کلکتہ//بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے مرکز ی حکومت کے مجوزہ ‘‘بجلی ترمیمی بل’’ کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ یہ بل وفاقی ڈھانچہ کے خلاف ہے اور اس بل کی وجہ سے ریاستی حکومت کا پاورسیکٹر سے کنٹرول ختم ہوجائے گا۔ممتابنرجی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ گزشتہ سال اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات کی وجہ سے اس بل کو پیش نہیں کیا گیا تھا مگر ایک بار پھر اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جارہا ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ آئین میں بجلی ایک مشترکہ مسئلہ ہے ، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس بل کی منظوری کے نتیجے میں ریاست کا پاور سیکٹر پر کنٹرول نہیں رہے گا۔ جو کہ ملک کے وفاقی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہے ۔ خط میں ممتا نے وزیر اعظم کو یاد دلایا ہے کہ 12 جون ، 2020 کے ایک خط میں میں نے آپ کو متنازعہ بل کی خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔اتفاق سے نئے بجلی کے قانون کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ بجلی کے بل کی مکمل رقم سب سے پہلے صارفین کو ادا کرنی ہوگی۔ بعد میں انہیں سبسڈی کی رقم بینک اکاؤنٹ میں واپس مل جائے گی۔ لیکن اس کے نتیجے میں ، بہت سے صارفین پیسوں کی کمی کی وجہ سے اپنے بل وقت پر ادا نہیں کر پائیں گے ، وزیراعلیٰ نے خدشہ ظاہر کیاکہ اس صورت میں گاؤں کے بہت سے غریب کے گھر کی بجلی کٹ جائیے گی۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی الزام لگایا کہ مجوزہ نیا پاور قانون ملک کے وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔