محمد تسکین
بانہال// حکومت کی جانب سے غریب اور مستحق بچیوں کی شادی کے لئے شروع کی گئی میریج اسسٹنس اسکیم ایک قابلِ تحسین اقدام ہے، جس کا مقصد ضرورت مند خاندانوں کو مالی سہارا فراہم کرنا ہے تاہم ضلع کشتواڑ کے سب ڈویژن مڑواہ میں اس اسکیم کے نفاذ سے مبینہ طورپر سنگین مسائل سامنے آ رہے ہیں، جہاں مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ تقریباً دو برسوں کے دوران 150 سے زائد درخواستیں مسترد کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔مقامی ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کے مڑواہ اور واڑون کے دور دراز اور پہاڑی علاقے میں زیادہ تر شادیاں سردیوں کے موسم میں انجام پاتی ہیں اور شدید برفباری، خراب موسم، راستوں کی بندش یا کسی ناگہانی واقعہ مثلاً گھر میں وفات کے باعث شادی کی طے شدہ تاریخ میں 8 سے 10 دن کی تاخیر معمول کی بات ہے۔ لیکن متعلقہ ضوابط میں محکمہ سوشل ویلفیئر کیطرف سے نرمی نہ ہونے کے باعث یہی معمولی تاخیر درخواستوں کے مسترد ہونے کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 200 سے زائد ایسی بچیاں بھی ہیں جن کی شادیاں مقررہ وقت پر انجام پانے کے باوجود گزشتہ 7 سے 8 ماہ سے میرج اسسٹنس سکیم کی مالی امداد سے محروم ہیں، جس کے باعث غریب خاندان شدید مالی دباؤ اور پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پنچایت ٹیلر، مڑواہ کی رہائشی ایک بیوہ خاتون، جو اے اے وائی زمرے سے تعلق رکھتی ہیں، نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی کے لئے اسکیم کے تحت درخواست جمع کروائی تھی لیکن خراب موسمی حالات کے باعث شادی مقررہ تاریخ سے صرف 10 دن تاخیر سے انجام پائی، جس پر دونوں فائلیں مسترد کر دی گئیں۔
مذکورہ خاتون نے شادی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے ہمسایوں سے اس امید کے ساتھ قرض لیا تھا کہ اسکیم کی رقم ملنے پر ادائیگی کر دیں گی۔ تاہم درخواست مسترد ہونے کے بعد وہ شدید مالی بحران کا شکار ہو گئی ہیں اور اب قرض کی ادائیگی کے لیے اپنی زمین گروی رکھنے پر مجبور ہیں۔سماجی کارکن اور چیئرمین این جی او مڑواہ، شیخ محمد رمضان نے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مڑواہ اور وڑوان جیسے دور افتادہ علاقوں میں میریج اسسٹنس سکیم کے تحت امدادی رقم کی بروقت اور جلد فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور مختلف وجوہات کی بنا پر معمولی تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر فائلیں مسترد کرنے کے بجائے زمینی حقائق اور انسانی ہمدردی کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔مقامی لوگوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مستحق اور مجبور خاندانوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جائے اور دور دراز علاقوں کے مخصوص حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسکیم میں ضروری نرمی اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔یہ تمام معاملہ جب محکمہ سماجی بہبود کے ضلع آفیسر طارق احمد قاضی کی نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ پچھلے چار پانچ مہینوں سے یہاں تعینات ہیں اور ان کی دانست میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس میں کہا جائے کہ میرج اسسٹنس کی کوئی فائل ابھی تک باقی پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چار سالوں سے میرج اسسٹنس کا تمام نظام آن لائین ہے اور مڑواہ کے علاقے میں بھی اب انٹرنیٹ چل رپا یے اور ایسے میں فائلوں کا مسترد ہونے کا سوال ہی نہیں یے جبکہ ایسی فائلوں کو جواب دہی کے ساتھ فوری طور پر نپٹایا جاتا یے۔ انہوں نے مڑواہ اور واڑون کے ایسے لوگوں سے استدعا کی ہے جنہوں نے اپنی بیٹیوں کی شادی کیلئے اس سکیم سے مدد طلب کی یے اور انہیں یہ مدد نہیں ملی ہے تو وہ مذکورہ فارم کی تمام تفصیلات سے انہیں فوری طور آگاہ کریں تاکہ ان معاملات پر فوری طور پر کاروائی کی جائے اور ایسی مستحق بچیوں کو مالی مدد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی ذاتی طور تحقیق بھی کرینگے اور اگر ایسا واقعی کوئی مستحق کیس رہ گیا یے تو اسے فوری طور پر ضابط کے تحت مدد فراہم کی جائے گی۔