ہرارے //زمبابوے کے سابق کپتان برینڈن ٹیلر نے ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی فکسنگ میں ملوث نہیں ہیں۔ ٹیلر نے انکشاف کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ان کے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر پر 'ایک ہندوستانی تاجر' کی طرف سے بدعنوانی کی تجویز کی اطلاع دینے میں مبینہ تاخیر کے بعد کئی سال کی پابندی عائد کرنے جارہی ہے ۔ ٹیلر نے اس بزنس مین سے ملاقات کی تھی جب انہیں اسپانسرشپ اور زمبابوے میں ٹی 20 ٹورنامنٹ کے ممکنہ آغاز پر بات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ ٹیلر نے اکتوبر 2019 میں پیش آنے والے واقعہ کی رپورٹ درج کرنے میں تاخیر کی۔ اس میں ہندوستان میں ایک میٹنگ بھی شامل تھی جس کے دوران مبینہ طور پر منشیات کا استعمال ہوا۔ اس ملاقات کے بعد ٹیلر کو مبینہ طور پر بلیک میل کیا گیا تھا۔ اس نے اس تجویز کی رپورٹ درج کرنے میں تاخیر کی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ وہ اپنے خاندان سمیت ہر کسی کی حفاظت کر سکتا ہے ۔ وہ آخر کار اپنی شرائط پر آئی سی سی کے پاس گئے اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ 'اگر میں اپنی حالت زار اور اپنی حفاظت اور فلاح کے لیے اپنے خوف کے بارے میں بتاؤں تو وہ اس تاخیر کو سمجھ جائیں گے '۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا کہ وہ کبھی بھی کسی قسم کی میچ فکسنگ میں ملوث نہیں رہے ۔ اپنے تحریری بیان میں ٹیلر نے بتایاکہ"اکتوبر 2019 میں ایک ہندوستانی تاجر نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اسپانسر شپ اور زمبابوے میں ایک نئے ٹی۔ٹوئنٹی ایونٹ کے ممکنہ آغاز کے بارے میں بات کرنے کے لیے ہندوستان کا دورہ کروں۔ مجھے بتایا گیا کہ اس سفر کے لیے مجھے تقریباً 11 لاکھ روپے دیے جائیں گے ۔یواین آئی