جموں//سماگراہ شکھشاکے تحت محکمہ سکولی تعلیم خصوصی توجہ کے مستحق بچوں کے لئے ٹیکنالوجی کی وساطت سے بہتر تعلیمی سہولیات بہم رکھنے کی کوششوں کے طور پر جموںوکشمیر میں انکلیوسوایجوکیشن کمپونٹ کے تحت قائم کئے گئے ریسورس رومز میں 42 لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے ۔واضح رہے کہ سماگراہ شکھشا کے تحت جموں وکشمیر کے تمام اضلاع میں ریسورس روم قائم کئے گئے تاکہ خصوصی توجہ کے مستحق بچوں کے لئے بہتر تعلیمی سہولیات فراہم رکھی جاسکیں۔ یہ لیپ ٹاپ سی ایس آر فنڈ کے تحت نئی دلّی کے ایک ایجوکیشن سپورٹ گروپ ای ڈی سی آئی ایل نے فراہم کئے ہیں ۔ اِس کی جانکاری یہاں پرنسپل سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے دی۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم حقِ تعلیم کے تحت جموں وکشمیر کے تمام بچوں کو بنا کسی سماجی یا معاشی رُکاوٹ کے مین سٹریم نظام تعلیم کے دائرے میں لانے کے لئے ہرممکن کوششیں کررہا ہے ۔ اُنہوںنے کہا کہ انکلیوسو طرز ِتعلیم کو مزید مستحکم بنانے کے لئے آئی سی ٹی کی مداخلت لازمی ہے اور سماگراہ شکھشا کی طرف تقسیم کئے جارہے لیپ ٹاپ کو ریسو رس روموں میں نصب بریل ٹیکٹائل ریڈر وں سے منسلک کئے جائیں گے جس سے نابینا بچے بھی انٹرنیٹ سہولیت سے مستفید ہوسکتے ہیں۔بریل ریڈریس سماگراہ شکھشا کے تحت حاصل کئے گئے ہیں ،کی کارکردگی اگرچہ کسی حد تک محدود ہے تاہم ان کمپیوٹر مشینوں کے ساتھ منسلک کرنے کے بعد ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا ۔ڈاکٹر سامون نے مزید کہا کہ محکمہ عام لوگوں کے لئے بھی ایسے ریسورس روم قائم کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے تاکہ بصارت سے محروم افراد اپنے علم اور ہنر میں اضافہ کرنے کے لئے انٹرنیٹ سہولیت کا اِستعمال کرسکیں۔ بعد میں پروجیکٹ ڈائریکٹر سماگراہ شکھشا نے کہا کہ محکمہ نے جسمانی طور معذور بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے متعدد اقدامات اُٹھائے ہیں جن میں مشاہراہ کی ادائیگی ، مختلف آلات کی مفت تقسیم وغیرہ شامل ہیں تاکہ وہ بھی مین سٹریم نظام تعلیم سے مستفید ہوسکیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ یوٹی میں نشاندہی کئے گئے ایسے تمام بچوں بالخصوص جو درج نہیں ہیں کو تمام تعلیمی، علاج ومعالجہ اور کونسلنگ مدد ان خصوصی ایجوکیٹروں کے ذریعے فراہم کرنے کے لئے تمام اِقدامات کئے جارہے ہیں۔