نئی صنعتی پالیسی میں ترمیم کی جائے: الطاف بخاری

 سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے مطالبہ کیا ہے کہ جموں وکشمیر میں تمام صنعتی یونٹ ہولڈرز جنہوں نے 2019سے اپنے یونٹس لگائے ہیں، کو بھی نئی صنعتی پالیسی کے تحت فوائد حاصل کرنے کا اہل قرار دیاجائے۔ یہاں جاری ایک بیان میں بخاری نے صنعتی یونٹ ہولڈرز جنہوں نے یکم اپریل 2019کے بعد مینوفیکچرنگ پلانٹس، مشینری اور غیر منقولہ اثاثہ جات قائم کئے ہیں، کو نئی صنعتی پالیسی سے باہررکھے جانے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’شق7.5میں کیپٹل انویسٹمنٹ ، کیپیٹل انٹرسٹ سبوینشن اور جی ایس ٹی سے متعلق جو فوائد ہیں ،وہ کلی طور غیر منصفانہ اور امتیازی نوعیت کے ہیں،حکومت کو چاہئے کہ 2019سے قائم سبھی صنعتی یونٹ ہولڈرز کو بھی پالیسی کے زمرہ میں لانے کے لئے شق میں ترمیم کی جائے‘‘۔بخاری نے کہاکہ جموں وکشمیر میں 2019سے  حالات ٹھیک نہیں رہے، اُس کے بعد کورونا وباء لاک ڈاؤن سے سبھی تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں، ایسے میں جموں وکشمیرمیں صنعتی شعبہ کی احیاء کے لئے محکمہ صنعت کے لئے نئے مرکزی سیکٹر اسکیم کے تحت ایک خوش آئند قدم ہے لیکن 2019کے بعد قائم صنعتی یونٹس کو اِس سے مستثنیٰ رکھے جانا امتیازی سلوک اور ناپسندیدہ تفاوت کے احساس کو جنم دیتا ہے ۔بخاری نے کہاکہ تاریخی مرکزی صنعتی ترقیاتی اسکیم کی موثر عمل آوری کے لئے کوئی علیحدہ طریقہ کار نہ اختیار کیاجائے جس کا مقصد جموں وکشمیر میں صنعتی شعبہ کی بحالی ہے، قابل ِ افسوس ہے کہ 2019-20کے دوران قائم کئے گئے صنعتی یونٹس کو باہر رکھاگیا جوکہ نئی مرتب کردہ صنعتی پالیسی کے اغراض ومقاصد کے متضاد ہے۔ انہوں نے کہاکہ صنعتی یونٹس اور چھوٹے انٹرپرائزز کو 2019میں دفعہ370کی منسوخی کے بعد سخت لاک ڈاؤن اور مواصلاتی بندشوں سے بھاری نقصان اُٹھانا پڑا ہے، اُس کے بعد کووِڈ19بحران نے تجارت اور مینوفیکچرنگ شعبہ کو متاثر کیا لیکن اب صنعتی مراکز چھوٹے یا بڑے وہ نئی صنعتی پیکیج سے پر اُمید تھے کہ اِس سے اُنہیں ہوئے بھاری نقصان کی کچھ حد تک بھرپائی ہوگی۔مگرپالیسی سازوں نے صنعتی یونٹ ہولڈرز کے وسیع حلقہ کے لئے اِس میں راحت نہیں رکھی جن کا گناہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے صنعتی مراکز 2019-20کے دوران قائم کئے ۔ انہوں نے وزیر داخلہ اور مرکزی وزیر برائے صنعت وحرفت سے اپیل کی ہے کہ وہ اِس معاملہ میں مداخلت کر کے مقامی صنعتکاروں، انٹرپری نیئرز اور چھوٹے کاروباری مالکان جنہیں پچھلے دو سالہ افراتفری اور کورونا وباء کی وجہ سے بھاری نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ یکم اپریل 2019کے بعد قائم سبھی صنعتی یونٹس کو بھی نئی صنعتی پالیسی کے تحت مراعات سے مستفید ہونے کے اہل قرار دیاجائے ۔