مینڈھر// مینڈھر میںسکولی بچوں کیلئے سرکار نے بسوں کا انتظام نہیں کیا ہے اور سکولی بچے ٹاٹا سومو گاڑیوں پر سفر کرکے سکول آتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کئی طلاب نے کہا کہ بسیں نہ ہونے کی وجہ سے صبح اور شام کو انہیں کئی گھنٹوں تک گاڑیوں کا انتظار کرنا پڑتاہے جسکی وجہ سے ان کی پڑھائی بھی متاثر ہوررہی ہے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج مینڈھر کی طالبہ تسلیم اختر نے کہا ’’ بسیں نہ ہونے کی وجہ سے ہماری صبح کئی کلاسیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں کیوں کہ ہمیں کئی گھنٹوں تک سڑک پر کھڑا رہ کر گاڑی کا انتظار کرنا پڑتاہے اور شام کو جب ہم واپس گھر جاتے ہیں تو اس وقت بھی بس اڈہ مینڈھر پر گاڑی کا انتظار میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں‘‘۔ انکا کہنا تھا کہ سب ڈویژن مینڈھر کے اندر صرف دو یا تین بسیں چلتی ہیں جنکا ٹائم ٹیبل کوئی نہیں ہے اور سکولی بچوں کو ٹاٹا سومو گاڑیوں پر سفر کرنا پڑتاہے جہاں پر کرایہ بھی ڈرائیور طبقہ من مرضی سے لیتاہے۔محمد جمیل نے نامی طالب علم نے کہا کہ اس مسئلہ کی وجہ سے ان کی پڑھائی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بسیں نہ ہونے کی وجہ سے دوردرارز کے طلباء و طالبات شام دیر گھر پہنچتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں پڑھائی میں کئی قسم کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔انکا کہنا تھا کہ سب ڈویژ ن مینڈھر کے اندر مزید بسیں یا گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں لگائی جائیں تاکہ سکولی بچے آرام سے سفر کرسکیں ۔