مجاہد عالم ندوی
محمد علی جوہر 10 دسمبر 1878ء کو رام پور کے ایک خوشحال خاندان میں پیدا ہوئے ، ان کے خاندان کے بہت سے لوگ ریاست رام پور کے سول اور فوجی محکموں میں ملازم تھے ، محمد علی کے دادا شیخ بخش خاندان کے پہلے فرد تھے ،جن کا تعلق ریاست رامپور سے ہوا تھا ۔ محمد علی کے ننہالی بزرگوں میں بشارت علی خاں ، مہربان علی خاں ، ولایت علی خاں وغیرہ نے ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی 1857ء میں بڑی ہمت اور بہادری سے حصہ لیا تھا ، لیکن ان لوگوں کو اس کا کافی خمیازہ بھگتنا پڑا تھا ۔ جنگ آزادی کی اس تحریک کی ناکامی کے بعد محمد علی کے نانا ، شیخ مظفر علی روپوش ہوگئے تھے جبکہ شیخ بشارت علی خان اور مہربان علی خان کو انگریزوں نے گرفتار کر لیا ، بعد میں ان دونوں کو موت کی سزا دی گئی ۔
محمد علی جوہر کے والد کا ہیضے کے باعث 33 سال کی عمر میں اگست 1880ء کو کو انتقال ہو گیا ، اس وقت وقت محمد علی کی کی عمر صرف دو سال تھی جبکہ ان کی والدہ آبادی بانو بیگم ( بی اماں ) کی عمر اس وقت محض 27 سال تھی ، اتنی کم عمر میں بیوہ ہو جانے پر بھی ان کی والدہ نے ہمت نہ ہاری ، تمام رکاوٹوں اور مالی پریشانیوں کو سہتے ہوئے بھی اپنے بچوں شوکت علی اور محمد علی کو اعلیٰ تعلیم دلائی ، بچوں کی پرورش میں بی اماں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت کا بھی خیال رکھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کے لخت جگر زمانے کے تقاضوں کے مطابق اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کی خدمت کریں ۔ محمد علی نے ابتدائی تعلیم اپنے بڑے بھائی شوکت علی کے ساتھ بریلی میں رہ کر حاصل کی ، چار سال تک بریلی میں زیر تعلیم رہنے کے بعد محمد علی تقریباً بارہ سال کی عمر میں بغرض تعلیم علی گڑھ منتقل ہوگئے ۔
محمد علی نے کم عمر میں ہی علی گڑھ کی تعلیم کے دوران ایک مضمون بعنوان ٫ جدید اردو تعلیم کی ضرورت لکھا جو ٫ انسپکٹر آف اسکولز کی رپورٹ کے ساتھ رامپور اسٹیٹ گزٹ میں ستمبر 1890ء کو شائع ہوا ، محمد علی کے مزاج میں میں شوخی ، ظرافت کے ساتھ ساتھ کھلنڈرا پن بھی شامل تھا۔ محمد علی کی فیلڈ میں کرکٹ بھی کھیلتے اور یونین کے جلسوں میں تقریر بھی کرتے ،لیکن امتحان کے قریب پڑھائی میں پوری لگن سے لگ جاتے۔ بلا کے ذہین تھے، لہٰذا جلدی ہی اسباق یاد کر لیتے اور پڑھائی میں اپنے ساتھیوں سے سبقت لے جاتے ۔
محمد علی کی معلومات اور ذہانت کا چرچہ پھیلا تو شبلی نعمانی نے انہیں اپنے پاس بلایا ، پہلے تو خلیفہ ہارون رشید کی اولاد کے بارے میں معلومات کی جو انہوں نے ٹھیک ٹھیک بتا دیں ، اس کے بعد خلیفہ کے شجرے کے بارے میں دریافت کیا ، محمد علی اس میں بھی کامیاب رہے ، اب شبلی نعمانی نے ان کو ایک مصرع دیا اور دوسرا مصرع لگا کر شعر پورا کرنے کے لیے کہا ، محمد علی نے دوسرا مصرع لگا کر اپنی ذہانت اور قابلیت کا سکہ جما کر شبلی نعمانی کا دل جیت لیا ۔
کالج کے زمانے میں بھی محمد علی نے اپنی ذہانت اور قابلیت کے باعث طلباء کے درمیان اہم مقام حاصل کر لیا ، طلباء کے رہنما کے طور پر وہ یونین کے سیکریٹری بھی بن گئے ، وہ طلباء کے مسائل کو حل کرانے کے لئے کوشاں رہتے ، یہی قائدانہ صلاحیت انہیں مستقبل میں سیاسی رہنما بنانے میں معاون ثابت ہوئی۔ وہ کالج کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی تھے ۔ علی گڑھ کے قیام کے دوران انہیں اسلامی اقدار اور تعلیمات کو بھی سمجھنے اور اپنے اندر سمونے کا موقع ملا ، وہ علماء شبلی کے تفسیر قرآن کے بیان کو انتہائی ذوق و شوق سے سنا کرتے تھے ، اس طرح اسلامی سوچ نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ۔
1894ء میں محمد علی نے اے ایم یو سے بی اے کی سند حاصل کی اور پورے صوبے میں اول رہے ، اتنی کم عمر میں اتنی شاندار کامیابی کے بعد ان کے بھائی شوکت علی نے ان سے نوکری کرانے کے بجائے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے انہیں انگلینڈ بھیج دیا تاکہ وہ آئی سی ایس کا امتحان پاس کر سکیں۔ اس وقت ان کی مالی حالت بہت اچھی نہ تھی پھر بھی شوکت علی کسی نہ کسی طرح محمد علی کی کالج فیس کا انتظام کرتے رہے۔ محمد علی انگلستان کے آکسفورڈ یونیورسٹی سے جدید تاریخ میں بی اے آنرز کی ڈگری نمایاں کامیابی سے حاصل کر کے واپس وطن لوٹے ، اسی دوران 1902 ء میں ان کی شادی رام پور کے ایک عزیز عظمت اللّٰہ کی صاحبزادی امجدی بیگم سے ہو گئی ۔
رامپور میں محمد علی پہلے اسٹیٹ ہائی اسکول کے پرنسپل بنے اور پھر ریاست کے چیف ایجوکیشنل آفیسر مقرر ہوئے ۔ اپنے افسری کے زمانے میں محمد علی نے بہت سی تعلیمی اصلاحات نافذ کیں ، ایک سیاسی اور سماجی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سچے مسلمان بھی تھے۔ انہوں نے ہر طالب علم کے دین کے لحاظ سے اس کی تعلیم کا انتظام کیا ، 1903ء میں انہیں ریاست بڑودہ میں ملازمت مل گئی ، وہاں انہوں نے سات برس انتہائی خوش اسلوبی سے گزارے ۔اپنی ملازمت کے دوران اور اپنی سیاسی زندگی میں انہوں نے کبھی اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا، جس کے باعث 1922ء میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے پریذیڈنٹ بھی بنے۔ محمد علی جوہر جو بھی بات کہتے بے باک کہتے ، اپنے خیالات کا اظہار لیڈر ہوکر کرتے۔ وہ لندن میں علمی کانفرنس میں تقریر کرتے رہتے ، انہوں نے لندن میں گول میز کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ، ” ٹوریا کا پوتا ( یعنی بادشاہ ) اگر میرے وطن کو آزادی نہیں دینا چاہتا تو مجھے قبر کے لیے دو گز جگہ تو دے سکتا ہے”۔
محمد علی جوہر کے اندر بے باکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ، انہوں نے حق کا ساتھ کبھی نہ چھوڑا۔ 19 نومبر 1930 ء کو لندن میں گول میز کانفرنس کے دوران انہوں نے نہایت جرأت کے ساتھ اعلان کیا ، میں ایک غلام ملک میں واپس نہیں جاؤں گا ، میں ایک غیر ملک میں مرنے کو ترجیح دوں گا بشرطیکہ وہ ایک آزاد ملک ہو اور اگر ہم کو ہندوستان کی آزادی نہیں دیں گے تو آپ کو مجھے یہاں ایک قبر دینی پڑے گی ۔ اسی روز محمد علی کمزوری کے باعث بے ہوش ہوگئے کچھ عرصے بعد ان پر فالج کا اثر بھی ہو گیا ، آخر اسی بیماری کی حالت میں 4 جنوری 1931ء کی صبح کو محمد علی اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے ۔5 جنوری کی شام لندن کے ٹاؤن ہال میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور پھر انہیں بیت المقدس کے احاطے میں سپردخاک کر دیا گیا ۔اس طرح خدا نے محمد علی کے اس بیان کی لاج رکھ لی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں غلام ملک میں واپس نہیں جاؤں گا ۔
(رابطہ نمبر : 8429816993)
[email protected]