نظامِ تعلیم نادُرست کیوں ؟

    یہ ایک قابل صد تاسف امر ہے کہ ہمارے اساتذہ صاحبان کوبار بار اپنی تنخواہوں کی واگزاری کے لئے سڑکوں پر آنا پڑتاہے ۔ یہ معاملہ اس حقیقت پر دلالت کر تا ہے کہ ہمارا نظام تعلیم بیمار ذہن ہے ۔ اس بارے میں عمومی رائے یہی پائی جاتی ہے کہ یہ فرسودہ ہے ، لایعنی ہے ، صرف تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی فوج بڑھا تاجارہاہے ، جب کہ یہ صرف قلم اور کتاب ہیں جن کے بل پر ہم نے تاریک فضاؤں ا ورمایوس کن حالات میں بھی اپنی لیاقت و قابلیت کا ڈنکا بجایا ، اپنی خداداد ذہانت کی قندیلیں روشن کیں ۔ بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے طلبہ وطالبات میں بہترین صلاحیتوں کا فقدان ہے یا وہ ستاروں سے آگے جانے کی قوت ِ پرواز سے محروم ہیں بلکہ اصل بیماریاں یہ ہیں کہ تعلیم وتعلم کا مردم ساز مشن اپنی مقصدیت کے ساتھ اپنی جہت بھی کھو چکا ہے اور مقصدیت بھی۔ اس لئے تعلیم کا مطلب صرف ڈگر یوں کے حصول تک محدود ہوچکا ہے۔ تعلیم کے اینٹ گارے سے اصلاً قوم کی اخلاقی تعمیر نو کا کام لیا جاتا ہے ، یہ نقطۂ نظر ہمارے تعلیمی نظام سے روز بروزاوجھل ہوتا جارہا ہے ۔ اس حوالے سے بھی معاملہ انتہائی ناگفتہ یہ ہے ماضی تاحال حکمران طبقہ اساتذہ کی تعظیم وتکریم کو ثانوی اہمیت بھی نہیں دیتا۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کبھی اساتذہ کی تنخواہیں مہینوں رُکی پڑی رہتی ہیں ، کبھی ان کی تعلیمی قابلیت اور ڈگریوں پر بلا استثنیٰ شک کی سوئیاں گھمائی جاتی ہیں، کبھی ان کے مسائل کو سلجھانے کے بجائے اُلجھا یا جاتاہے، کبھی ان سے وہ کام لئے جاتے ہیں جوان کے شایانِ شان ہوتے ہیں نہ ان کے پیشے سے کوئی مطابقت رکھتے ہیں۔ بارہا ایسا بھی دیکھا گیا کہ اساتذہ کے مقام ومرتبہ کو نظر انداز کر تے ہوئے اُن کے ساتھ ہتک آمیز سلوک اختیار کیا جاتا ہے جس پر حکام کو کوئی تاسف بھی نہیں ہوتا۔ یہ ٹیچنگ کمیونٹی کے تئیں معاشرے کی منفی طرز عمل پر دلالت کر تاہے۔ بہر صورت ارباب ِ اقتدارپر یہ اہم فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ نظامِ تعلیم کو لاحق ان مسائل ا ور بیماریوں کا موثر علاج کرنے میں مزید تاخیر نہ کریں،بصورت دیگر ہمارے یہاںتعلیم کانور ماند پڑ سکتا ہے اور معاشرہ جس ہمہ گیر بگاڑ اور زوال کی ڈگر پر پہنچا ہے،وہ مزید گھمبیرتا اختیار کر ے گا ۔ اگر ہم تعلیم کی وساطت سے ایک تہذیب یافتہ، احساس ِ ذمہ داری سے لیس اوراصلاح پسند معاشرے کی تعمیر و تشکیل چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمارے تدریسی سسٹم کانتیجہ خیز خطوط پر استوار ہونا شرط اول ہے ۔ ا سی اصلاح شدہ تعلیمی نظام کے زیر سایہ جواں نسل کی اُٹھان ایسے انداز میں ہو نے کی امید کی جاسکتی ہے کہ ہم دیش اور دنیا میں سر اُٹھا کر جینے کے قابل ہو سکیں گے ۔ تاریخ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ جوقوم علم و آگہی میں آگے ہو، وہ دیر سویر اپنے بحرانوں پر قابو پاتی ہے ،جب کہ ناخواندہ قوم ذہنی پسماندگی اور بیمارسوچ کی شکار ہوکرا پنے مقصد ِزیست کے راستے سے بھٹک جاتی ہے۔ ان معنوں میں کشمیری عوام کو داداور مرحبا ملنی چاہیے کہ لاکھ خرابیوں اور ہزارہا مشکلات کے باوجو یہ تعلیم کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ کر نے پر تیار نہیں بلکہ انہوں نے نامساعد وناگفتہ بہ حالات میں بھی تعلیم کے ٹمٹماتے چراغ کوگل نہ ہونے دیا۔ ا س کا ایک ثبوت سال ۲۰۱۶ء میں اُس وقت ملا جب جولائی تا نومبر نامساعد حالات کے گرداب میں اُلجھے رہنے اور تعلیم وتدریس کا سارا سلسلہ ٹھپ ہونے کے باوجود دسویںا ور بارہویں جماعت کے ا متحانات میں ننانوے فی صد طلبہ و طالبات کی شرکت کی  اور اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ ہمارے تعلیمی نصاب کے بارے میں روزِاول سے حقیقت شناس اور بیدار ذہن لوگوں کی ایک شکایت یہ ہے کہ اس میںسے اخلاقیات کا عنصر کھرچ کر ہمارے اپنے حکمرانوں اور قائدین نے قوم کا کوئی بھلا نہ کیا۔ وقت کی پکار ہے کہ جب بھی تعلیمی حکام نظام تعلیم کی اور ہالنگ کی جانب متوجہ ہو نے کی توفیق پائیں تو سب سے پہلے اس جانب اپنی فکریں مر کو زکریں، کیوں کہ جب نظام ِ تعلیم اخلاقیات کی مہک سے آراستہ ہو گا تو نئی پود اس سے بہرہ ور ہوکر مختلف شعبہ ہائے حیات میں اپنے فرائض کا میابی سے اداکر نے کے قابل ہو سکے گی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ تعلیم سے ذہنی ارتقاء کے پہلو بہ پہلو اگر تعلیم وتدریس سے کردارسازی کا کام لیا گیا ہو تا تو شاید آج ہماری جوان نسل منفی راہوں کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ لڑھکتی نظر نہ آ تی ۔ اب اس جان لیوا روگ کا تدارک تبھی آسان ہوگا جب تعلیمی نصاب میں درسیات اور اخلاقیات کا ایک حسین امتزاج پھر سے متعارف کرایا جائے۔ البتہ یہ بات ہمیں زیر نظر رہے کہ نظام ِ تعلیم کو عملاًچلانے میں اساتذہ کا رول شہ رگ کی حیثیت رکھتاہے۔ اگر ٹیچر فرض شناس ہوں ،ا پنے پیشے کے تقدس سے آگاہ ہوں، نئی نسل کی تعلیم وتربیت میں اپنی ذمہ داریوں سے انصاف کرنے والے ہوں تو فبہا ،ور نہ کوئی تعلیمی اسکیم کتنی بھی کارآمداور عمدہ ہو سب رائیگاں ۔ تعلیم وتدریس کے کثیرالجہت موضوع پر بات اگر وسیع تر تناظر میں کی جائے تواس حقیقت کی گرہیں خود کھل جائیں گی کہ آج بھی ایک استاد کا مقام زندہ قو مو ں میں قابل ِرشک ہے کیونکہ اسی کے دم قدم سے فکروعمل کی روشنیاں جگمگا تی ہیں اور انسانی سماج کے تہذیب وارتقاء کا سفر جا ری ہے۔ جس قوم کا ٹیچر اپنے پیشے کی اصل اہمیت کا جان کار ہو ، بصیرت کاشناور ہو، زندہ ضمیرکامالک ہو، ہمددری کا مجسمہ ہو ، لازماً کا میابیاں اُس قوم کے قدم چو میں گی، عز ت و آبرو کے چاندستا رے اُسے جھک جھک کر سلام کر یں گے، پیا راوروقار کے پھو ل اس کا مقدر بنیں گے ، مگر یہ سب چیزیں فرشتہ خصلت اساتذہ کی تدریسی کاوشوں اور کردار کی صدائے بازگشت ہوتی ہیں۔ماضی ٔ قریب تک ہما رے یہا ں ایسے سنجیدہ فکر اور صالح مزاج اساتذہ کرام کی بھر ما ر تھی جن سے طلبہ اپنے ذوق اور ظرف کے مطابق استفادہ کرتے رہتے۔ ایسے استادوں کی سماج میں عزت وتوقیر ہوتی اور یہ ہر وقت و الدین سے دعائیں لیتے ۔ مسلم تو مسلم اس پیشہ سے تعلق رکھنے والے نیک خصلت پنڈت اور عیسائی مشنری والے بھی اپنے پیشے پر سب کچھ نچھاور کر نے والے ہوتے۔ دیانت،مہارت ، شفقت،سادگی، سچائی ، خلو ص اور ہمدردی کے پتلے ایسے اساتذہ آ ج خال خال ہی نظر آتے ہیں بلکہ کڑوا سچ یہ ہے کہ اب ہر شعبۂ زندگی میں ایسے لوگ عنقا ہیں۔اس بد قسمتی کی ایک نہیں سینکڑو ں وجوہات ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہمارے نظام تعلیم کو اب ایسے فرشتوں کی زیادہ تلاش ہے جن پر میردرد ؔ کا یہ مصرع’’دامن نچوڑ دیں تو فر شتے وضو کر یں‘‘ صادق آئے۔ اگر سچ مچ ہمارے معزز ٹیچر صاحبان سو سائٹی میں اپنے کھو ئے ہوئے وقار کی بحا لی اور مالک ارض وسماء کی رضاچاہتے ہیں ،تو انہیں اس کے لئے تعلیم گاہوں میں محنت ، تندہی اور لگن کااینٹ گا را، خلو ص کا سامان ِ آرا ئش اورسب سے بڑھ کر جذبہ ٔخدمت ِخلق اللہ کی قندیلیں فروزاں کرنا ہوں گی ۔ بے شک ایسے اساتذہ کی پیدائش کے لئے لازمی ہے کہ پہلے نظام ِتعلیم کی دُرستگی اور صحیح الفکر نظر یہ ٔ  تعلیم کو اپنایا جائے ۔