے چھوٹے فرزند سید نسیم گیلانی کو دہلی بلا کر پوچھ تاچھ کی اور اب بڑے بیٹے ڈاکٹر نعیم کو دہلی طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نعیم پچھلے 9سال سے عارضۂ قلب میں مبتلا ہیں اور لگاتار دوائیاں اور داکٹروں کی نگرانی میں رہتے ہیں۔ اُن کیلئے یہ ذہنی عذاب بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ہم نے اس سے پہلے بھی کہا ہے اور آج بھی اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اگر بھارت کی کسی بھی ایجنسی یا ادارے کو کوئی بھی پوچھ تاچھ کرنی ہے تو وہ ہم سے بلا روک ٹوک کرسکتے ہیں ہم اُن کے ہر سوال کا تسلی بخش جواب دینے کی پوری کوشش کریں گے ، لیکن مجھے ستانے اور تنگ کرنے کیلئے میری اولاد اور باقی رشتہ داروں کو فرضی کیسوں اور من گھڑت الزامات میں پھنسا کر ان کی زندگی اجیرن بنانے کا کوئی اخلاقی، انسانی اور قانونی جواز نہیں ہے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ میری پوری سیاسی زندگی ریاست ہی نہیں، بلکہ خود بھارتی حکمرانوں اور سیاستدانوں کے سامنے ہے۔ بھارتی جیل ہی نہیں، بلکہ اُن کے انٹروگیشن سینٹروں کے درودیوار اس بات کے گواہ ہیں کہ ہم نے ہر حال میں حق وصداقت کے ساتھ اپنے مظلوم اور محکوم عوام کے جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کرنے کی مقدور بھر کوشش کی ہے اور ہر قانونی، جمہوری اور پُرامن طریقہ اپنا کر ہم آخری دم تک اپنے نصب العین کی خدمت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے حکام پر ایک بار پھر واضح کیا کہ جس کسی کیس کے بارے میں انہیں کوئی بھی معلومات حاصل کرنی ہوں وہ اپنا شوق پورا کرسکتے ہیں، میرا یقین ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا، لیکن اپنے جمہوری مکھوٹے کی خاطر ہی سہی میرے عزیز واقارب کو ہراساں کرنے کی فریب کارانہ کوششیں بند کریں۔