نئے لیڈر کے انتخاب تک عمران خان پاکستان کے قائم مقام وزیر اعظم رہ سکتے ہیں

اسلام آباد//پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے ہفتہ کے روز کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد منظوری ہونے کے بعد بھی وہ نئے لیڈرکا انتخاب ہونے تک ملک کے قائم مقام وزیر اعظم کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔
 
 رشد نے جمعہ کی رات میڈیا کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 94 کے مطابق ایوان کا اعتماد کھو چکے ایوان کے لیڈر کو صدر نئے لیڈر کے انتخاب تک قائم مقام وزیر اعظم کے طور پر کام کرنے کو کہہ سکتے ہیں۔
 
ڈان کی رپورٹ کے مطابق مسٹر راشید نے کہا کہ ایوان زیریں میں تحریک عدم اعتماد منظور ہونے کے بعد نئے لیڈر کے انتخاب کا عمل کب تک جاری رہے گا اس سوال پر آئین میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
 
اپوزیشن کی جانب سے گزشتہ ماہ قومی اسمبلی میں عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی اور اس پر اتوار کو ووٹنگ ہونے کا امکان ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک کو غیر ملکی سازش قرار دیتے ہوئے رشید نے اپوزیشن جماعتوں پر اس سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔
 
انہوں نے تحریک عدم اعتماد سے نمٹنے کے لیے تین متبادل اختیار کرنے کا کہا، پہلا یہ کہ ملک میں رمضان یا حج کے بعد ہی انتخابات کرائے جائیں یا پھر تحریک عدم اعتماد لا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کر نے والی اپوزیشن جماعتوں پی ایم ایل۔ ن، پی پی پی جے یو آئی ایف پر پابندیاں لگاتے ہوے ان کے خلاف انکوائری بٹھائی جائے اور تیسرے متبادل کے طور پر پی ٹی آئی کے اراکین تمام اسمبلیوں سے استعفی دے دیں۔
 
رشید نے عمران خان کے حق میں حمایت کا اظہار کرتے ہوئےکہا ’’اپوزیشن اپنے ہی بچھائے جال میں پھنسی گئی ہے۔ اس ناکامی میں بھی عمران کو شہرت مل رہی ہے۔ ہماری حکومت میں بھی کمیاں ہیں لیکن میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگ اپوزیشن جماعتوں کے لوگوں کا منہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔