محمد بشارت
راجوری// گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک خاتون نصرت جان کی بچے کو جنم دینے کے کچھ وقت بعد موت واقع ہو گئی۔ اس واقعہ کے بعد پورے علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ اہل خانہ نے ہسپتال کے طبی عملے پر مبینہ لاپرواہی اور غلط انجکشن لگانے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔اہل خانہ کے مطابق نصرت جان کی ڈلیوری کامیابی کے ساتھ انجام پائی تھی اور زچگی کے بعد ان کی حالت مکمل طور پر نارمل تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ خاتون کو کسی قسم کی پیچیدگی یا طبی پریشانی لاحق نہیں تھی، تاہم اچانک ایک نرس کی جانب سے انجکشن لگائے جانے کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ لواحقین کے مطابق نصرت جان نے خود انجکشن لگنے کے فوراً بعد کہا تھا کہ انہیں غلط انجکشن دیا گیا ہے اور ان کی حالت غیر معمولی طور پر خراب ہو رہی ہے۔اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ انجکشن لگنے کے چند ہی لمحوں بعد خاتون بے ہوش ہو گئیں جس کے بعد انہیں فوری طور پر طبی نگرانی میں رکھا گیا، مگر وہ مسلسل تین دن تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہیں اور بالآخر دم توڑ گئیں۔ اس واقعہ کے بعد لواحقین اور مقامی لوگوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔
حادثے کے بعد ہسپتال میں احتجاجی ماحول دیکھنے کو ملا جہاں اہل خانہ اور عوام نے ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ طبی عملے کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور ذمہ دارانہ طبی دیکھ بھال فراہم کی جاتی تو شاید ایک قیمتی جان بچائی جا سکتی تھی۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ نے ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے دو نرسوں کو معطل کر دیا ہے جبکہ محکمانہ تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے آنے پر مزید قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گیدریں اثنا عوامی حلقوں میں جی ایم سی راجوری کی طبی سہولیات اور مریضوں کی دیکھ بھال کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں نگرانی کے مؤثر نظام، عملے کی جوابدہی اور مریضوں کے بہتر علاج معالجے کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔مرحومہ کے جنازے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے معروف مذہبی شخصیت مفتی غلام محی الدین نے واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور ہسپتال انتظامیہ و متعلقہ حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’جی ایم سی راجوری کو ذبح خانہ بنا دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر حضرات اپنی نجی کلینکوں میں مصروف رہتے ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں مریض بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر مشکلات کا شکار ہیں۔‘‘انہوں نے سیاسی نمائندوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے جاتے ہیں لیکن کامیابی کے بعد عوامی مسائل حل کرنے میں سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں انسانی جانوں کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے جو انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔مفتی غلام محی الدین نے مطالبہ کیا کہ نصرت جان کے اہل خانہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور اگر تحقیقات میں کسی بھی فرد کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے حکومت جموں و کشمیر سے اپیل کی کہ جی ایم سی راجوری میں طبی نظام کی خامیوں کو دور کرنے اور مریضوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔واقعہ کے بعد پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ عوام شفاف، غیر جانبدار اور تیز رفتار تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم واقعہ کی اصل وجوہات کا تعین سرکاری تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔