نسترن احسن کی’’لِفٹ‘‘ پر ایک نظر

لِفٹ نسترن احسن کا لکھا ہوا بہترین ناول ہے۔ مصنفہ کی جائے پیدائش سمستی پور بہار ہے جبکہ علی گڑھ میں مقیم ہیں ۔مصنفہ کی بہت ساری تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں جن میں لفٹ بھی شامل ہے ۔لفٹ نامی ناول آٹھ ابواب پر مشتمل ہے جن میں سے چھے ابواب کے لیے یا تو فیض احمد فیض یا شہریار کا کوئی مصرعہ منتخب کیا گیا ہے۔ مذکورہ ناول میں ملک کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور تعلیمی ماحول کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے ۔لفٹ میں یونیورسٹیوں کے اندر کے حالات دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جس میں مصنفہ بہت حد تک کامیاب ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ میں ذاتی طور پر یونیورسٹی کو محض ایک تعلیمی ادارہ سمجھتا تھا جہاں طالب علموں کو پڑھایا جارہا ہے لیکن ناول میں جس طرح سے یونیورسٹی کے انتظامی امور دکھائے گئے ہیں،اُن سے قاری کو بہت سے تجربات سے آگاہی ہوتی ہے کہ کسی بھی یونیورسٹی کے منتظمین کو ادارہ چلانے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ،سٹوڈنٹ یونین اور یونیورسٹی انتظامیہ کا ٹکراؤ کس قدربھیانک صورتحال اختیار کر سکتا ہے ۔ناول میں یہ بھی اچھے طریقے سے دکھایا گیا کہ کس طرح سے طالب علموں کے گرم خون کو کوئی تیسری طاقت یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف استعمال کرتی ہے اور جن معمولی معمولی معاملات کو دنوں میں حل ہونا چاہئے تھا باہری طاقتوں کی وجہ سے وہ مسلے طول پکڑتے جارہے ہیں اور حل ہونے کا نام نہیں لے رہے بلکہ کبھی کبھی خون خرابے کی بھی نوبت آجاتی ہے ۔یونیورسٹی جیسے تعلیمی اداروں میں بے جا سیاسی مداخلت کی بھی منظر کشی کی گئی ہے۔ یہ منظر کشی ملک کے طالب علموں کے لیے چشم کشا ہے کہ انہیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہئے اور کبھی بھی کسی کے بہکاوے میں آکر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے، جس سے ان کی تعلیم داؤ پر لگ جائے اور جس سے وہ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جائیں ۔ناول کے مرکزی کردار اجے ورما ہیں ،جو اصول پرست اور انصاپ پرست انسان ہیں وہ ایثار اور قربانی میں یقین رکھنے والا شخص ہے ۔اجے ورما آسی نامی ایک مسلمان لڑکی سے عشق کرتا ہے لیکن دونوں ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور محض اس وجہ سے اپنے پیار کی قربانی دیتے ہیں کہ اس سے ہمارے مذاہب کے ماننے والوں کے جذبات مجروح ہونگے ۔ اجے یونیورسٹی کا ایک محنتی طالب علم ہوتا ہے جو محنت میں یقین رکھتا ہے اور جو ترقی کے زینے محنت اور مشقت کر کے طے کرنے کا قائل ہے اور جسے چور دروازے یا چاپلوسی سے حاصل کی ہوئی عزت، وقار یا عہدہ قابل قبول نہیں ہے ۔لیکن معاشرہ اس قدر اخلاقی طور پر کمزور ہوچکا ہوتا ہے کہ اجے ورما جیسے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یونیورسٹی میں اجے ورما کے تعینات ہوتے ہی اجے ورما کے نام پر بھی ظلم و جبر کا ماحول گرم کیا جاتا ہے اور انہیں خریدنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے لیکن اجے ورما کسی بھی صورت میں اپنے اصولوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتے ہیں اور وہ ہر محاذ پر ثابت قدم رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کچھ لوگوں کی آنکھوں میں کھٹکتا بھی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اجے ورما کو ترقی کے محدور مواقعے ملتے ہیں اور اجے بہ مشکل پروفیسر کے عہدے تک پہنچ جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں اجے کو قیمتی تحائف بھی پیش کئے جاتے ہیں ۔لیکن وہ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہیں اور کسی کا بھی دیا ہوا تحفہ قبول نہیں کرتے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ یونیورسٹی میں کس طرح کا ماحول تیار کیاگیا ہے، اس کے برعکس نیک رام نامی معمولی کلرک جو اجے کے ماتحت کام کرتا ہے اور جس کی نوکری اجے کے ہاتھوں سے مستقل ہوتی ہے انتہائی کم ظرف اور چاپلوس قسم کا آدمی ہوتا ہے، حالانکہ اجے ورما کی بیوی سیتا پہلے ہی نیک رام کی اصلیت پہچان لیتی ہے لیکن اجے اسے پہچاننے میں دھوکہ کھا جاتا ہے ،جس کا اعتراف بعد میں اجے ورما خود کرتا ہے۔ نیک رام سیدھے راستے سے ترقی کے پائدان طےکرنے میں یقین نہیں رکھتا ہے بلکہ وہ چاپلوس کر کے راتوں رات یوں سمجھ لیجئے لفٹ کے ذریعے ترقی کے زینے طے کرنا چاہتا ہے اور ایسا کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک گر سکتا ہے۔ یونیورسٹی میں رجسٹرار کو گولی مار کر ہلاک کرنے کو بھی نیک رام سے ہی جوڑا جاتا ہے کہ وہ خود رجسٹرار بننا چاہتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے رجسٹرار کو مروایا ہے اور کچھ ہی عرصی بعد جب نیک رام کو سچ میں یونیورسٹی کا رجسٹرار بنایا جاتا ہے تو لوگوں کا قیاس کسی حد تک سچ ثابت ہو جاتا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ یونیورسٹی کے حالات بگاڑنے میں بھی نیک رام اور اس جیسے کئی لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے جو اس ہنگامے کی آگ سے اپنی روٹیاںسیکنا چاہتے ہیں۔ نیک رام محض ایک نام نہیں ہے، ملک ان سب کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جو نیک رام جیسی سوچ رکھتے ہیں ۔یونیورسٹی کا امن و سکون بگاڑنے می نیک رام کا اہم کردار رہتا ہے۔ ایک موقعہ پر جب سیتا نام کی ایک عارضی ٹیچر کو ایک ہنگامہ کے بارے میں کچھ پتہ چلتا ہے تو اسے چپ کرانے کے لیے طرح طرح کے حربے آزمائے جاتے ہیں، اس کے گھر کا سازوسامان توڑ دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی سالوں کی محنت سے تیار کی ہوئی تھیسس کو پل بھی جلا کر راکھ کر دیا جاتا ہے۔ اس صدمے سےسیتاااس قدر سہم جاتی ہے کہ وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔مذکورہ ناول میں ملک کے سیاسی حالات کی بھی بھر پور عکاسی کی گئی ہے اور پرلے درجے اور گری ہوئی سیاست کرنے والوں پر بھی چوٹ کی گئی ہے ۔جہاں سیاست دان اپنے حقیر مقاصد کے لیے ایک دوسرے کو مرواتے بھی ہیں تاکہ لوگوں کی ہمدردی حاصل کر کے اقتدار حاصل کیا جائے۔ کچھ سیاست دان تو مندر مسجد کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور بھولے بھالے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں وہ کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ناول میں یہ بھی بہت خوبصورتی کے ساتھ دکھایا گیا کہ کس طرح سے سیاست دان تعصب اور نفرت کے بیج بو کر ہندو مسلم کے صدیوں سے چلے آرہے اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ناول میں گجرات فسادات کا بھی ذکر آیا ہے۔ملک صاحب ،اجے ورما، اور دیگر عہدےداراں اکثر ملک کے ان سنجیدہ مسائل پر گفتگو کرتے رہتے ہیں اور فکر مندی کا مظاہرہ بھی کرتے تھے۔اکثر کہتے تھے کہ اگر ملک کے ذی شعور لوگ ہوش کے ناخن نہیں لیں گے تو مفاد پرست سیاستدان اپنے حقیر مقاصد کے لیے نفرت کی آگ بڑھکا کر ملک کو تباہ نہ کریں گے ،اس لیے لوگوں کو ان کی چالوں سے ہوشیار رہنا چاہیئے ۔بڑے عہدوں پر جب نااہل اور چور دروازے یا لفٹ سے آئے ہوئے لوگ قابض ہوجاتے ہیں تو بہتری کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔ناول کا انوکھا موڑ تب آجاتا ہے جب وائس چانسلر کے عہدے کے لیے تین بہترین اساتذہ کا نام گورنر کو تجویز کئے جاتے ہیں جن میں اجے ورما کا بھی نام شامل ہوتا ہےاور یہ لوگ گورنر سے ملاقات بھی کرتے ہیں لیکن حیرت کی انتہا تب ہوتی ہے جب تجویز کئے کے ناموں کو یکسر چھوڑ کر نیک رام کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر منتخب کیا جاتا ہے اور کل تک اجے ورما کے ماتحت کام کرنے والا نیک رام آج وائس چانسلر بن جاتا ہے۔ اجے ورما ان ہی سوچوں میں گھم ہو جاتا ہے اور یونیورسٹی کی صاف ستھری سڑک پر چل رہا ہوتا ہے کہ اچانک وہاں سے ایک کار گزرتی ہے،ذرا دوری پر رُکتی ہے، جس میں سے وائس چانسلر نیک رام اجے ورما کو ہیلو پروفیسر کہہ کر نکل لیتے ہیں۔ اس ناول میں یہ صاف طور پر سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح سے حق تلفی کی جارہی ہے اور محض چاپلوسی، رشوت خوری اور بد دیانتی کی وجہ سے نااہل لوگوں کو بڑے بڑے عہدوں پر فائز کیا جارہا ہے، جبکہ نیک محنتی اور ایماندار لوگوں کو دبایا جارہا ہے۔ یہ ناول ملک کے سیاستدانوں کے لیے چشم کشا ہے اور اگر سیاستدان اس ناول کو پڑھیں گے تو انہیں اپنا چہرہ اس میں سے صاف صاف نظر آئے گا ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاستدانوں کے پاس کہنے کو جب کچھ نہیں ہوتا ہے تو وہ مذہبی کارڈ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ناول میں ملک کی حقیقتوں کو فرضی انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ناول پر ملک کے چند بہترین ناول نگاروں جیسے ،غضنفر، اور صغیر ابراہیم نے اپنے تاثرات پیش کئے ہیں۔ناول میں پیش کئے گئے چند ایک خیالات سے میں اگر چہ متفق نہیں ہوں تاہم مجموعی طور پر یہ ناول ملک کے حالات کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔سیتا کی تھیسس جلانا، ہندو مسلم نزاع کے واقعات قاری کو غمزدہ کر دیتے ہیں بلکہ رونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔