ناجائز منافع خوروں سے58لاکھ کا جرمانہ وصول | صارفین کو لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی :محکمہ امورصارفین

سرینگر// اشیائے ضروریہ کو اضافی قیمتوں پر فروخت کرنے والوں کے خلاف جامع مہم چھیڑنے کا اعلان کرتے ہوئے محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری نے کہا کہ صارفین اور خریداروں کو لوٹنے والوں کا یوم حساب آگیا۔ محکمہ شہری رسدات امور صارفین وعوامی تقسیم کاری نے گراں فروشوں کے خلاف اپنی مہم جاری رکھتے ہوئے اضافی نرخوںو چور بازاری میں لازمی اشیاء کو فروخت کرنے والوں کے دکانات کو سربمہر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ محکمانہ ذرائع کے مطابق امسال محکمہ کی انفورسمنٹ ونگ نے خریداروں کو لوٹنے والے دکانداروں  سے قریب 58 لاکھ روپے کا جرمانہ وصول کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فروری میں وادی بھر میں 5 لاکھ 75 ہزار 100 روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا جس میں سرینگر میں ہی3لاکھ10ہزار روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا۔ گزشتہ ماہ مجموعی طور پر44دکانات کو سربمہر کیا گیا،جس میں سب سے زیادہ دکان سرینگر میں تھے،جن کی تعداد22تھی،جبکہ کپوارہ میں9اور بارہمولہ میں5دکانات کے علاوہ پلوامہ اور گاندربل میں دو اور بڈگام میں ایک دکان کو سیل کیا گیا۔ فروری میں4دکانداروں کے خلاف پولیس میں مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ امور صاررفین و عوامی تقسیم کاری کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مشتاق احمد وانی جن کو حال ہی میں حکومت نے وادی میں ایگزیکٹو مجسٹریت کے اختیارات بھی سونپے، نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ معصوم خریداروں کو لوٹنے والوںکی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ امسال محکمہ نے گراں فروشوںاور چور بازاری میں اشیائے ضروریہ فروخت کرونے والوں کی90دکانات کو سیل کیا،جبکہ495دکانداروں کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیشتر دکانات جو سیل کئے گئے وہ ان قصابوں اور مرغ فروشوں کے تھے،جنہوں نے سرکاری قیمتوں کو بالائے طاق رکھ کر من مانی قیمتوں پر گوشت فروخت کیا۔مشتاق احمد وانی کا کہنا تھا کہ سبزی اور شیر فروشوں کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی گئی،جبکہ گلی سڑی سبزیوں کو ضائع کیا گیا۔وانی نے کہا کہ عام لوگوں کا بھی رول بنتا ہے کہ وہ دکان داروں کے خلاف محکمہ کو مطلع کریں جو خریداروں کو لوٹتے ہیں۔انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ من مانی طریقے پر خریداروں کو لوٹنے کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی،بلکہ قصور واروں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔