پی ڈی پی انتشارکاشکار!
کیابی جے پی واپس آسکتی ہے اقتدارمیں؟
اقتدارکھونے کے بعدپی ڈی پی زبردست طریقے سے اندرونی خلفشارکاشکارہوکررہ گئی ہے ۔اگرچہ کہ اقتدارمیں ہوتے ہوئے بھی وقتاً فوقتاً پی ڈی پی کے چندممبران کی پارٹی کے تئیں منفی سوچ آئے دن اخبارات میں گردش کرتی رہتی تھی لیکن اب یہ سوچ کھُل کر اُس وقت سامنے آئی جب پارٹی کے سینئرکارکن اورممبراسمبلی زڈی بل عابدرضاانصاری نے سابقہ وزیراعلیٰ اورپارٹی صدرمحبوبہ مفتی پرپارٹی میں کنبہ پروری کوبڑھاوادینے کاالزام عائد کرتے ہوئے پارٹی سے مستعفی ہونے کی بات کی۔عابدرضاانصاری کے اس بیان کے چندگھنٹوں کے بعدہی پارٹی کے ایک اورسینئرکارکن اورسابقہ وزیرعمران رضاانصاری نے بھی اسی طرح کااعلان کرتے ہوئے پارٹی صدرپریہ الزام عائد کیاکہ اب پارٹی چارلوگوں تک محدودہوکررہ گئی ہے ۔انہیں پارٹی میں رہ کرگھٹن کااحساس ہورہاہے کیوں کہ پارٹی صدرنے ان لیڈران کونظرانداز کردیاہے جن کی عوام میں گہری ساکھ ہے اورجوعوام کی بدولت ایم ایل اے کے عہدے پرفائزہوئے ہیں۔ عمران رضاانصاری کایہ بھی کہناتھاکہ وہ پارٹی کوالوداع کہہ چکے ہیں۔ وہ ہراُس پارٹی کاساتھ دینے کے لئے تیارہے جوعوام کے مفادات کے لئے کام کرے۔ عمران رضاانصاری کے بقول محبوبہ مفتی نے عوامی سطح کے لیڈران کوبالکل نظرانداز کردیاہے اس کے برعکس پارٹی ان لیڈران کے ہاتھ میں چلی گئی ہے جوپارٹی میں کسی نہ کسی طرح اوپرسے ہی گھس آئے تھے۔ محبوبہ مفتی کوناکام وزیراعلیٰ قراردیتے ہوئے عمران رضاانصافی نے ان پرپارٹی کوبربادکرنے کاالزام بھی عائد کیا۔ اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے جب تک مفتی محمدسعید حیات رہے اُنہوں نے حتی الوسع پی ڈی پی کوعوامی پارٹی بنانے کی کوشش کی اوراس میں وہ کامیاب بھی رہے جس کاثبوت 2014کے عام اسمبلی انتخابات سے ہوتاہے جس میں پی ڈی پی 28 سیٹیں جیت کر ریاست کی سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری ۔یہ دوسری بات ہے کہ الیکشن جیتنے کے بعدمفتی محمدسعیدنے حکومت سازی کے سلسلے میں جوبڑاغلط فیصلہ لیا اُس سے عوام بے حدبدظن ہوئے لیکن کسی نہ کسی طرح سے اتحادبھی چلتارہا اورپارٹی کے سلسلے میں اُٹھنے والی مخالف آوازیں مفتی سعیدکے قدکے سامنے دب کرہی رہ گئیں۔ پارٹی میں مفتی صاحب کے اقتدارمیں آنے کے بعد ہی آسمانی سطح کے نام نہاد لیڈروں کوجگہ دی جانے لگی جس کی وجہ سے عوامی سطح کے لیڈرپارٹی سے بدظن ہوکر رہ گئے اوروقتاً فوقتاً انہوں نے اپنی آوازیں بھی بلندکیں لیکن مفتی محمدجیسے قدآوررہنمانے ان آوازوں کوزیادہ پنپنے نہیں دیااوریہ چنگاری اندرہی اندربڑھکتی رہی اورآج پوری طرح سے آگ کی صورت اختیارکرگئی ہے ۔جن آسمانی سطح کے لیڈروں کی وجہ سے یہ چنگاریاں بڑھکتی گئیں ان میں حسیب درابو ،پروفیسرامیتابھ مٹو اورنعیم اخترکے نام اس لئے قابل ذکرہیں کیوں کہ عوام میں ان لیڈروں کی ساکھ صفرکے برابر تھی۔زمینی سطح کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے ان لیڈران کے غلط مشوروں سے ریاست ایک دفعہ پھربدامنی کاشکارہوکررہ گئی ۔ خون خرابے میں تیزی آگئی۔شہری ہلاکتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سرحدوں پرپاکستانی فائرنگ سے سینکڑوں بے گناہ شہیدہوگئے۔پیلٹ اوربلٹ عوام کامقدربن گیا۔غرض ہرطرف ریاست افراتفری کاشکارہوکررہ گئی ۔مفتی محمدسعیدکی موت کے بعد ریاست وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے اورزیادہ تباہی کے دہانے پرکھڑی ہوکررہ گئی ۔اس دورمیں ریاست میں جوخون بہاوہ تاریخ میں سیاہ الفاظ میں لکھے جانے کے قابل ہے۔اپنے والدکی طرح انہوں نے بھی آسمانی سطح کے ان ہی لیڈروں سے صلح مشورے لینے شروع کئے جن سے ان کے والدکیاکرتے تھے ۔نتیجہ یہ نکلاکہ پارٹی کے بڑے رہنماقیادت سے خفارہنے لگے۔ اس دورمیں جس بھی لیڈرنے عوام کے مفادمیں کام کرکے عوام کے دلوں میں تھوڑی بہت جگہ بنالی ان کاسرجلدہی قلم کردیاگیا جس کی مثال ہم حسیب درابو سے دے سکتے ہیں جنھوں نے محکمہ خزانہ کے وزیرکے طورپربعض اہم کام سرانجام دیئے لیکن یہ کام پارٹی کے آسمانی سطح کے لیڈروں کوقطعی طوراچھے نہیں لگے جنھوں نے وزیراعلیٰ کے کان بھرکر درابوکوعہدے سے چلتاکروادیا۔ ادھر وزیراعلیٰ محترمہ محبوبہ مفتی نے جموں کے اُن تمام بڑے لیڈروں کوبھی نظرانداز کردیا جوکسی وقت میں مفتی محمدسعیدکے قریبی ساتھی مانے جاتے تھے اوریوں زمینی سطح کے اکثرتمام لیڈر پارٹی کے اعلیٰ قیادت سے دورہوتے گئے اورآج حالت یہاں پہنچی ہے کہ اکثرکارکن کسی بھی وقت پارٹی سے استعفیٰ دے کرپارٹی کوزمین بوس کردیں گے۔اقتدارمیں آنے کے بعدمحبوبہ مفتی نے ایک اوربڑاغلط کام یہ کیاکہ انہوں نے اکثرلیڈروں پربھروسہ کرنا بالکل ہی چھوڑ دیا اوروہ اب اپنے رشتہ داروں کوپارٹی میں اہمیت دینے لگی۔اُن رشتہ داروں کوجن کومفتی سعیدنے اب تک پارٹی سے کوسوں دُوررکھاتھا ۔تصدق مفتی ،سجادمفتی ،سرتاج مدنی ،فاروق اندرابی ،منصورپیراسی دورکی پیداوارہیں ۔پارٹی میں اتنی تعدادمیں خاندانی افرادکی دخل اندازی نے بھی آہستہ آہستہ پارٹی کے اہم لیڈروں کوپارٹی سے دورکردیااوراس وقت باخبرذرائع کے مطابق تقریباً پی ڈی پی کے 17ایم ایل اے ایسے ہیں جواس خاندانی راج سے سخت نالاں ہیں اورجوکسی بھی وقت دوسری جماعت سے ہاتھ ملاکرنئی سرکاربنانے کاسبب بن سکتے ہیں۔سیاسی پنڈتوں کایہ مانناہے کہ امرناتھ یاتراکے بعدریاست میں بی جے پی ان 17 ممبران اسمبلی کی مددسے حکومت تشکیل دے سکتی ہے ۔وہ اس لیے کہ کانگریس اورنیشنل کانفرنس نے حکومت سازی کی کسی بھی طرح کی تشکیل سے انکارکردیاہے ۔ویسے ماضی کی ایک مثال ہمارے سامنے ہے جب گل شاہ کی قیادت میں ممبران اسمبلی کی ایک اچھی خاصی تعدادنے مرکزکے ساتھ مل کرحکومت تشکیل دی تھی ،ٹھیک اب اسی طرح کی صورتحال ریاست میں ایک دفعہ پھربن رہی ہے۔
پروفیسرشہاب عنایت ملک
9419181351
گورنر راج میں بھی گوجر بکروالوں کے ساتھ امتیازانہ رویہ جاری
جب سے ریاست میں2014میں پی ڈی پی نے252نشستیں اسمبلی میں حاصل کرنے کے بعد فرقہ پرست جماعت سے کرسی یعنی اقتدار کی ہوس کیلئے ایجنڈا آف الاینس کی آڑ میں ہاتھ ملاتے ہی جموں کے فرقہ پرستوں سے دوستی گانڈی گئی۔جسکی ہدایت ہمیشہ ہی ناگپور سے جاری کی جاتی ہے۔گلے لگاتے ہی صوبہ جموں میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہونے لگیں تھیں۔مقصد جموں میں ہندو راشٹرقائم کرنا۔اس خفیہ ایجنڈے کے تحت جنگلات کے نام پر مسلم طبقہ میں کثیر تعداد گوجر بکروالوں بے دخل کرنا شروع کیا۔23مسلم بستیوں کو نشانہ بناتے ہوئے نیست و نابود کیا گیا۔کلے ومکانات مسمار کئے گئے۔اس کے ساتھ ہیJDAمحکمہ کو بھی اس کام کیلئے لگا دیا گیا۔اسکے بعد محکمہ مال و ہاوسنگ کو بھی حرکت میں لایا گیا۔قدم قدم پر مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا گیا۔کیونکہ ان کا ایک ہی مقصد ریاست کو صرف ہندوریاست میں تبدیل کرنا۔نقل مکانی کے دوران گاورکشکوں کی آڑ میں مال مویشی لوٹنا گوجروں کو حراساں اور نقل امکانی پر مجبور کرنا۔ریاست میں سرکاری پلان گوجر بستیوں پر ہی ایک سازش کے تحت تیار کئے جاتے ہیں۔نگروٹہ خانپور پوری بکروال بستی کو مسمار کر دیا گیا۔وجے پور گوجر بستی پر ایمز تعمیر کرنا۔جبکہ ایمز تو جموں میں اس لئے بنانا چاہیے تا کہ یہ ریاست کا مرکزی مقام ہے ڈوڈہ،کشتواڑ،پونچھ،راجوری و وادی تک کیلئے موضوںمقام ہے۔اسکے بعد کٹھوعہ ہیرانگر رسانہ گائوں آصفہ بانو کو عصمت دری و قتل کیا گیا تاکہ تمام جموں سے قبایلی گوجر بکروالوں کو بے دخل کیا جا سکے۔2سال قبل یعقوب گوجر کو پولیس تھانہ کے ایس ایچ او نے گولیوں سے بھون ڈالاتھا۔ہر مقام پر گوجر بکروالوں کا جینا دوبھر کیا گیا۔ہر سال ایک منظم ڈھنگ سے جموں میں تقریباً50گوجر بستیاں نظر آتش ہو جاتیں ہیں۔مئی و جون میں55گوجر بستیاں راکھ کا ڈھیر بن گئیں ہیں۔27جون گئے ہفتہ مال مویشی سے بھرا ٹرک کھوباغ رام بن تھانہ کے اندر نظر آتش کیا گیا۔اگر گورنر نفاذکے دوران آر ایس ایس بھاجپا نے پولیس کی موجودگی میں جلا ڈالا گیا۔ہندوستان میں گاورکشکوں نے مسلمانوں کو قتل کیا گیا ہے۔جسکی مثال رام بن میں بھی اب دکھائی گئی جسکی ذمہ داری سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی پر عائد ہوتی ہے۔کیونکہ2014میں ریاست بھر میں پی ڈی پی کے اقتدار کی خاطر مفتی محمد سعید نے اجنڈا آف ایلائنس کے تحت ہاتھ ملایا تھا۔محبوبہ مفتی نے چند ماہ پہلے کٹر پنتھی ہندو فرقہ پرست پروین توگڑیا و آر ایس ایس پرمکھ موہن بھاگوت کو جموں میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنے کی اجازت دی گئی اور ان لوگوں نے شاکھائوں کے ساتھ ساتھ ہندوئں کو فرقہ پرستی پھیلانے کی خوب چھوٹ دی گئی۔اقتدار میں بیٹھے فرقہ پرست وزیروں نے جلوس میں ہتھیاروں کا ننگا ناچ کیا اور آر ایس ایس پر فخر محسوس کیا گیا۔اسکے بعد مسلم بستیوں میں فسادات پھیلانے کی سازش کی گئی اور مجبوبہ مفتی کی مجرمانہ خاموش و پشت پنائی بھی حمایتی ہے۔کشمیر پہلے ہی بدامنی کا شکار ہے۔اب جموں میں ایسی فرقہ پرستی کا مظاہرہ و کوششیں ناقابل برداشت۔لیکن پولیس کا مبتلا ہونا اور فرقہ پرستوں کی پشت بنائی مسلمانوں کو حراساں کرنے کی کوششیں عیاں ہے۔لیکن یہ سب تو محبوبہ مفتی کے اقتدار میں آنے پر ہوا ہے۔اگر گورنر نفاذ کے دوران ایسا کیا جا رہا ہے تو گرنر جیسے راج میں ہونا۔پولیس پر کوئی کارروائی موجود میں نالانا۔افسوس کا مقام و مسلمانوں کا اعتماد گھٹانا و حراساں کرنا ان باتوں کو ظاہر کرنا ہے کہ ریاستی مسلمانوں کو الگ تھلگ کیا جا رہا ہے۔صدیوں سے خانہ بدوش کی مار جھلتی یہ قوم آج بھی وہاں ہے جہاں70سال پہلے تھی۔لیکن سماج و سرکار نے ہمیشہ ہی نظر انداز کیا گیا ہے رام بن سانحہ پر پولیس و شرپسندوں پر اگر کارروائی نا ہوئی تو گوجر بکروال طبقہ خود کو خداکے سوائے کسی پر اعتماد کریں۔چند ماہ پہلے گورنر راج کے دوران گورنر ااین این وہرہ صاحب نے آباد کاری کی ہدائت دی تھی۔لیکن ہمیشہ ہی ایک فرقہ پرست طبقہ فراموش کر دیتا ہے ہرحکم کو وہ جموں میں گوجر بکروالوں کے خلاف سازشیں اکثر کرتے رہتے ہیں۔امید ہے گورنر راج میں شرپسند وہ پولیس والوں پر کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔تاکہ اس پسمائندہ طبقہ کے ساتھ انصاف ہو سکے۔
چوہدری اختر حسین جموں
99066112871
ریاستی ٹرانسپورٹ پالیسی میں ترمیم کی ضرورت
ریاست جموں و کشمیر میںسیاحت کو بڑھاوا دینے کیلئے ماضی میں ریاستی پبلک سیکٹر ٹرانسپورٹ ،ریاستی اکنامک ڈیویلپمنٹ و ویلفیئرٹریڈرس میںاضافہ ،روزگاری مواقع اور وقتی پسنجر ٹرانسپورٹ خدمات میںکلیدی رول رہاہے اسکے علاوہ قومی خدمات پر سپاہی کی طرح دن رات امن ہو یا جنگ1962,1965,1970راشن سپلائی اور دیگر یاتراقدرتی آفات دربار موو،الیکشن میں پبلک ٹرانسپورٹ نجوبی یا جامع ہے ریاست کے ہر کونے میں رپورٹ سپلائی خدمات میں قابل ستائش رول ہے۔ان دنوں ٹرانسپورٹ کوبھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے،اگرچہ ریاستی سرکار وقتاً فوقتاً بہترین اقدامات اٹھائے ہیں۔ ٹرانسپورٹ خود کفالت کی طرف گامزن ہو جائے لیکن پھر اسکی بھر پائی نہیں ہو پائی وجوہات ریاستی ٹرانسپورٹ پالیسی میں ضروری ترمیم نہ ہونا، گرائونڈ لیبل کے تجربہ کے بجائے ان افسران جو صرف تجربہ کرنے کیلئے ہی ڈپوٹیشن کے طور پر آتے ہیں،جب پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے اکانو ملک روٹوں پر انکریمنٹ،پسنجر ٹرانسپورٹ روٹوں کو چیلنائزنہیں کرنا محکمہ کے اپنے آمدن پوسٹ پلانٹ ورکشاپ،گاڑیوں کی باڈی بلڈنگ یونٹ نہ ہونا اپنی زمین پر آمدن بخش وسائل نہیں جٹانے ،ڈرائیور کلینر ورکرز جو اس ٹرانسپورٹFoundation of transportمیں ان پر محکمہ کھڑا ہوا ہے انکی سروسز کنڈیشن میں نمودار خامیوں کی بھرپائی نہ کرنا انکی شکایات کا سرکار پڑوسی ریاستوں کے سطح پر گرانٹ نہیں دے رہی۔ریاستی ٹرانسپورٹ30کروڑ سالانہ گرانٹ دیتی ہے جو بہت کم ہے جبکہ بیشتر ریاستوں میں100کروڑ سے بھی زیادہ ہوتی ہے ریاستی پبلک نمائندے جو سرکار کے حصے میں انکے علاقوں میں وقتی پنچر سہولیات کی بھاری مانگ ہے لیکن ریاستی پہاڑی و پسمائندہ علاقوں کو سٹیٹ ائور ٹرانسپورٹ بسوں کی سہولیات نہیں ہیں ان لوگوں کو حاصل نہیں رہی اس مقصد سے ریاستی ٹرانسپورٹ پالیسی میں ترمیم کی ضرورت ہے ۔
اجیت سنگھ اڑیال
صدرآل جموں وکشمیرپنشنرز اینڈسول سوسائٹی ایسوسی ایشن
رابطہ نمبر۔9797466932