مکافات

صبح پو پھٹتے ہی حسب معمول بستی کی عورتیں اور چھوٹی چھوٹی لڑکیاں ٹولیوں کی صورت میںہنستے مسکراتے مٹکے لے پانی بھرنے کی خاطر ناگراد باغ کی طرف گئیں تو خلاف توقع باغ کا پھاٹک نہ صرف مقفل تھا بلکہ وہاں کچھ چوکیدار بھی کھڑے تھے جنہوں نے سختی سے انہیں باغ کے اندر جانے سے روکا اور مستاں خانوادے کا یہ سخت پیغام بھی پہنچایاکہ آج سے یہاں کسی کو بھی پانی بھرنے یا نہانے دھونے کی ہرگزاجازت نہیں ہوگی کیوں کہ مرحوم خواجہ روشن مستان کا پوتا خواجہ جمیل مستان بنگلے میں رہنے کے لئے قدم بہ رنجہ فرمانے والا ہیں ۔بے بس عورتوں نے چوکیداروں کی بہت منت سماجت کی۔ ان کی نظر کرم حاصل کرنے کے لئے ان کے آگے گڑ گڑائیں لیکن وہ بالکل نہ پگھلے ۔بات تو ان کی کسی حد تک معقول تھی کیوں کہ کنواں بظاہر مستان خانوادے کی ملکیتی زمین میں تھا، جہاں اب ایک ایسا شاندار بنگلہ تعمیر ہو چکا تھا جس کی پوری بستی میں کوئی نظیر نہیں تھی اور پانی کی ضروریات کے لئے بستی کے لوگوں کے آنے جانے سے بنگلے کے مکینوں کے لئے پریشانیاں پیدا ہو سکتی تھیں ۔
در اصل خشک سالی کے سبب برسوں سے بستی میں پانی کی شدید قلت تھی۔ قریب دو سال قبل جب مستان خانوادے کا لاڈلا جمیل مستان بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس لوٹا توان کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا ۔اس کے والد خواجہ اجمل مستان نے لاکھوں روپے کے کاروبار کی باگ ڈور اس کے ہاتھوں میں دے کر اپنے ہم پلہ خاندان میں دھوم دھام سے اس کی شادی کرکے اس کے لئے ناگراد باغ نامی وسیع میوہ باغ کے ایک قطعے پر بنگلے تعمیر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ تعمیری کام میںپانی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اس سرمایہ دار خانوادے نے لاکھوں روپے خرچ کر کے ایک گہرا کنواں کھودا تھا۔ اسی کنویں سے کسی حد تک بستی کے لوگوں کی ضروریات بھی پوری ہو تی تھیں ۔ ان کی انتھک کوششوں اور دو سال تک لگاتار کام جاری رہنے کے بعد جب بنگلے کی تعمیر مکمل ہوگئی تو انہوں نے اطمینان کی سانس لے کر بنگلے کو ہر طرح سے آراستہ کر کے اس میں منتقل ہونے کی ساری تیاریاں مکمل کرلیں اور اب اس موقعے پر اپنے اعزاء و اقارب اوردوست احباب کے لئے ایک شاندار دعوت کا اہتمام کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ۔
ایک طرف ساری بستی میں ہا ہا کار مچی ہوئی تھی ۔شدید گرمی کی تپش میں نڈھال لوگ پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے تھے تو دوسری طرف نو تعمیر شدہ بنگلے پر گہما گہمی عروج پہ تھی ۔ بنگلے کو دلہن کی طرح سجایا جا رہا تھا، قسما قسم کی ضیافتیں پکائی جا رہی تھیں ۔ اونچی آواز میں سنگیت بج رہا تھا مہمانوں کے لئے شامیانے لگائے جا رہے تھے ۔غرض مستاں خانوادہ، جس کے پاس دولت کی ریل پیل تھی، خوشی کے اس موقعہ پر کوئی کمی باقی نہیں رکھ چھوڑنا چاہتا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔ سہ پہر کے وقت جب ان کی ساری تیاریاں قریب قریب مکمل ہو چکی تھیں اور وہ بنگلے میں قدم رکھنے ہی والے تھے کہ موسم نے اچانک کروٹ لی ۔آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھانا شروع ہو گئے، جنہیں دیکھ کر بستی کے پیاسے لوگ دلوں میں امیدوں کی موم بتیاں سجا کرحسرت بھری نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اوپر والے سے خا موش فریادیں کرنے لگے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے آسمان کو گہرے کالے بادلوں نے ڈھک لیااور تیز آندھی چلنے لگی ۔۔۔۔۔ کچھ وقت بعد ہی پہلے ہلکی بوندا باندی پھر بہت تیز بارشیں برسنا شروع ہو گئیں۔برسوں سے پیاسی زمین سیراب ہونے لگی ۔مرجھائے ہوئے پیڑ پودے جھومنے لگے اور پانی کی بوند بوند کو ترس رہے لوگوں کو راحت نصیب ہوئی ۔
     بارشوں کا زور لمحہ بہ لمحہ بڑھتا ہی جا رہا تھا جس کے سبب مستان خانوادے کی بنگلے میں منتقلی کی شاندارتقریب بری طرح متاثر ہو گئی ۔ حالانکہ بارش سے ہونے والی بد مزگی سے بچنے کے لئے انہوں نے تمام انتظامات کے ساتھ درجنوں لوگوں کو کام پر لگا دیا تھا لیکن بارش اتنی شدید تھی کہ ان کی ساری تدبیریں نا کام ہو گئیں۔ بنگلے کا سارا ڈیکوریشن تہس نہس ہوگیا۔صحن سڑک ہر طرف پانی جمع ہونے لگا۔۔۔۔۔۔ آشپازوں کی طرف سے تیار ر کردہ ضیافتیں پانی کی نذر ہوگئیں جب کہ صحن میں لگے شامیانے تیز بارشوں کی تاب نہ لاکر زمین بوس ہو گئے ۔ اس طوفانی صو رت حال سے گھبرا کروہاں موجود کام پر لگے سارے لوگوں نے سب کچھ چھوڑ کر جان بچانے کے لئے بنگلے کے اندر پناہ لی ۔کچھ وقت کے بعد بنگلے کے اندر بھی عجیب صورت حال پیدا ہو گئی۔تیز آندھی اور بارشوں کے چلتے بنگلے کی دیواروں میں اچانک بڑی بڑی دراڑیں پڑھ گئیں۔یہ منظر دیکھ کر وہ لوگ اور زیاد ہ سہم کر رہ گئے اور وہاں سے نکل کر بڑی مشکل سے بھاگتے دوڑتے مستان خانوادے کی رہائیش پر پہنچ گئے ۔ مسرت کے اس موقعے پر بارش کی وجہ سے پیدا ہوئی بد مزگی کے سبب پریشان مستان خانوادے کے سارے افراد خانہ بنگلے کی دیواروں میں دراڑیں پڑنے کی خبر سن کر اور زیادہ غمگین اور بے چین ہو کر وا ویلا کرتے ہوئے پچھتانے لگے۔
تیز آندھی اور بارشوں کے سخت رخ کی وجہ سے پوری بستی میںخوف و ہراس پھیل گیا  ۔ درخت جڈوں سے اکھڑ گئے ،کئی مکانوں کی چھتیں اڑ گئیں جب کہ کچھ تعمیرات کی دیواریں بھی گر گئی۔قریب آدھی رات کو طوفان تھم گیا تو بستی کے مکینوں نے کسی حد تک اطمیناں کی سانس تو لی لیکن بدستور پریشانی کی حالت میں رہے کیوں کہ کسی کو کسی کی خبر نہیں تھی ۔ اضطراری کیفیت میں رات گزار کر صبح لوگوں نے ایک   ایسا حیرت انگیز ڈراونا منظر دیکھا کہ انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ناگراد باغ میں نو تعمیر شدہ شاندار بنگلہ اس قدر زمین کے اندر دھنس چکا تھا کہ صرف اس کی ٹوٹی پھوٹی چھت نظر آرہی تھی اور ٹھیک اسی جگہ نیچے سے بڑی مقدار میں پانی اُبل کر بنگلے کی طرف آنے والی سڑک سے گزرکر بستی کے بیچوں بیچ گزرنے والے نالے ،جو سالہا سال سے پیاسا تھا،میں گر رہا تھا ۔ وہاں کافی تعداد میں لوگ جمع ہو کر اظہار افسوس کرتے ہوئے اس حیرت انگیز واقعہ کے بارے میںایک دوسرے سے گفتگو کررہے تھے ۔
’’ او سلام چا چا ۔۔۔۔۔۔ تمہارے با با نے یہ زمین حاجی روشن علی کو بیچ کر بڑی دانا ئی کی تھی ۔ورنہ آج تو ہی لٹ جاتا ‘‘ ۔
ہنسی مذاق کے عادی تیجندر سنگھ نے سلام چا چا ،جو گہری سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا،کو مذاق کر تے ہوئے کہا۔
’’تیجا ۔۔۔۔۔۔ تمہیں مذاق کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ میرے با با نے یہ جگہ حاجی روشن کو نہیں بیچی تھی‘‘۔
’’ لو کرلو گل ۔۔۔۔۔ ۔ بستی کے سارے لوگ جانتے ہیں کہ حاجی روشن نے ناگرادباغ تمہارے با با سے خریدا ہے اور۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’وہ تو سچ ہے تیجا لیکن ۔۔۔۔۔۔ ‘‘۔
’’لیکن کیا چا چا ؟؟؟‘‘
’’  تیجا ۔۔۔۔۔۔تمہیں کچھ پتا بھی ہے کہ اس جکہ کو ناگراد باغ کیوں کہتے ہیں؟‘‘  
اس نے بنگلے والی جگہ کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے اونچی آواز میں اپنی بات جاری رکھی۔
’’کیوں کہ قریب پچاس سال پہلے جب میرے مرحوم با با نے باغ مرحوم حاجی روشن کو بیچا تھا تو یہ جگہ نہ باغ کی چار دیواری میں شامل تھی اور نہ کسی کی ملکیت تھی بلکہ یہاں ناگراد نام سے مشہو ر صدیوں پرانا ایک بڑا صاف وشفاف میٹھے پانی کا خوب صورت قدرتی چشمہ موجود تھا۔
 
٭٭٭
رابطہ ۔۔۔۔۔۔ اجس بانڈی پورہ (193502 ) کشمیر
ای میل ۔۔۔۔۔۔ [email protected]