بندگی کا تقاضا یہی ہے کہ انسان ہر حال اور ہر مقام پے اپنے خالق حقیقی سے ,ہر آفت سے مامون و محفوظ رہنے کے لئے اور رب ذوالجلال کی نعمتیں طلب کرنے کے لئے دعاؤں کا مسلسل اہتمام کرے چونکہ دعا مومن کا ہتھیار اور عبادت کی مغز ہے۔دعا کے لغوی معنی ہی مدد طلب کرنا ہے اور تمام انبیا کرام نے تواتر اور کثرت کے ساتھ اللہ رب العزت سے راحت و سکون اور آلام و مصائب, ہر دو صورت میں دعائیں مانگیں ہیں۔دعاؤں کی افادیت اور اہمیت کا یہاں پے احاطہ کرنا نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب, البتہ چونکہ فی الحال دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے کہ انسانی بد اعمالی کے نتیجے میں بارشیں مکمل رک چکیں ہیں اور اگر یہ صورتحال بدستور جاری رہی تو پانی کی عدم دستیابی کا بحران انسانی قابو سے باہر ہو جائیگا اور پہلے سے ہی سسکتی بلکتی انسانیت کے وجود کو خطرہ لا حق ہو سکتا ہے۔ابھی کووڈ19کا عالمی قہر جاری ہے اور ادھر آسمان کی بے رخی نے ایک الگ مصیبت کے سایوں کو دراز کر دیا ہے۔ درخت سوکھ رہے ہیں,زمین سے ہریالی غائب ہو چکی ہے,طیور و بہائم پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں,فصلیں تباہ ہوچکیں ہیں۔عالمی وباء بیماری کے پیش نظر روزگار کے مسائل کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔گویا ہر طرف سے انسانیت مصائب کے دلدل میں جکڑ تی جا رہی ہے اور ان تماتر مشکلات و مصائب کا مداوا دنیا کی کسی بھی سلطنت کے دست قدرت سے بہت بہت بعید ہے۔ان حالات میں سارے ضعیف سہاروں اور باطل عقائد سے کنارہ کشی کر کے ساری کائنات کے خالق کے دربار میں سجدہ ریز ہونے کی ضرورت ہے۔
انسانی تاریخ میں ایسی ابتلاؤں اور دشواریوں کا ایک طویل سلسلہ ہر دور میں قائم رہا ہے۔سر کشی اور باغیانہ روش کی پاداش میں بڑے بڑے فرعون غرقاب ہوتے رہے لیکن اللہ کا کوئی وفادار موسیٰ دریائے نیل کا سینہ چیرنے میں نا کام نہ ہوا۔مثالیں انگنت ہیں مگر ایک مثال پے اکتفاء کرتے ہوئے میں دراصل اس جانب اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہر دور میں اللہ کی وحدانیت کے دامن میں پناہ لینے والے نار نمرود کے شعلوں میں باد صباہ کی تازگی محسوس کرتے رہے۔
اس مکتوب کی پیشانی کو میں نے ان خوبصورت دعائیہ کلمات سے سجایا ہے جو من و عن رسول اکرم کے دہن مبارک سے صحابہ کے جھرمٹ میں اس وقت نکلے جب سائل نے فریاد کی کہ یا رسول اللہ بارش کے لئے دعا کیجئے۔واقعہ قدرے طویل ہے البتہ خوشک سالی سے حصول نجات کے لئے تین طریقوں سے دعا مانگنے کی دلیل مو جود ہے۔اول یہ کہ ہر فرض نماز کے بعد۔دوم یہ کہ نماز جمعہ کے موقعے پے دوران خطبہ اور سوم یہ کہ کھلے میدان میں دو رکعت نماز استسقاء کے بعد دو خطبوں کے ساتھ اور الٹے ہاتھوں آہ و زاری کے ساتھ دعا مانگی جائے اور نماز استسقاء سے پہلے یا بعد میں روزہ,توبہ اور صدقہ کیا جائے۔
بہت حیرت کا مقام ہے کہ کچھ لوگ اب بھی حلوا پکانے اور کھانے کو نزول بارش کا ذرئیہ مانتے ہیں۔حلوا کھانے کی چیز ہے اسے کھانے کے بہانے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔مل جائے تو کھا لیجئے مگر نہ ملے تو صبر کیجئے اور دین کے ساتھ ملا کر اپنی آخرت کو تباہ نہ کریں۔شریعت میں جو تین طرح سے دعاؤں کے اہتمام کا ذکر کیا گیا ہے اس پے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔
اللہ سے دعا مانگنے میں بلا امتیاز مذہب ہر انسان یقین رکھتا ہے اور مسلمان کے لئے دعا مانگنے کی واضح دلیل بھی اور سبیل بھی موجود ہے۔
اس لئے سبھی قارئین سے آمین کی استدعا ہے اور باقی جو مزاج میں پختہ ہیں انشا اللہ وہ ہر تین طرح سے طلب باراں کی دعا کرینگے۔یا اللہ باران رحمت نازل کر۔آمین
نیل چدوس،تحصیل بانہال،ضلع رام بن
فون نمبر8493990261