میربازارتصادم اختتام پذیر،شاہراہ پرٹریفک بحال| جنگجوجاں بحق،2شہری اور 2 اہلکارزخمی

قاضی گنڈ //سرینگر جموں شاہراہ پر ملہ پورہ میر بازار قاضی گنڈ میں جمعرات بعد دو پہر سے جاری مسلح تصادم آرائی جمعہ کی صبح ایک غیر ملکی جنگجوکی ہلاکت اور2 سی آر پی ایف اہلکاروں اور دو عام شہریوں کے زخمی ہونے کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہو ئی۔ اس دوران جنگجوئوں کیخلاف پہلی بار سیکورٹی فورسزنے راکٹ لانچروں کا استعمال کیا جبکہ جنگجوئوں نے گرینیڈ لانچروں سے پولیس کے 2ڈرونز تباہ کردیئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تصادم آرائی کے دوران شاپنک کمپلیکس سے معمر مرد و خواتین اور دکانداروں سمیت 22افراد کو بحفاظت باہر نکالا گیا۔شاہراہ پر قریب 18گھنٹے تک ٹریفک کی نقل و حرکت معطل رہی۔

انکونٹر

پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ جمعرات بعد دوپہر اڈھائی بجے بی ایس ایف کا ایک قافلہ کراسنگ سے گزر رہا تھا تو جنگجوئوں نے ایک بڑی عمارت سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی ۔ سیکورٹی فورسز نے شدت پسندوں کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا اور یوں انکانٹر شروع ہوا۔آئی جی پی نے کہا’’ میں جی او سی وکٹر فورس کے ساتھ وہاں پہنچا، ہم نے رات کے دوران راکٹ لانچروں کا استعمال کیا اور عسکریت پسندوں کو بے اثر کردیا‘‘۔پولیس نے بعد میں جاری ایک بیان میں کہا کہ راکٹ لانچر استعمال کرنے کا فیصلہ اس لیے لیا گیا کہ ٹارگٹ بلڈنگ ایک بہت بڑی اور ٹھوس ساخت کی تھی، عمارت کے اندر حالات کا جائزہ لینے کیلئے ڈرون استعمال کئے گئے لیکن اس عمل کے دوران جنگجوئوںنے دو ڈرون تباہ کردیئے۔پولیس کے مطابق جھڑپ کے دوران ایک پاکستانی جنگجوعثمان بھائی مارا گیا جو گزشتہ 6 ماہ سے سرگرم تھا۔اس کے قبضے سے تین میگزین ، آر پی جی لانچر اور دو دستی بم برآمد ہوئے۔پولیس نے بتایا کہ انکاونٹر کے دوران سیکورٹی فورسز کے دو اہلکار زخمی ہوئے جبکہ دو شہری بھی زخمی ہوئے۔پولیس نے بتایا کہ تصادم آرائی کے دوران دکان داروں ، بوڑھوں ، خواتین اور بچوں سمیت 22 شہریوں کو بھی سیکورٹی فورسز نے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ پہلے سے طے شدہ تھا اور 15 اگست کے شیڈول کے کاموں میں خلل ڈالنے اور عام لوگوں میں خوف پھیلانے کے لیے سکیورٹی فورسز کو کافی نقصان پہنچانا تھا۔ پولیس نے مزید کہا ، "سیکورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیمیں یوم آزادی سے پہلے کسی بڑے سانحے کو ٹالنے میں کامیاب ہوئیں۔"آئی جی پی کشمیر اور جی او سی وکٹر فورس نے مشترکہ طور پر اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ،۔ انہوں نے فورسز کی چوکسی کو سراہا اور کارروائی کی تعریف کی جس کی وجہ سے فورسز عام اور شہریوں کو بغیر کسی نقصان کے پاکستانی جنگجو کو ہلاک کیا گیا۔ ادھرسرینگر میں ایک تقریب کے حاشیے پر انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار نے کہا کہ ملپورہ قاضی گنڈکراسنگ کے قریب سرینگر جموں شاہراہ پر عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے دوران راکٹ لانچر کا استعمال کیا گیا۔ آئی جی پی نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ پچھلے کچھ ایام سے اطلاعات مل رہی تھیں کہ عسکریت پسند شاہراہ پر بارہمولہ-سرینگر یا پانتہ چھوک اور قاضی گنڈ کے درمیان حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ،اس لئے سیکورٹی فورسز بہت زیادہ چوکس تھیں۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی تو جوابی کارروائی کی گئی اور عسکریت پسندوں کو بھاگنے کا موقعہ نہیں دیاگیا۔

ٹریفک بحال

 میر بازار علاقے میں جمعہ کی صبح 11بجے ٹریفک کی آمد و رفت بحال کی گئی۔ شاہراہ پر بانہال قاضی گنڈ فورلین ٹنل کے آر پار گاڑیوں کی آمدورفت کم از کم18گھنٹوں تک بند رہنے کے بعد صبح گیارہ بجے دوبارہ بحال کی گئی ہے۔ سڑک پر ٹریفک کی بحالی کا گرین سگنل ملتے ہی جمعرات کی دوپہر بعد چار بجے سے درماندہ ٹریفک کو بحال کیا گیا ہے اور جمعہ شام تک ٹریفک کی نقل وحرکت بغیر کسی خلل کے جاری تھی ۔ درجنوں مسافر گاڑیوں کو جمعہ کی علی الصبح دو بجے صبح ویری ناگ، ڈورو اننت ناگ کے راستے سے نکالا گیا تھا تاہم شاہراہ پر معمول کا ٹریفک جمعہ کی صبح گیارہ بجے بعد ہی بحال کیا گیا۔