میاں بشیر احمد لاروی کون تھے؟

میاں بشیر احمد عرف لاروی 1923 کو ضلع بڈگام کی تحصیل کنگن کے علاقہ وانگت میں پیدا ہوئے ۔آپ جموں و کشمیر کے معروف صوفی بزرگ محمد عبداللہ عرف جی صاحب کے پوتے اور میاں نظام الدین کے فرزند تھے ۔لاروی خاندان جموں و کشمیر میں صوفی سلسلہ نقشبند کے پیروکار ہیں ۔ اس خاندان نے لوگوں کو روحانیت سے فیضیاب کرنے کیساتھ کیساتھ عوام الناس کی سیاسی و سماجی خدمات بھی کی ہیں ۔
گدی نشین درگاہ لار شریف میاں بشیر احمد مرحوم چار بار جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے چار بار ممبر منتخب ہوئے اور متعدد وزارتوں پر فائز رہے ۔
جموں و کشمیر کی سیاست میں میاں بشیر احمد لاروی کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ وہ ہمیشہ ایک فعال کردار رہے ،سیاسی طور پر انکی وابستگی جموں و کشمیر کی نامور سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس سے تھی۔ نیشنل کانفرنس سے اس خاندان کا تعلق میاں نظام الدین کے زمانے سے ہے ، جموں و کشمیر جہاں پر ہمیشہ سیاسی اتھل پوتھل ایک معمول کی بات ہے۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کروائی جاتی ہیں لیکن کیا مجال ہے کہ اس خاندان نے کبھی نیشنل کانفرنس کا ساتھ چھوڑا ہو ۔
میاں بشیر احمد شیخ عبداللہ مرحوم کے بہت قریبی ساتھی تھے ، صوفی بزرگ اور میاں بشیر کے والد میاں نظام الدین کی وصیت کے مطابق انکی نماز جنازہ بھی شیخ عبداللہ نے پڑھائی تھی ۔ روحانی discourse میں تو بلا ذات، مذہب، رنگ و نسل لوگ آپکے مریدین تھے ۔اس کے علاوہ آپ نے جموں و کشمیر کے دبے کچلے طبقات کی فلاح کے لئے بہت کام کئے۔
تقسیم ہند سے پہلے 1932 میں میاں صاحب ہی کی کاوشوں سے جموں وکشمیر میں اپنی نوعیت کی پہلی گجر ۔ جاٹ کانفرنس معرض وجود میں آئی ، گجرجاٹ کانفرنس ایک سماجی تحریک تھی جسکا مقصد سماج کے کچلے طبقات کے حقوق کے لئے آواز اٹھانا تھا ۔
بشیر لاروی گجر کمیونٹی کے واحد لیڈر تھے جنہیں مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا موقع ملا ۔ جموں و کشمیر کے پچھڑے طبقات کی سماجی خدمات کی وجہ سے 2008 میں حکومت ہند کی طرف سے انہیں پدما بوشن ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ پدما بوشن بھارت کا تیسرا بڑا سویلین ایوارڈ ہے ۔
لاروی خاندان کا روحانی سلسلہ کیئاں شریف جو کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں واقع ہے سے جا ملتا ہے ۔ جی صاحب لاروی کے پیر و مرشد کئیاں سے ہی تھے۔ ڈیکٹیٹر ضیاء الحق کے دور میں میاں بشیر لاروی کو ہزارہ میں جی صاحب کے پیر و مرشد کے مزار پر حاضری کا موقع بھی ملا تھا۔ پاکستان میں انکو بہت بڑا پروٹوکول دیا گیا تھا ۔ کہا جاتا ہے انکی جموں و کشمیر کی ایکٹیو سیاست سے مستعفی ہونے کا ایک کارن یہ بھی تھا کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں لار شریف آنے میں کافی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
سیاسی و سماجی خدمات کے علاوہ میاں صاحب ایک بہترین عالم دین اور علم دوست انسان تھے۔انہوں نے اپنے دادا جی صاحب کے کلام کو "بابا صاحب دیاں سی حرفیاں" کے نام سے مرتب کر کے شائع کیا۔ یہ کلام جی صاحب کے اشعار کا مجموعہ ہے جو کہ پنجابی ،پہاڑی کا بہترین امتزاج ہے۔ اسی طرح نظام الدین کے شعری کلام کو اشعار نظامی کے نام سے مرتب کر کے شائع کیا۔
میاں بشیر احمد لاروی صاحب نے دربار لار شریف سے منسلک شاعروں کے کلام کو اکٹھا کر کے نیر سمندر کے نام سے شائع کروایا  جبکہ متاع فکر دانش کے مصنف بھی ہیں۔
میاں لاروی صاحب ہمیشہ جموں و کشمیر کی اندرونی خود مختاری کے حامی رہے ہیں ۔ مرکزی حکومت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر میں غیر جمہوری طریقے سے تبدیلی کو لے کر میاں صاحب کافی نالاں تھے ۔
درگاہوں پر اکثر دیکھنے کو یہ ملتا ہے کہ گدی نشینوں یا پیروں کی زیادہ تر تعداد مریدین کو نذرانے کی لالچ سے دیکھتی ہے ۔ لاروی خاندان بشمول میاں بشیر لاروی کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ انہوں نے کبھی بھی مریدین کو نذر و نیاز کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو انہیں دوسرے گدی نشینوں سے منفرد کرتی ہے ۔ 
ویسے تو پورے جموں و کشمیر و بیرون جے اینڈ کے آپکے مریدین مل جاتے ہیں ، اس خاندان کا روحانی، سماجی وسیاسی اثر رسوخ جموں و کشمیر کے  پیر پنجال علاقہ میں بہت گہرا ہے ۔ لار شریف سالانہ عرس جو کہ دیسی مہینہ ہاڑ کی 25-26 کو ہوتا ہے میں لاکھوں کی تعداد میں پیر پنجال سے لوگ شرکت کرتے ہیں ۔ سالانہ عرس میں جموں و کشمیر و بیرون ریاست کی نامور سیاسی، سماجی و علمی شخصیات حاضری دیتی ہیں۔ 
عوام جموں و کشمیر کی لمبے عرصے تک روحانی تربیت اور سیاسی ترجمانی کرنے والے میاں بشیر احمد لاروی  چودہ اگست رات دس بجے اس دنیا کو ہمیشہ کے لئے الوادع کہہ گئے ۔ آج جموں و کشمیر کی عوام ایک اور عظیم لیڈر سے محروم ہو گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون  
( کالم نگار کا تعلق پونچھ، جموں و کشمیر سے ہے اور آپ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ریسرچ سکالر ہیں )