رنگون// میانمار کے راکھائن صوبہ کی راجدھانی ویتوی میں آج صبح سویرے تین بم دھماکے ہوئے جن میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ۔صوبہ کے پولیس سربراہ کرنل اونگ میات موئی نے بتایا کہ دھماکہ کے واقعات کے بعد سیکورٹی انتظامات سخت کردے ئے گئے ہیں اور شہر سے باہر نکلنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کرکے جانچ کی جارہی ہے ۔پولیس ترجمان کرنل میو تھو سوئی نے کہاکہ پولیس۔انتظامیہ دھماکہ کے ذمہ دار لوگوں کو تلاش کررہی ہے ۔ ریاستی حکومت کے ترجمان اخبار تن ماونگ سوے کے گھر کے پچھلے حصہ میں پہلا بم دھماکہ صبح ساڑھے چار بجے ہوا۔ دیگر دو دھماکے ہائی کورٹ اور زمین سروے دفتر کے نزدیک ہوئے ۔پولیس کے مطابق شہر میں تین اور دیسی بم برآمد کئے گئے ہیں۔ ان بموں کو بعد میں ناکارہ کردیا گیاان حملوں کی ذمہ داری فی الحال کسی نے نہیں لی ہے ۔ روہنگیا دہشت گردوں کے ٹوئٹر اکاونٹ اراکان روہنگیا سالویشن آرمی پر بھی اب تک کوئی نئی پوسٹ نظر نہیں آئی ہے ۔ راکھائن صوبہ دہشت گرد گروپ اراکان آرمی کا بھی گڑھ بتایا جاتا ہے ۔اقوام متحدہ اور امریکہ نے روہنگیا پناہ گزین معاملہ میں کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ، لیکن نوبل انعام یافتہ آنگ سان سو کی کی حکومت نے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں اور دیگر آزاد انسپکٹروں کو تشدد زدہ علاقوں کا دورہ کرنے سے روک دیا ہے ۔خیال رہے کہ راکھائن کے مراوک شہر میں جنوری وسط میں ہوئی پولیس فائرنگ میں سات مظاہرین کی موت ہونے اور 12دیگر کے زخمی ہونے کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ مقامی لوگ وہاں ایک قدیم بودھ اراکان سلطنت کا جشن منانے کے لئے جمع ہوئے تھے کہ اچانک تشدد شروع ہوگیا۔تین دن پہلے ہی شمال مشرقی شہر لاشیو میں ہوئے زبردست بم دھماکہ میں بنک کے دو ملازمین مارے گئے تھے ۔ لاشیو میں کئی نسلی باغی گروپ فوج سے لڑائی کررہے ہیں۔گزشتہ برس روہنگیا مسلم باغیوں کے حملے کے بعد فوج کی وسیع پیمانہ پر چلائی گئی مہم کے بعد سے اب تک چھ لاکھ 88ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔