میاں بشیراحمد لاروی کی خدمات ناقابل فراموش

کنگن //بابا نگری وانگت کنگن میں دوسرے روز بھی میاں خاندان کے ساتھ تعزیت پرسی کا سلسلہ جاری رہا۔ سماج کے مختلف طبقوں سے وابستہ لیڈران اور افراد نے بابا نگری وانگت جاکر میاں الطاف احمد کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں آئے ہوئے لوگوں نے میاں بشیر احمد لاروی کو خراج عقیدت اداکیا اور سوگوار خاندان بالخصوص میاں الطاف احمد اور میاں سرفراز احمد سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم کا چہارم بدھ کو انجام دیا جارہا ہے۔نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران چودھری محمد رمضان، ایڈوکیٹ محمد اکبر لون، مبارک گل، ایڈوکیٹ میر سیف اللہ، قیصر جمشید لون، شمی اوبرائے، جاوید احمد ڈار،ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، پیر آفاق احمد، غلام نبی بٹ، ایڈوکیٹ یاور مسعودی، میر غلام رسول ناز، یونس گل، ایڈوکیٹ عبدالرحمن تانترے اور دیگر زعماء بھی بابانگری گئے اور وہاں مرحوم کے پسماندگاں خصوصاً  سجادہ نشین درگاہِ میاں نظام الدین لاروی میاں الطاف احمد اور میاں سرفراز احمد کی ڈھارس بندھائی اور تعزیت پُرسی کی۔پارٹی لیڈران نے مرحوم کے ذہنی اور سماجی خدمات کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور اپنے لوگوں کے تئیں اُن کے کام کو ناقابل فراموش قرار دیا گیا۔ اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے معزز گوجر رہنما اور عظیم روحانی شخصیت میاں بشیر احمد لاوری کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ایک تعزیتی پیغام میں بخاری نے مرحوم کو انسانیت، عاجزی، انکساری اور اخلاقیت کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے کہا ’’اُن کی وفات سے کشمیر کے صوفی معاشرے میں وسیع خلاء پیدا ہوا ہے، ان کا سیاسی سفر صاف وشفاف اور بے داغ رہا جس دوران انہوں نے جموں وکشمیر میں سماج کے کمزور طبقہ جات کی بے لوث خدمت کی‘‘۔
انہوں نے کہاکہ میاں بشیر کوروحانی تعلیمات کے لئے لمبے عرصے تک یاد رکھاجائے گا۔ وہ نہ صرف عظیم مذہبی اسکالر تھے بلکہ عظیم سماجی وسیاسی رہنما بھی تھے جن کی ہرکوئی عزت کرتا تھا، خاص کر وہ گوجر بکروال طبقہ میں انتہائی معتبر تھے اور سماج کی خدمت کے عوض انہیں حکومت ِ ہند کی طرف سے پدم بھوشن ایوارڈ سے بھی سرفراز کیاگیا۔ ادھر اپنی پارٹی کے ایک وفد نے پیر کے روز نائب صدر غلام حسن میر کی قیادت میں میاں الطاف احمد کی رہائش گاہ واقع بابا نگری جاکرمیاں بشیر احمد لاروی کی وفات پر سوگواران ِ کنبہ کے ساتھ دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔انہوں نے میاں بشیر کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس کو سماجی وسیاسی حلقوں میں ناقابل ِ تلافی خلاء قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ میاں بشیر معروف سماجی وروحانی شخصیت تھے جو اپنے پیچھے صوفی مذہبی تعلیمات اور انسانی اقدار کا عظیم اثاثہ چھوڑ گئے ہیں۔ انہوں نے گوجر بکروال طبقہ کی فلاح وبہتری کے لئے بھی ناقابل ِ فراموش خدمات انجام دی ہیں جنہیں گوجر قوم کبھی بھی فراموش نہیں کرسکے گی۔وفد میں اپنی پارٹی ضلع صدر گاندربل جاوید میر، نذیر احمد میر، شیخ شوکت اور نذیر کھڑے بھی شامل تھے۔دریں اثناء اپنی پارٹی نائب صدر اعجاز احمد خان اور سابق ایم ایل اے ممتاز احمد خان نے کنگن میں وانگت کا دورہ کر کے مذہبی اسکالر اور روحانی رہنما میاں بشیر احمد لاروی کی وفات پر سوگوارن ِ کنبہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔دریں اثناء اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں میں پارٹی نائب صدر چوہدری ذوالفقار علی کی قیادت میں تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں لیڈران اور ورکروں نے روحانی شخصیت میاں بشیر احمد لاوری کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ۔ اس وقت ان کے ایصال ثواب کے لئے دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔ تعزیتی اجلاس میں جنرل سیکریٹری وجے بقایہ، صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ، صوبائی سیکریٹری ڈاکٹر روہت گپتا، سابقہ ایم ایل اے فقیر ناتھ، اپنی ٹریڈ یونین صدر اعجاز کاظمی، ایس ٹی ونگ صدر سلیم چوہدری، ایس سی ریاستی کارڈی نیٹر بودھ راج بھگت، او بی سی ریاستی کارڈی نیٹر مدن لال چلوترہ، نائب صدر یوتھ ونگ رقیق احمد خان، ریاستی جنرل سیکریٹری یوتھ ونگ ابہے بقایہ، طفیل حسین چوہدری، سوہن سنگھ سونی، وپل بالی، جوگیندر سنگھ، ایڈووکیٹ نشا کماری، سہیل کھجوریہ، ویشال زوتشی، فاروق چوہدری، شنکر سنگھ چب، انکت سود، سرجیت سنگھ، کلبیر سنگھ اور محمد اشرف بھی موجود تھے۔ سابق اسمبلی ممبران غلام نبی مونگا ،محمد خلیل بند ،غلام رسول صوفی ،اشونی کمار نے بابا نگری وانگت پہنچ کر سوگوار کنبے سے تعزیت پرسی کی ۔
اس دوران بابا نگری وانگت میں جگہ جگہ ٹریفک جام کے مناظر دیکھنے کو ملے ۔انجمن نصرۃ الاسلام سرینگر نے معروف اور سرکردہ بزرگ روحانی رہنما میاں بشیر احمد لاروی کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی دینی ، ملی، روحانی ،سماجی اور فلاحی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ۔بیان میں انجمن نے واضح کیا کہ مرحوم میاں بشیر احمد جموںوکشمیر کی اولین تعلیمی انجمن نصر الاسلام کے زیر اہتمام اسلامیہ اورینٹل کالج کے پروردہ اور فیض یافتہ تھے بلکہ مرحوم کومیرواعظ کشمیر مولانا محمد یوسف شاہ، میرواعظ مولوی محمد فاروق صاحب کے بعد موجودہ میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کے ساتھ گہرے مراسم ، دینی و ملی تعلق اوروابستگی تھی۔بیان میں موصوف کی وفات کو ایک دور کا خاتمہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایک بڑا ملی اور روحانی خلا پیدا ہو گیا ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔انجمن نے سربراہ تنظیم میرواعظ محمد عمر فاروق کی طرف سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے فرزندان  میاں سرفراز احمد اور میاں الطاف احمد کے ساتھ ساتھ لواحقین اور مرحوم کے لاکھوں مریدین کے ساتھ تعزیت، ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالی سے مرحوم کی جنت نشینی اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔اس دوران انجمن نصرۃ الاسلام کے جنرل سیکریٹری الطاف احمد بٹ کی قیادت میں مفتی غلام رسول سامون اور مولانا ایم ایس رحمن شمس پر مشتمل وفد نے وانگت کنگن جاکر لواحقین اور سوگواروں تک میرواعظ کشمیر کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی کا پیغام پہنچایا۔انجمن علما وائمہ مساجد کے امیر حافظ عبد الرحمن اشرفی اور سرپرست اعلیٰ مفتی محمد قاسم قاسمی اور مولانا محمد شفیع ترالی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں معروف روحانی بزرگ  میاں بشیر احمد لاروی کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک کامیاب مذہبی ،سماجی ،اور علمی شخصیت کے مالک تھے اور مرحوم کی وفات سے ملت اسلامیہ جموں وکشمیر میں جو خلا پیدا ہوا ہے اسکا پر کرنا مشکل ہے ۔جی آر بیگ میموریل ٹرسٹ کے چیئرمین اشتیاق بیگ نے میاں بشیر کے ساتھ تعزیت کااظہارکیا۔ آل پارٹی سکھ کارڈی نیشن کمیٹی کے چیئرمین جگموہن سنگھ رینا نے سوگوار کنبے بالخصوص میاں الطاف سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرحوم ہمیشہ پچھڑے ہوئے طبقوں کیلئے فکر مند رہتے تھے۔جموں کشمیر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک وفد نے مفتی ناصر الاسلام کی قیادت میںوانگت جاکر غمزدہ خاندان کے ساتھ تعزیت پرسی کی۔وفد میں سیکریٹری بورڈ احمد ایازاور مولانا نورانی شامل تھے۔خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم میاں بشیر احمد لاروی کا رسم چہارم 18اگست بروز  بدھ انجام دیا جارہا ہے جس کے بعد تعزیتی مجلس دن بھر جاری رہے گی۔