نجی ٹیوشن مراکز | علم و آگہی کی آماجگاہیں یا کاروباری ادارے؟

گزشتہ برس نجی ٹیوشن مراکز کو جوابدہ بنانے اور ان کی نگرانی کیلئے نہ صرف طریقہ کار مقرر کیاگیا تھابلکہ ایک کمیٹی بھی بنائی گئی جوان مراکز کا وقتاً فوقتاً معا ئنہ کرکے وہاں دستیاب سہولیات کا جائزہ لیتی ۔کشمیر میں محکمہ تعلیم کے صوبائی نگران ،جسے عرف عام میں ناظم تعلیم یا ڈائریکٹر ایجوکیشن کشمیر کہتے ہیں ،نے بھی پرے پورہ سانحہ کے بعد کئی روز تک ٹیوشن و کوچنگ مراکز کے خلاف جی بھر کر لب کشائی کی تھی اور ایک کے بعدایک بیان اور حکمنامہ جاری کرکے ٹیوشن و کوچنگ مراکز کو باقاعدہ بنانے کی باتیں کی گئی تھیں ،یہاں تک ان نجی تعلیمی وٹیوشن مراکز کو رجسٹریشن مکمل کرنے کی حتمی مہلت بھی دی گئی تھی اور رجسٹریشن فیس کا ڈھانچہ مقرر کرکے تعلیم کے نام پر قائم ایسے تمام تجارتی مراکز کو متنبہ کیاگیاتھا کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اندر فوری طوررجسٹریشن کے لوازمات پورے کریں تاکہ وہ اپنے مراکز بنا کسی پریشانی کے چلاپائیں ،بصورت دیگر ان تمام مراکز کو سربمہر کرنے کی باتیں بھی ہوئی تھیں تاہم رات گئی تو بات گئی کے مصداق ناظم تعلیمات کشمیر اپنی ہی کہی باتیں بھول گئے ۔نہ رجسٹریشن ہوئی ،نہ کاغذی کارروائی اور نہ ہی کوئی مرکز بند ہوا بلکہ تمام مراکز حسب سابق امسال بھی پوری شان وشوکت کے ساتھ چل رہے ہیں۔
اتنا ہی نہیں شہر و دیہات اور قصبہ جات میں جہاں کہیں بھی کوئی کھلی جگہ ملتی ہے،تو ٹین کا شیڈ تعمیر کرکے کوچنگ مرکز کا قیام عمل میں لایاجاتا ہے حالانکہ جموں وکشمیر ریگولیشن آف پرائیوٹ ٹیوشن سنٹر رولز2010 میں ٹیوشن مراکز کے قیام او ر بنیادی ڈھانچہ کے حوالے سے کیا رہنما خطوط وضع کئے گئے ہیں ،وہ واضح ہیں ۔ ان رولزکو نافذ کرنے کی مجازاتھارٹی ناظم تعلیم کے سطح کے آفیسر سے کم نہ ہوگی اور ہر کوچنگ و ٹیوشن مرکز کو اسی مجاز اتھارٹی کے سامنے اپنے آپ کو رجسٹر کرنا ہے اور اس کے بعد نگرانی کمیٹیاں ان مراکز کی مسلسل نگرانی کرتی رہیں گی اور کوئی بھی ایجنسی یا گروپ اس اتھارٹی سے  اجازت لئے بغیر اپنا کوچنگ یا ٹیوشن مرکز چلا نہیں سکتااور رجسٹریشن کو رنیو کرنے کے بغیر مرکز نہیں چل سکتے۔تاہم رنیول صرف بہتر کارکردگی کی بنیاد پرہی دی جاسکتی ہے اور بہتر کارکردگی کی سند نگرانی کمیٹیاں ہی دے سکتی ہیں۔ان قواعد میں واضح کیاگیا ہے کہ نجی ٹیوشن کے لئے اجازت نامہ دوشفٹوں تک ہی محدودہوگا جن میں پہلا شفٹ ایام کارشروع ہونے سے آدھا گھنٹہ قبل اور دوسرا شفٹ ایام کار ختم ہونے کے بعد تک ہی محدودہوگا۔رولز کے مطابق انتظامیہ سرمائی زون میں ہر سال اکتوبر اور گرمائی زون میں مارچ میں ہی تسلیم شدہ ٹیوشن و کوچنگ مراکز کی فہرست جاری کرے گی تاکہ طلاب کو دھوکہ نہ دیا جائے۔قوانین کے مطابق ان مراکز میں طلبہ کے داخلہ کی رجسٹر ،ٹیوشن فیس کی وصولی کیلئے باضابطہ کھاتہ بنانا،ٹیوشن کورس شرو ع کرنے سے 15روز قبل ہر مضمون،کلاس اور کورس کا ماہانہ ٹیوشن فیس نوٹس بورڈ پر واضح کرنا،ہر جماعت میںغریب ،نادار ،مستحق اور یتیم بچوں اور سطح افلاس سے نیچے گزر بسر کرنے والے بچوں کیلئے 10فیصد داخلے مخصوص رکھنا ،شامل ہیں۔
جہاںتک ان مراکز میں بنیادی ڈھانچے کا تعلق ہے تو قواعد کے مطابق  یہ مراکز آبادی سے خاموش علاقوں میں قائم ہونے چاہئیں۔ہر طالب علم کیلئے ٹیوشن مرکز میں9مربع فٹ جگہ ہونی چاہئے۔لڑکیو ں کیلئے علیحدہ ویٹنگ روم،علیحدہ بیت الخلاء اور علیحدہ پینے کے پانی کی سہولت میسر ہونی چاہئے۔بچوں کیلئے آرام دہ بیٹھنے کی جگہ اور بجلی،گرمی و سردی کامناسب انتظام لازمی ہے ۔تدریسی عملہ کے بارے میں رولزمیں واضح کیاگیا ہے کہ پرائمری اور اپر پرائمری(مڈل)کلاس کے بچوں کو پڑھانے کیلئے اساتذہ کم از کم گریجوٹ یا بی ایڈ کے ساتھ گریجوٹ ہونے چاہئیں جبکہ سکینڈی سطح کے بچوں کوپڑھانے والے اساتذہ کسی بھی صورت میں بی ایڈ کے ساتھ گریجوٹ ہونے چاہئیں۔ہائر سکینڈی سطح کے بچوں کو پڑھانے والے متعلقہ مضامین میں ماسٹرس ڈگری رکھتے ہوں اور وہی ان بچوں کو پڑھانے کے اہل ہونگے جبکہ بچوں سے لی جانے والی فیس معقول ہونی چاہئے۔
 قوانین کے تحت ان مراکز کیلئے جو لوازمات ہیں،شاید ہی کوئی مرکز ان پر پورا اتر رہا ہے بلکہ حق گوئی سے کام لیاجائے تو ان مراکز میں بچوں کو بھیڑ بکریو ں کی طرح رکھاجارہا ہے اور سینکڑوں بچوں کا کلاس لیکر اساتذہ صاحبان لائوڈ سپیکروں کا استعمال کرکے کلاس لیتے ہیں۔اس نظام میں بچوں کے پلے کیا پڑے گا ،اندازہ لگانا مشکل نہیںہے ۔9مربع فٹ کی جگہ کا تصور کرنا بھی محال ہے ،ان ٹین کے شیڈوں اور مکان کے بڑے کمروں میں ویٹنگ روم ،بجلی،گرمی وسردی یا پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔اس کے باوجود بھی انہیں تعلیم و تعلم کے مراکز قرار دیا جائے تو یہ زیادتی ہوگی بلکہ حقیقی معنوں میںیہ مراکز شور و غل اور بسع اوقات کے اڈے بن چکے ہیں اور عام لوگوں کا الزام ہے کہ حکام کے ساتھ ملی بھگت ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی کیونکہ یا تو وہ اپنی کمائی کا ایک اچھا خاصا حصہ ان حکام تک بطور نذرانہ پہنچاتے ہیں یا پھر ان کے بچوں اور رشتہ داروں کی مفت پڑھائی کا انتظا م کرکے ان کا آشیر واد حاصل کیاجاتا ہے۔اگر یہ سچ ہے تو انتہائی افسوسناک ہے اور اگر غلط ہے تو کارروائی کیوں نہیں ہوتی۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ناظم تعلیم کو دینا پڑے گا ورنہ الزامات لگتے رہیں گے اور وہ اپنے آپ کو ان الزامات سے نہیں بچاپائیں گے اور نہ ہی وہ میڈیا کے چبھنے والے سوالات سے فرار حاصل کرپائیں گے۔