میجر گگوئی کو اعزاز دینے سے فوج کی شبیہ متاثر

 سرینگر//نیشنل کانفرنس کے ترجمان جنید عظیم متو نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے اندرونی سیاسی انتشار میں بھارتی فوج کا کوئی رول نہیں ہونا چاہئے ۔ بھارتی فوج کے سنٹر فار لینڈ وارفیئر سٹیڈیز (CLAWS) کی طرف سے "Pakistan – Perception Management & Constructing a Positive Narrative in J&K"پر منعقدہ سمینار میں ’پولرائزیشن کے خاتمے اور عدم استحکام کی روک تھام کیلئے رائے عامہ کی بہتری کیلئے اقدامات‘کے موضوع پر کلیدی خطبہ دیتے ہوئے این سی لیڈر نے کہا کہ فوج کی طرف سے کشمیر میں انسانی ڈھال بنانے میں ملوث میجر گگوئی کو اعزاز دینے اور آئے روز کشمیری نوجوانوں کو عتاب کا شکار بنانے کے ویڈیو دانستہ طور پر افشا کرنے سے فوج کی شبیہ اتنی متاثر ہوئی ہے جو 100سال کے سدھباوانا آپریشن سے بھی بہتر بننا ممکن نہیں۔ دہلی کنٹونمنٹ میں فوج کے مانکشاو سنٹر کے تابر ہال میں منعقد سیمینار میں 15ویں کور کے سابق جی او سی لیفٹنٹ جنرل گرمیت سنگھ (ریٹائرڈ)، فوج کے سابق نائب سربراہ جنرل سبھراتا ساہا(ریٹائرڈ)، جموں وکشمیر پولیس کے سابق سربراہ کے راجندرا (آئی پی ایس) ، ویکٹر فورس کے جی او سی میجر جنرل اشوک نرولا، سینئر قلم کار اور منصف مس نیروپما سبرامنیم، سینئر صحافی اور سینٹر فار انوسٹی گیشن جرنالزم(CIJ)کے سربراہ و چیف ایڈیٹر سید نزاکت اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ایڈوکیٹ امان ہنگورانی نے بھی خطبے دیئے۔سمینار میں بنیاد پرستی، علیحدگی پسند، سوشل میڈیا، امن و قانون، یوتھ ایجویشن ،گورننس اور دیگر موضوعات کے مسائل اور پروپیگنڈا سامنے لائے گئے۔جنید عظیم متو نے اپنے کلیدی خطبے میں کہا کہ فوج کا کام اندرونی انتشار اور سیاسی خلفشار میں مداخلت کرنا نہیں بلکہ سرحدوں اور لائن آف کنٹرول کو محفوظ رکھنا تھا۔ کشمیر کا مسئلہ امن و قانون کا بحران نہیں اور نہ ہی اسے فوجی طریقہ کار سے حل کیا جاسکتاہے۔ کشمیر کی سیاسی صورتحال سے نمٹنے میں فوج کا کوئی رول نہیں۔ اسی طرح کشمیر کے حالات سدھار نے کیلئے سیاسی عمل کو بالائے طاق رکھ کر زیادہ سے زیادہ فورسز کی تعینات عمل میں لانے کے اقدامات کے الٹے نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہم بہت نیچے آگئے ہیں اور مین سٹریم کیلئے جگہ بہت کم رہ گئی ہے۔ ہم نے رائے دہندگی کا سب سے کم استعمال ہوتے ہوئے دیکھا اور الیکشن کی منسوخی کے عمل کے گواہ بھی بنے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فوجی طریقہ کار سے حالات میں کوئی بہتری نہیں آسکتی جب تک نہ مسلسل اور بامعنی مذاکراتی عمل ہو۔سمینار سے خطاب کرتے ہوئے جنید عظیم متو نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک بنیادی فریق ہے، ہم ایک ایسا گمراہ کن تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ کشمیر مسئلہ کیساتھ پاکستان کا کوئی تعلق نہیں اور سرحدی فائرنگ اور سرجیکل سٹرائیکس پڑوسی کیساتھ نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آپسی دشمنی سے آج تک کچھ حاصل نہیں ہوا، اگر کچھ ہوا تو کشمیریوں کے مصائب، مشکلات اور درد میں اضافہ۔ جنید عظیم متو نے کہا کہ اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر میں اپنی ہانڈی گرم رکھنا پاکستان کا ارادہ رہا ہے، تاہم بنیادی سیاسی مسئلہ ، وعدہ خلافیاں، اٹانومی کی بیخ کنی، بے گانگی اور سیاسی و جمہوری مراعات کیساتھ کھلواڑ کیلئے بھی پاکستان کیلئے موردِ الزام ٹھہرانا ایک سفید جھوٹ ہوگا۔ نئی دلی کی مواتر حکومتیں کشمیر کی موجودہ صورتحال کیلئے پاکستان سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کو ہدف تنقید بناتے ہوئے جنید عظیم متو نے کہا کہ کشمیر اور کشمیریوں کیخلاف زہرافشائی کچھ چینلوں کا واحد کام رہ گیا ہے، اور کچھ چینل اقتدار والوں کے سکرپٹ پر عمل دارآمد کرکے کشمیر کو بدنام اورکشمیر کے سیاسی مسئلہ کو بے وزن کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں۔ہم ایک ایسے مقام پر آپہنچے ہیں ، جہاں پر میجر گورو آریا جیسے لوگ قومی ٹی وی چینل پر اس بات کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیریوں کے گال کیوں لال ہیں اور کشمیری کسان خودکشی کیوں نہیں کرتے؟ان ٹی وی چینلوں کی وساطت سے میجر گورو آریا جیسے لوگ فوج کا چہرہ بن کر اُبھر رہے ہیں۔ ایسے افراد نے فرقہ پرستانہ، سامراجی،متعصبانہ اور محاذ آرانہ لب و لہجہ اپنا رکھاہے، جو کشمیری نوجوانوں کے ذہنوں پر براہ راست منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ بات کہنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاسکتی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا نہ صرف کشمیر بلکہ متحدہ بھارت کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ این سی ترجمان نے کہاکہ کشمیر کے علیحدگی پسندوں کیساتھ بات چیت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ان کیساتھ بات چیت کرنے سے ہی حالات بہتری کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں۔ یہ فورسز کے ذریعے حالات سدھارنے سے کئی بہتر آپشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ 1990کے بعد آج کشمیر میں مقامی جنگجوﺅں کی تعداد بیرونی جنگجوﺅں سے زیادہ ہے اور اس رجحان کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔جنید عظیم متو نے کہا کہ کشمیری نوجوان اس وقت خود کو پشت بہ دیوار اور دباﺅ میں محسوس کررہا ہے، وقت تقاضا کرتا ہے ان نوجوانوں کو سنا جائے، اُن کے ساتھ بات چیت کی جائے اور اُن کے جذبات و احساسات کی قدر کی جائے اور انہیں ایک کھلا ماحول میسر رکھا جائے۔