طارق شبنم
سورج اپنے آخری پڑائو پر تھا، دلفریب شفق سورج کو وداع کر رہی تھی۔ خوش لحن پرندے سریلی آواز میں چہچہاتے ہوئے اپنے اپنے آشیانوں کی جانب محوپر واز تھے ۔بڑا ہی دلفریب اور پر لطف منظر تھا لیکن پروفیسر وحید اس خوب صورت منظر سے بے نیاز افسردگی کی حالت میں سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے سوچ کے گہرے سمندر میں گم آنگن میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔
’’اب آپ کھانا پینا بھی بھول جاتے ہو، چلئے چائے تو پی لیجئے‘‘۔
دفعتاًاپنی بیگم کی آواز سن کر وہ چونکا ،سوچوں کے خول سے باہر آکر خود سے کچھ بڑ بڑاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوگیا اورحسب عادت ٹیلی ویژن آن کیا۔
’’شہر کے مصروف ترین بازار میںبم حملے میں کئی لوگ ہلاک،بیسوں زخمی۔۔۔۔۔۔ا سکولی طالبہ دن دھاڑے اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کی شکار۔۔۔۔۔۔‘‘۔
دلدوز چیختی سرخیاں اور خون میں لت پت انسانی لاشوں کے اذیت ناک مناظر سے دل برداشتہ ہو کراس نے چینل بدلا۔
’’دو گروہوںکے بیچ ہوئی تصادم آرائی میںکئی لوگو ںکی موت، عورتوں اور معصوم بچوں سمیت درجنوں زخمی۔۔۔۔۔۔ پر تشدد واقعات میں کئی رہائشی مکانات نذآتش۔۔۔۔۔۔‘‘
ٹیلی ویژن اینکر سماٹ لہجے میں مصالحہ ڈالتے ہوئے دہشت ناک خبروں کی ترسیل کر رہی تھی۔
خون میں نہلائی انسانی لاشیں۔۔۔۔۔۔ تڑپتے بے بس معصوم بچوں اور عورتوں کی چیخ و پکار۔۔۔۔۔۔ آگ زنی اور افرا تفری کے خوفناک مناظر دیکھ کر اس کا کلیجہ منھ کو آگیا،انگ انگ جیسے درد کی شدت میں ڈوب گیا۔
’’اُف میرے خدا۔۔۔۔۔۔یہ قتل و غارت۔۔۔۔۔۔ مار دھاڑ۔۔۔۔۔۔عصمت دری۔۔۔۔۔۔ اغوا کاری۔۔۔۔۔۔ڈاکہ زنی۔۔۔۔۔۔حرص کی بھٹی میں سلگتا سیاہ دل انسان خونخوار درندے کا روپ دھارن کرکے اپنے ہی ہم جنس کے خون کا پیاسا ہوگیا ہے۔ آئے روز بڑی بے دردی سے انسانی خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے ، کب کہاں کس وقت موت کا خونین رقص کھیل کرانسانیت کی مٹی پلید کردی جائے کچھ پتا نہیں۔کہاں گیا وہ آپسی محبت اور بھائی چارہ۔۔۔۔۔۔؟‘‘۔
خود کلامی کرتے ہوئے اس نے وحشت زدہ ہو کر ٹیلی ویژن بند کردیا اور چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے دوبار ہ گہری سوچوں میںکھو گیا۔۔۔۔۔۔ ۔رات کی سیاہی گہری ہونے کے ساتھ ہی اپنے بیٹے عامر کو لے کر اس کی پریشانی بڑھنے لگی اور وہ کھڑکی کھول کر بے قراری کے عالم میں اس کی راہ تکنے لگا۔ جب بے قراری حد سے بڑھنے لگی تو وہ فون اٹھا کر عامر کا نمبر ملانے لگا، لیکن اسی لمحے عامردروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔عامر کو دیکھتے ہی پروفیسربغیر کچھ پوچھے دیر سے گھر لوٹنے پر اس پر برس پڑا۔۔۔۔۔۔ عامر جو اس کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھا خاموشی سے اس کی تیز و ترش جھڑ کیاں سنتا رہا۔جب وہ خاموش ہوگیا تو عامر نے تھیلے سے مٹی کا ایک برتن نکال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’یہ دیکھو پا پا، تمہارے لئے۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’ خوشحال پوری برتن۔۔۔۔۔۔‘‘۔
برتن دیکھتے ہی پروفیسر کے منُہ سے بے ساختہ نکلا اور وہ خوشی سے اچھلتے ہوئے ہاتھوں میں لے کر برتن کو کن اکھیوں سے دیکھنے لگا جیسے اس کو کوئی خزانہ مل گیا ہو۔
’’ بیٹا۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔۔یہ برتن تم نے۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’پاپا۔۔۔۔۔۔یہ برتن خوشحال پور کی بُوا نے تمہیں بھیجا ہے اورساتھ ہی یہ بھی کہلاوا بھیجا ہے کہ تمہاری بہت یاد آرہی ہے،اس سال گونگل( فصل بوائی ) کے میلے میںضرور شرکت کرنا‘‘۔
عامر نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’خوشحال پور۔۔۔۔۔۔ گونگل ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
عرصہ دراز بعد یہ الفاظ سن کر پروفیسر کا دل مچل اٹھا ،نفسیاتی زیروبم میں ہلچل مچ گئی۔
’’بیٹاــــ۔۔۔۔۔۔میںضرور خوشحال پور جائونگا‘‘۔
اس نے مسکراتے ہوئے پر جوش لہجے میں کہا اور سر کھجاتے ہوئے خوشحال پور کے لمبے سفر کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔۔۔۔لیکن کچھ لمحوں بعد ہی اس کے ماتھے پر پریشانی کے آثار نمودار ہوگئے ،چہرے پر تنائو کی گہری لکیریں نمایاں ہوگئیں۔ دیر تک سوچ کے اتھاہ سمندر میں گم رہنے کے بعد وہ پریشانی کی حالت میںبستر پر لیٹ گیا۔
خوشحال پور ایک دور دراز پسماندہ علاقہ تھا جہاں نہ ترقی کی چکا چوند تھی اور نہ ہی زندگی کی جدید سہولیات میسر تھیں، لیکن پھر بھی وہاں کے لوگ دنیا کے جھنجھٹو ں سے بے خبر سادہ طریقے سے مزے دار زندگی گزار رہے تھے۔ وہاں جانے کے لئے پہلے ٹرین پھر اونچے ،کچے راستوں سے گاڑی کے سفر کے بعد کئی میل پیدل چلنا پڑتاتھا۔ عامر جو پروفیسر کے مزاج سے واقف تھا کو ذرا بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اس لمبے دشوار گزار سفر پر جانے کے لئے تیار ہوگا کیونکہ وہ کچھ عرصے سے عجیب ذہنی تنائو میں مبتلا تھا۔ اکثر اوقات بے نام سے خوف و اضطراب میں مبتلا رہتا تھا اور عجیب عجیب حرکتیں کرتا رہتا تھا جب کہ اشد ضرورت پڑنے پر ہی گھر سے باہر جانے پر راضی ہوتا تھا۔عامر،جو پروفیسر کی ذہنی حالت سے فکر مند تھا ، بھی بستر پر لیٹ کر اسی کے بارے میں ہی سوچنے لگا۔
آج صبح پروفیسرعامر کے ساتھ ہی ڈاکٹری چک اپ کے لئے اسپتال گیا تھا، لیکن وہاں پہنچتے ہی خوف میں مبتلا ہو کراپنی باری کے انتظار میں بے چینی سے ٹہلنے لگا۔ ماتھے سے ٹھنڈ ے پسینے کے قظرے چھوٹنے لگے اور ٹانگیں کپکپانے لگیں کیوں کہ بھیڑ بھاڑوالی جگہوں سے اسے سخت ڈر لگتا تھا ۔دل میں طرح طرح کے اندیشے جنم لینے لگتے تھے۔اس کے صبر کاپیمانہ جب لبریز ہوگیا تو تھر تھر اتے ہوئے عامر سے مخاطب ہوا۔
’’ چلو بیٹا گھر چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر کھبی آئیں گے ڈاکٹر سے ملنے‘‘۔
’’ کیوں پاپا؟‘‘
’’ بیٹا یہاں بہت بھیڑ ہے،اگر کچھ ا نہونی ہوگئی تو ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’کچھ نہیں ہوگا پاپا۔۔۔۔۔۔ آپ خوا مخواہ گھبرا رہے ہیں،اتنے لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں‘‘۔
عامر نے اس کا خوف دور کرنے کے لئے مسکراتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر سے ملنے کے بعد جب وہ گھر کی طرف روانہ ہوئے تو حسب
معمول اس نے کئی بارعامر کو یہ کہہ کر گاڑی کی رفتار کم کرنے کوکہا کہ اگر کوئی حادثہ پیش آیاتو ہم دونوں مارے جائینگے،حالانکہ گاڑی کی رفتار چالیس سے بھی کم تھی۔گھر پہنچتے ہی اس نے پوتی کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔یہ سن کر کہ وہ اکیلی ہی کالج چلی گئی وہ یہ کہہ کراپنی بیگم اور بہو پر برس پڑا کہ جوان لڑکی کو اکیلے کیوں جانے دیا،اگر اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا تو۔۔۔۔۔۔؟اس نے جھنجلا ہٹ کے عالم میں فون پر پوتی سے بات کر کے اس کی خیرو عافیت دریافت کی اور اطمینان کی سانس لے کر اخبار کا مطالعہ کرنے میں محو ہو گیا۔
ترقی اور جدید یت کے رسیا پروفیسر کی زندگی کا سفر کچھ کم دلچسپ نہیں تھا ۔وہ نہ صرف انتہائی ذہین،قابل اور محنتی انسان تھا بلکہ پُر اعتماد اور با رعب شخصیت کا مالک بھی تھا۔پروفیسر بنتے ہی اس نے اپنے آبائی علاقے کو چھوڑ کر شہر میں رہائیش اختیار کرلی اوروہاں کے سارے رشتے ،ناطے ،یاریاںسب بھول گیا ۔اسے اس بات پر ناز تھا کہ اس نے پسماندہ خوشحال پور سے شہر تک کا سفر انتہائی کامیابی سے طے کرکے زندگی کی تمام آرام دہ سہولیات حاصل کرلی تھیںاور وہ بڑی ٹھاٹ بھاٹ سے زندگی گزار رہا تھا۔نوکری سے سبکدوش ہونے کے بعد اس نے نئے ڈھنگ سے زندگی جینی شروع کردی۔شہر میں اس کا کوئی رشتہ یا جان پہچان نہیں تھی ،اسلئے دن بھرگھر میں بیٹھ کر اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرنا، ٹیلیویژن اور انٹرنیٹ پر مزے لے لے کر دنیا بھر کے حالات و واقعات کی جانکاری حاصل کرنا اس کا محبوب مشغلہ بنتا گیا۔ دیر رات تک مختلف ٹیلی ویژن چینلوں سے دنیا بھر میں رونما ہونے والے حالات و حاد ثات کا مشاہدہ کئے بغیر اس کو قرار نہیں آتا تھا۔
پروفیسر اپنی ہی مستی میں مست لطف کی زندگی گزار رہا تھا ،کہ اسی دوران ایک دن اس کے ایک دوست کو نقب زنوں ،جو اس کے گھر میں نقب لگانے کی غرض سے آئے تھے ،نے بے دردی سے مار ڈالا ۔ اس واقعے کا حساس طبیعت کے مالک پروفیسر کی زندگی پر گہرا اثر پڑا ۔اس کے مزاج میں عجیب تبدیلیاں وقوع پذیر ہونا شروع ہوگیں۔۔۔۔۔۔ وہ گھنٹوں گہری سوچوں میںگم رہنے لگا۔۔۔۔۔۔ حد سے زیادہ حساس اور ڈرپوک بن گیا۔۔۔۔۔۔ہر وقت وسوسوں اور اندیشوں میں گھرا رہنے لگا۔۔۔۔۔۔گاڑی یا ٹرین میں سوار ہوتے ہی ا سے یہ خوف ستانے لگتا تھا کہ یہ ا بھی حادثے کی شکار ہوجائے گی یا ڈاکو اس پر حملہ آور ہو کر سب کو مار ڈالینگے۔۔۔۔۔۔ بچوں کے اغوا ہونے کا خوف۔۔۔۔۔۔جوان لڑکیوں کے گھر سے نکلتے ہی سخت فکر مند ہونا۔۔۔۔۔۔ غرض دن رات اس کے دل میں خطرے کی گھنٹیاں بجتی ر ہتی تھی۔ شام کو جب تک نہ سارے افراد خانہ گھر پہنچ جاتے وہ سخت بے چین رہتا تھا اور غصے اور چڑ چڑے پن کی وجہ سے گھر والوں کو بھی پریشانی میں ڈال دیتا تھا۔ اس کی بدلتی ذہنی حالت دیکھ کر عامر نے اس کو کئی بار گھومنے پھرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔
’’ پاپا۔۔۔۔۔۔گھر میںبیٹھے بیٹھے دن بھر ٹی۔وی کے ساتھ چپکے رہنے سے آپ تذبذب اور پریشانی میں مبتلا رہتے ہو جس کا اثر آپ کے ذہن پر پڑ رہا ہے اور آپ ہر وقت اول فول بکتے رہتے ہو‘‘۔
’’ بیٹا۔۔۔۔۔۔ تم کو لگتا ہے کہ میری ذہنی حالت خراب ہے، ایسا بالکل نہیں ہے، بلکہ میرا ماننا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر انسان کوکوئی رسک نہیں لینا چاہیے ‘‘۔
وہ بڑے پر اعتماد لہجے میں جواب دیتا تھا۔ دیر رات تک سوچوں کی بھول بھلیوں میں کھوئے رہنے کے بعد عامر بھی نیند کی میٹھی آغوش میںچلا گیا۔
’’ بھاگ جائو ۔۔۔۔۔۔یہ کالے درندے سب کو مار ڈالینگے۔۔۔۔۔۔سب بھاگ جائو۔۔۔۔۔۔‘‘۔
رات کے آخری پہر پروفیسر نے حواس باختگی کے عالم میں چلاتے ہوئے ایک دم بستر سے اٹھ کر کھڑکی کھولی۔چیخیں سن کر اس کی بیگم کی آنکھ کھلی ،وہ جھٹ سے اٹھی اور پروفیسر کو زور سے تھاما۔
’’ مجھے مت مارو۔۔۔۔۔۔خدا کے لئے مجھے جانے دو۔۔۔۔۔۔ میں اپنا سب کچھ تمہیں دے دوں گا لیکن مجھے جانے دو۔۔۔۔۔۔‘‘۔
وہ پہلے ہاتھ باندھ کر منتیں کرنے لگا پھر زار و قطاررونے لگا۔اسی لمحہ عامر بھی جاگ اٹھا اور آنکھیں ملتے ہوئے گویا ہوا۔
’’ پاپا۔۔۔۔۔۔ کوئی ڈراونا خواب دیکھا کیا؟‘‘
’’ بیٹا۔۔۔۔۔۔ان بے رحم لٹیروں نے خوشحال پور جانے والی ٹرین پر حملہ کرکے بہت سے لوگوں کو مار ڈالا۔۔۔۔۔۔چلو بھاگ جائو۔۔۔۔۔۔ ورنہ یہ وحشی درندے ہم سب کو مار ڈالینگے۔۔۔۔۔۔‘‘۔
کہتے ہوئے اس کی آنکھیں خون کی طرح سرخ ہوگئیں اور جسم کا سارا لہو جیسے دماغ کی شریانوں میں منجمد ہو گیا۔اس نے ایک زوردار جھٹکے سے بیگم کو ایک طرف دھکیل دیااورکھڑکی طرف بڑ کر چھلانگ مارنے ہی والا تھا کہ عامر نے اسے زور سے تھام لیا۔
اس دن کے بعد پرفیسر کی ذہنی حالت کچھ زیادہ ہی بگڑ گئی لیکن وہ خوشحال پور جانے کے لئے بضد رہا۔مجبوراًعامر نے دفتر سے پندرہ دن کی چھٹی لی اور پروفیسر کے ساتھ وہ اور اس کی ماں بھی خوشحال پور کے لئے روانہ ہوئے ۔ٹرین اور بس کے سفر کے دوران پروفیسر سخت خوف اور اضطراب میں مبتلا رہا ،لیکن بس سے اتر کر پا پیادہ چلتے ہوئے جوں ہی وہ خوشحا ل پور کے مضافات میں داخل ہوئے تو ارد گرد کے نظارے دیکھ کر پروفیسر کھو سا گیا ۔وسیع رقبے پر بنے سادہ سے مکانات ،صاف ستھرے کھلے راستے ،خوبصورت درختوں اور سبزے کی بہتات ،صاف و شفاف آب و ہوا اور تا حد نظر پھیلے باغات اور کھیت کھلیان فطرت سے قریب محسوس ہورہے تھے ۔دہائیوں بعد اپنے آبائی گائوں پہنچ کر پروفیسر اپنے بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروںسے مل کر بہت رویا ۔آنکھوں سے خوب اشک بہانے کے بعد وہ اپنے آبائی گھر کو دیکھنے لگا۔ گھر کے چاروں اوربے شمار چھوٹے چھوٹے پھولدار پودے قوس قزا ح کے رنگ بکھیر رہے تھے جب کہ مختلف قسم کے لدے پھندے میوہ درخت بھی دلکش منظر پیش کر رہے تھے ۔مرکزی دروازے پر لگی انگور کی بیل گھر کی دیوار پر پھیلی تھی جس پر انگوروں کے بڑے بڑے گچھے لٹک رہے تھے جب کہ عقب میں دور تک پھیلا گھاس کا میدان تھا جہاں گھوڑے،بکریاں اور گائیں چر رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔ وہ کافی دیر تک اس دل موہ لینے والے منظر سے محظوظ ہوتارہا۔
دوسرے دن گونگل میلہ شروع ہوگیا اور پروفیسر خلاف توقع اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا۔ وہ اپنے رشتہ داروں ،بچپن کے دوستوں اور ساتھیوں سے اس قدر گھل مل گیا کہ ا خبار، ٹیلیو یژن،سوشل میڈیا سب بھول گیا ۔دن بھر ان کے ساتھ کھیت کھلیانوں ،میوہ باغوں اور دیگر کھلی جگہوں پربے فکری سے گھومتاتھا اور رات دیر تک ان کے ساتھ گپ شپ میں مصروف رہتا تھا ،اس دوران اُس نے اپنے گھر کی صفائی ستھرائی کروائی ،جب کہ اس کی ذہنی حالت میں بھی کافی سدھار آگیااور وہ پر سکون ہو گیا۔
گونگل میلہ اختتام کو پہنچ گیا لیکن پروفیسرواپس شہر جانے کا نا ہی نہیں لے رہا تھا۔ آخر ایک شام عامر نے اسے کہا ۔
’’پا پا ۔۔۔۔۔۔ میری چھٹیاں ختم ہو گئیں ،سب سے رخصت لے لو ،کل ہم واپس لوٹ جائیں گے ۔سفر لمبا ہے ا ور دشوار بھی اسلئے ہم کو سویرے ہی نکلنا ہوگا‘‘۔
’’تمہارا جانا ضروری ہے بیٹا ۔۔۔۔۔۔لیکن ہمارادشوار سفراب ختم ہو گیا ہے‘‘۔
’’ میں کچھ سمجھا نہیں پاپا‘‘۔
’’بیٹا۔۔۔۔۔۔ ترقی اور جدیدیت کی دوڑ میں میں اپنا سب کچھ کھو بیٹھا تھا ،یہاں تک کہ اپنے آپ کو بھی۔اب میں نے خود پسندی کی عینک کو پھینک کر اس اندھیرے کے قید سے خود کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ‘‘ ۔
’’کیا مطلب۔۔۔۔۔؟‘‘
’’مطلب یہ کہ اب ہم خوشحا ل پور میں ہی خوشی سے رہیں گے ‘‘۔
پرفیسر نے اپنی بیگم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فلسفیانہ انداز میں کہا۔
���
اجس بانڈی پورہکشمیر
ا ی میل؛ [email protected]