نشہ آور ادویات کی وباء روکنے کیلئے انسداد منشیات پالیسی کا اطلاق

سرینگر//سرکار نے انسداد منشیات پالیسی کے پیش نظر ریاستی سطح پر نگرانی و نفاذکی16رکنی آئینی کمیٹی کو منظوری دیدی ہے۔چیف سیکریٹری کی قیادت والی کمیٹی کو اس پالیسی میں وقت ضرورت پر تبدیلیوں کیلئے تجاویز دینے کیلئے با اختیاربنایا گیا ہے،جبکہ صوبائی کمیٹیوں کو موجودہ انسداد مراکز میں سہولیات کا معائنہ کرنے کے علاوہ لائسنسوں کی اجرائی و منسوخی کا مجاذ بنایا گیا ہے۔ کمیٹیوں میں ایوان صحافت کشمیر کے صدر ،جموں پریس کلب کے جنرل سیکریٹری اور خبرساں ایجنسی یو این آئی کے بیرو چیف کو بھی شامل کیا گیا۔ ذرائع کیمطابق محکمہ انتظامی عمومی نے حکم نامہ زیرنمبر354-GAD OF2019 محرر7مارچ2019بہ حوالہ محکمہ صحت و طبی تعلیم  U.O.NO…HD/PLAN.122/2018 محرر 22 فروری2019 اجرا کیا،جس میں ریاست میں انسداد منشیات پالیسی کے آئین کے نفاذ کیلئے نگرانی کمیٹی کو منظوری دی گئی۔انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیرو سائنس کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست میں دو تہائی مریض نشہ آوار اشیاء کے عادی 11 اور 20سال کی عمر میں ہوتے ہیں۔ انسداد منشیات پالیسی مسودہ میں واضح کیا گیا کہ منشیات کی لت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے،اور اس نے جموں کشمیر میں ایک وباء کی شکل اختیار کی ہے۔ مسودہ میں کہا گیا ہے’’ جموں کشمیرسنہرے ہلال(گولڈن کریسنٹ) کی راہ گزر میں ہونے کے باوجود طویل عرصے تک منشیات کی لت میں رہنے سے مبرا رہی،تاہم اس امید کو بہت دیر تک ہم اشتراک نہیں کرسکتے،کیونکہ ریاست میں گزشتہ دو دہائیوں سے جسمانی،ذہنی عوارض سے متعلق ادویات کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے نگرانی و نفاذ کمیٹی کی کمان ریاستی چیف سیکریٹری کو سونپی گئی ہے،جبکہ16رکنی کمیٹی میں محکمہ صحت و طبی تعلیم کے انتظامی سیکریٹری کو نائب چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔کمیٹی میں محکمہ تعلیم،محکمہ سماجی بہبود،محکمہ قانون،محکمہ کھل کود و یوتھ سروس ،انصاف و پارلیمانی امور کے انتظامی سیکریٹریوں کے علاوہ ڈائریکٹر صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ،پرنسپل میڈیکل کالج،سرینگر و جموں،انسپکٹر جنرل آف پولیس کرائم، سرینگر و جموںگورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں شعبہ نفسیات کے سربراہاں کو ممبران نامزد کیا گیا ہے۔کمیٹی میںدیگر4ممبران گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے سابق پرنسپل اور دارلعلوم الہیٰ باغ صورہ کے سربراہ ڈاکٹر رفیق پانپوری،جموں پریس کلب کے جنرل سیکریٹری و سنیئر صحافی زورآور سنگھ جموال،سیول سوسائٹی فورم کشمیرکے عمر ترمبو اور سماجی کارکن تاشی وانگچک شامل ہیں۔کمیٹی کو ضرورت کے وقت پالیسی میں تبدیلی سے متعلق تجاویز کے اختیارات سے لیس کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ ریاست میں انسداد منشیات کی مختلف سرگرمیوں کیلئے مالی تعاون تلاش کرنے کی کوشش کریں،نیز کمیٹی کو اس پالیسی کے زمینی سطح پر اطلاق کی نگرانی کیلئے سال میں2مرتبہ جموں اور 
سرینگر میں میٹنگ طلب کرنے پر زور دیا گیا۔ انسداد منشیات پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ اعتقاد کی بنیاد پر جماعتوں کی طرف سے اس معاملے میں ملوث ہونے سے مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔اس پالیسی میں مزید کہا گیا ہے’’ مذہبی اعتقاد اہم حفاظتی عوامل ہیں،مذہبی اور روحانی لیڈروں کو اس میں شامل کر کے وہ اپنے خطابات میں احتیاتی اقدامات کو اجاگر کریں‘‘۔ اس دوران حکومت نے صوبائی سطحوں پر بھی انسداد منشیات مراکز کی نگرانی کمیٹیوں کو تشکل دیا ہے۔ وادی میں14رکنی نگرانی کمیٹی محکمہ صحت و طبی تعلیم کے انتظامی سیکریٹری کی سربراہی میں عمل میں لائی گئی ہے،جس میں ڈائریکٹر محکمہ صحت، ایڈس کنٹرول و پرینٹیشن سوسائٹی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر،ڈرگ و فوڈ کنٹرول آرگنائزیشن کے کنٹرولر، گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر اورصورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے شعبہ نفسیات کے سربراہاں،محکمہ قانون،انصاف و پارلیمانی امور کے ایڈیشنل سیکریٹری،ڈائریکٹر ہیلتھ کی طرف سے نامزد سنیئر ترین ماہر نفسیات،کرائم برانچ کی طرف سے نامزد ڈپٹی سپر انٹنڈنٹ آف پولیس کے علاوہ کشمیر پریس کلب کے صدر شجاع الحق،رحیم گرینس کے مالک عبدالحمید بٹ،غیر سرکاری رضاکار تنظیم اتھ روٹ کے چیئرمین و سماجی کارکن بشیر احمد وانی اور مولوی محمد یاسین ممبران نامزد کیا گیا ہے۔