نجات

 کاش میں اسے پہچان پاتا اور میری اُلجھن سلجھ جاتی۔
انسانوں کی دیو ہیکل بھیڑ رواں دواں تھی۔ سب اپنی اپنی رفتا ر میں اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر ہل رہے تھے جیسے سب کسی بڑی مشین کے پُرزے ہوں۔ وہ اس تمام بھیڑکا حصہ ہونے کے باوجود بھی الگ تھا۔اس کے بڑھتے قدم تب چلتے چلتے رُک گئے جب اُسکی نظر بازار کی ایک بند دوکان کے شیٹر پر چسپاں ایک اشتہار پر پڑی جس کے اُوپر موٹے حروف میںلکھا تھا۔’’ اطلاع گمشدگی‘‘ ایک عام قسم کی لکھی ہوئی عبارت کے ساتھ اوپر ایک تصویر بھی چھپی ہوئی تھی عبارت کچھ یوں تھی۔
اشتہار میں چھپی تصویر ایک لاپتہ شخص کی ہے، جو چند روز قبل گھر سے کام پر نکلا تھا پر واپس نہ لوٹا۔ ہم پہلے ہی ریڈیو،ٹیلی ویژن اور اخبارت کے ذریعے اطلاع عام دے چکے ہیں اور اب بذریعہ اشتہارات بھی عوام کو مطلع کرتے ہیں کہ  اگر کسی کو اِس گمشدہ شخص کے بارے میں کوئی علمیت ہو تو برائے کرم نیچے دیئے ہوئے فون نمبر پر رابطہ قائم کرے۔
نوٹ: پتہ دینے والے کو معقول انعام دیا جائے گا۔
اشتہار میں درج فون نمبروں کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ یہ عبارت کئی بار پڑھ چکا تھا اور بار بار پھر پڑھے جارہا تھا۔ اشتہار کی عبارت کئی بار پڑھنے کے بعد پر تصویر کو گھورنے لگا اور اپنے ساتھ پھر سے بڑبڑانے لگا، کاش میں اسے پہچان پاتا اور میری اُلجھن سلجھ جاتی۔ وہ سوچ کے گہرے ساگر میں ڈوب گیا۔میں تو اس شخص کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اسکا چہرہ کافی شناسا ہے۔ پر یہ یاد نہیں آرہا کہ کیسے جانتا ہوں۔ میں نے اُسے کب اور کہاں دیکھا ہے۔ یا صرف دیکھا ہے یا پھر اس سے مل بھی چکا ہوں۔ویسے تو اب لوگوں نے عجیب سی عادت بنا ڈالی ہے جیسے یہ بھی کوئی فیشن ہو۔ گھر سے نکلتے ہیں اور پھر واپس لوٹتے ہیں نہیں ۔ممکن ہے میری سوچ غلط ہو یہ شخص گھر واپس لوٹنا چاہتا ہو مگر کسی حادثے کا شکارہوا ہو یا گندی سیاست کے ہتھے چڑھا ہو۔ یہ بھی تو ممکن ہے کسی نے اغوا کرلیاہو یا پھر اس کی کسی کے ساتھ دشمنی ہو اور دشمنوں نے اس کا قتل کردیا ہو۔ ویسے بھی ہمارے چاروں اطراف یہی سب کچھ تو ہورہا ہے۔ مار دھاڑ ، قتل وغارت،فریب دھوکا وغیرہ اور ایسے حالات میں کچھ بھی ممکن ہے۔ موجودہ حالات میں زندگی بسر کرنا چلینج سے کم نہیں۔ کچھ لوگ اس چلینج کے سامنے ہار مان لیتے ہیں اور خود کشی کرلیتے ہیں۔ خود کشی سے یاد آیا ، ہوسکتا ہے اس نے بھی زندگی سے تنگ آکر خود کشی کرلی ہو اور ابھی اس کے گھر والوں کو اس بات کا علم نہ ہو۔ یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس شخص نے ہماری چاروں اور پھیلی بد نظمی اور انسانی اقدار کی پامالی دیکھ کر زندگی کا دامن چھوڑ دیا ہو۔ نہیں نہیں یہ نہیں ہوسکتا! تیسری دُنیا کا باشندہ ابھی اتنا سنجیدہ کہاں ہوا ہے کہ سماج کی بد نظمی اور انسانی اقدار کی پامالی دیکھکر خود کی بلی چڑھادے۔ ابھی تیسری دُنیا کا انسان بہت پیچھے ہے۔ وہ سوچ کی گہرائیوں میں ڈوبتا رہا اور مبہوت ہوکر تصویر کو گھورتا رہا۔ کہاں دیکھا ہے میں نے اسے۔ نہ یہ میرا کوئی رشتہ دار ہے اور ناہی کوئی دوست۔ میری اسکے ساتھ کیسی شناسائی ہے۔ اسکا چہرہ اتنا مانوس سا کیوں لگتا ہے مجھے کچھ یاد نہیں آتا میں اتنا بوڑھا تو نہیں جو میری یاداشت اتنی کمزور ہوگئی ہو۔ آج واقعی مجھے کام پر پہنچنے میں دیر ہوجائے گی اورمجھے اپنے باس کی بکواس سننی پڑے گی ۔مجھے آج اپنے کام سے اتنی فرصت کہاں سے ملی جو میں ان سوچوں میں گم ہوگیا۔ کہیں آج کوئی چھٹی تو نہیں۔ آج کا دن ۔۔۔۔۔۔۔آج کی تاریخ۔۔۔۔۔اُف کچھ بھی یاد نہیں آرہا ہے۔ کلینڈر دیکھ کر گھر سے نکلتا تو اتنی وقعت نہیں ہوتی۔
وہ ہر ایک چیز سے بے نیاز اپنے چاروں اطراف کی گہما گہمی سے بے خبر اشتہار میں چھپی تصور کو پہچانے کی کوشش میں تھا کہ اسے اپنے کوٹ کی آستین میں تھوڑا سا کھینچائو محسوس ہوا ور ایک پتلی سی آواز اُسکے کانوں سے ٹکرائی۔
دے دو بابو۔۔۔۔۔۔۔
کچھ پیسے دے دو بابو۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ پیسے دے دو نا بابو۔
اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا ایک سات آٹھ سال کی کالی رنگ کی دُبلی، پتلی بچی گندے ہاتھ پھیلائے اس سے پیسے مانگ رہی تھی۔ اس بچی کے پھٹے پُرانے کپڑے، اُلجھے بے ترتیب بال اور چہرے سے ٹپکتی بے بسی دیکھکر اسے عجیب سا محسوس ہوا۔
پیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھوک۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیسے چاہئیں ٹھہروٹھہرو دیکھتا ہوں۔
کوٹ کی داہنی جیب خالی، بائیں جیب خالی، پتلون کی جیبیں خالی۔ ایک ایک کرکے سبھی جیبیں ٹٹولنے پر اس کوٹ کی اندرونی جیب میں کوئی چیز محسوس ہوئی۔ اس نے دیکھا یہ ایک بٹوا تھا۔ نوٹوں سے بھرا ہوا۔ اس نے پہلے تھوڑی دیر کے لئے ان نوٹوںکو اجنبی نظروں سے دیکھا، جیسے اسے پتا ہی نہیں تھا کہ اس کے پاس اتنے پیسے موجو د ہیں۔ پھر تھوڑے وقفے کے بعد ایک سو روپے کا کرارا نوٹ نکالا اور بھک منگی بچی کو دے دیا۔ وہ جب بٹوا واپس جیب میں رکھنے لگا تو اس کی ایک ہلکی سی نظر بٹوے میں لگی تصویر پر گئی۔ وہ ٹھٹھگ گیا ۔ اس کے پیروں تلے زمین کھسکنے لگی۔ اپنے گھٹنوں میں کمزور ی محسوس ہونے لگی اور دل زورو سے دھڑکنے لگا۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے بٹوا واپس نکالااور ڈرتے ڈرتے اسے دوبارہ کھولا۔ بٹوے میں ایک طرف لگی تصویر اور اشتہار میںچھپی تصویر ایک ہی شخص کی تھی۔ 
یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیسے ممکن ہے ۔ نہیں۔۔۔۔۔۔یہ نہیںہوسکتا۔
یہ دونوں تصویریں ایک نہیں ہوسکتیں۔ ایک۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دفعہ پھر دیکھتا ہوں۔ اس نے دونوں تصویروں پر یکے بعد دیگرے نظریں دوڑائیں پر دونوں تصویریں ایک دوسرے کی کاپیاں تھیں۔ تو کیا یہ اشتہار میرے لئے ہے۔نہیں نہیںیہ میری تصویر نہیں ہوسکتی۔ میں تو گم نہیں۔ میں تو لاپتہ نہیں،میںہوں۔ ہاں ہاں میں ہوں۔ Descartsنے کہا تھا۔
" I think therefore I exist"(میں سوچتا ہوں لہٰذا میںہوں)
میں بھی سوچ رہا ہوں اور میرا سوچنا ہی میرے ہونے کا ثبوت ہے ۔ میں بالکل گم شُدہ نہیں۔ میں تو کام پر نکلا ہوں۔میر ا باس میرا انتظار کررہا ہوگا اور وہ میز بھی جس پر بیٹھ کر میںکام کرتا ہوں۔وہ فائلیں بھی ، ہر نیلی پیلی، سفید رنگ کی بے شمار فائلیں وہ وال کُلاک بھی جو میرے ٹیبل کے سامنے دیوار پر لگا ہے اور جس کی سوئی پتا نہیںکب سے اٹکی ہوئی ہے۔ وہ سبھی میرا انتظار کررہے ہونگے۔ مجھے تو آگے بڑھنا ہوگا اور کام پر جانا ہوگا۔
پر یہ بٹوا؟
یہ بٹوا میرا تو نہیں، یہ تو اس شخص کا ہے جس کے متعلق اشتہار چھپا ہے۔
توکیا یہ میں نہیں۔ کاش مجھے اپنی صورت یاد آتی تو میری بے چینی ختم ہوجاتی۔ پر مجھے اپنی صورت بھی تو یاد نہیں آتی۔ شاید میں نے بہت عرصے سے آئینہ نہیں دیکھا۔ ایک نظر آئینہ دیکھوں تو ابھی اس دہشت سے نجات ملے۔ پر اس بھاگ دوڑ بھرے شہر میں اب آئینہ کہاں سے لائوں۔اصل میں میری پریشانی میں اضافے کی وجہ یہ بٹوا ہے۔ اگر یہ بٹوا میر انہیں تو میرے کوٹ کی جیب میں کیسے؟ ۔۔۔۔۔۔۔مجھے کچھ یاد کیوں نہیں آرہا ہے۔ میری یاداشت کا چشمہ کیوں سوکھ چکا ہے؟مجھے یہ بھی تو یاد نہیں کہ یہ کپڑے میںنے کب پہنے ہیں؟ سب کچھ اُلجھا ہوا ہے۔ یہ تصویر ، یہ بٹوا، یہ کپڑے سب کچھ اُلجھا ہوا ہے۔ اگر یہ بٹوا میر ا نہیں تو کیا یہ کسی نے میری جیب میں ڈالا ہے۔ بھلا کوئی نوٹوں سے بھرا ہوا بٹوا کیوں میری جیب میں ڈالے گا۔ یا پھرہوسکتا ہے یہ کپڑے ہی میرے نہ ہوں۔ یہ سب ایک سازش بھی تو ہوسکتی ہے۔ ایک گہری سازش مجھے پھانسنے کی یامیرے خلاف رچی ہوئی کوئی گہری سازش۔ تو یہ طے ہے کہ نہ یہ بٹوا میرا ہے اور ناہی میرے بدن پر یہ کپڑے میرے ہیں۔
ہاں۔۔۔۔۔۔ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔
اس نے پہلے نوٹوں سے بھرا بٹوا ایسے گھبرا کر پھینک دیا جیسے اس کے ہاتھوں میں کوئی رینگتا ہوا کیڑا ہو۔ پھر وہ اپنے ساتھ بڑبڑایا۔
مجھے عجیب سی گھٹن محسوس ہورہی ہے۔ مجھے اس گھٹن اس اُلجھن سے نجات پانی ہی ہوگی۔ یہ کپڑے میرے بدن پر سراسر ایک بوجھ ہیں۔ مجھے اس بوجھ سے خود کو آزاد کرنا ہی ہوگا۔ 
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آزاد کرنا ہی ہوگا۔
کچھ وقفے کے بعد انسانوں کی دیو ہیکل بھیڑ مشینی پُرزوں کی طرح ہل رہی تھی۔ اور وہ اس تمام بھیڑ میں برہنہ کھڑا تھا۔
رابطہ؛محلہ جامع قدیم سوپور کشمیر
E-mail Id: [email protected]
فون نمبر؛9419031183