میرواعظ مولوی محمد فاروق کی 31ویں برسی

سرینگر// انجمن نصرۃ الاسلام نے انجمن کے سابق صدر میرواعظ مولوی محمد فاروق کی 31ویں برسی پر مرحوم کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے انجمن کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے کے تعلق سے انکے کو ناقابل فراموش قرار دیا۔انجمن نے موصوف کی تعلیمی اور اصلاحی خدمات اور پورے کشمیر میں تعلیم کو عام کرانے کے تعلق سے اُن کی کوششوںکو سراہتے ہوئے کہا کہ موصوف کی شدید خواہش اور کوشش تھی کہ ہماری نوجوان نسل خاص طور پر ملت کشمیر کی بیٹی اور بچی تعلیم کے نور سے آراستہ ہو ۔بیان میں کہا گیا کہ مرحوم رہنما نے انجمن کے تحت چلنے والے جملہ تعلیمی اداروں کی فلاح و بہبود اور جدید تعلیمی تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے اور آگے بڑھانے کے ضمن میں جو کوششیں کیں انہیں ہرگز نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔بیان کے مطابق مرحوم کی برسی کی مناسبت سے ہر سال انجمن جو تعلیمی اور اصلاحی سمینار ، سمپوزیم اور محفل مذاکرہ کا اہتمام کرتی رہی ہے امسال COVID-19 کی قہر انگیز لہر، لاک ڈائون اور صدر انجمن میرواعظ محمد عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کی وجہ سے ملتوی کیا گیا ہے۔ اس مرحلے پر انجمن نے انجمن کے تحت چلنے والے مدارس کے اساتذہ ،عملہ اور طلبا پر زور دیا کہ وہ تمام نوع انسانی کی نجات کیلئے بارگاہ الٰہی میں خصوصی دعائوں کا اہتمام کریں۔ادھرجمعیت ہمدانیہ کے سربراہ مولانا ریاض احمد ہمدانی نے میرواعظ مولوی محمد فاروق کی برسی پرانہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم کی اصلاحی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے زندگی بھر ملی اتحاد کیلئے کوشش کی اور مسلمانوں کو قرآن اور حدیث کی تعلیم کی طرف راغب کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔مولانا ہمدانی کے مطابق موصوف نے ہمیشہ اسلامی سکولوں ، لائبریریوں اور اسلامی دانشگاہوں کے قیام کیلئے بھی انتھک کوشش کی اور اپنے اسلاف کی طرح واعظ وتبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔انہوں نے کہا کہ  مرحوم میر واعظ نہایت دور اندایش مذہبی اور سیاسی رہنما بھی تھے اور اُن کی شہادت کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوا وہ مکمل کرنا ناممکن ہے۔ نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے میرواعظ مولوی محمد فاروق کے31ویں یوم وصال پرانہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موصوف ایک اہم ملی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے مالک تھے، جنہوں نے تبلیغ دین کے ساتھ اسلامی تعلیم کو فروغ دینے میں بھی کلیدی رول ادا کیا۔ڈاکٹر فاروق نے ایک بیان میں کہا کہ مرحوم نے اپنے اسلاف کی طرح اسلامیہ ہائی سکول کو مزید فعال بنانے میں انتھک کوشش کی جس میں معروف شخصیات نے تعلیم حاصل کی اورآج اہم عہدیوں پر تعینات ہیں۔انہوں نے کہا کہ موصوف نے ڈبل فاروق اتحادکرکے ’شیراور بکرا‘ جیسے مسئلہ کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ مرحوم مسلم اتحاد کے متمنی تھے اور ہمیشہ اِس اتحاد کے شیرازہ کو بکھرنے سے بچانے میں اہم رول ادا کرتے رہے ۔ پارٹی کے رکن پارلیمان محمد اکبر لون، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی، مبارک گل ،عرفان احمد شاہ اور پیر آفاق احمد نے بھی مرحوم میر واعظ مولانا محمد فاروق اور مرحوم عبدالغنی لون کو خراج عقیدت پیش کیا۔