اسلام آباد //پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جموں و کشمیر کے اعلی سیاسی رہنماؤں سے وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات کو ایک’’ڈرامہ اورتعلقات عامہ مشق‘‘قرار دیا۔اسلام آباد میںکل نیوز بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا ،’’یہ میری نظر میں یہ نشست ناکام، بے سود اور بے مقصد تھی جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا‘‘۔قریشی نے کہا کہ اجلاس میں کشمیری رہنماؤں نے ’’متفقہ طور پر ریاست کی مکمل بحالی کا مطالبہ کیا‘‘۔انہوں نے کہا ،’’رہنماؤں کو ان کے مطالبے پر کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا گیا اور اس کے بجائے یہ بتایا گیا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے بارے میں ایک مناسب وقت پر فیصلہ لیا جائے گا ، جو ایک مبہم بیان ہے۔‘‘انہوں نے نشاندہی کی کہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادت کو اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔قریشی نے دعوی کیا کہ بھارت کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہا ہے جو پاکستان کے لئے پریشان کن ہے کیونکہ اس کے طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس نشست سے ایک بات بہت واضح ہوئی کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ دلوں کے درمیان دوری ہے اور کشمیری دلی سے دور ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ کشمیر میں حالات معمول کی جانب لوٹ آئے ہیں، سب نے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو تسلیم کیا اور ان سے خوشگوار تبدیلی آئے گی لیکن آج یہ جملے اس کی نفی کررہے ہیں۔