مودی پر ’موبائل ایپ‘ کے ذریعے شہریوں کی جاسوسی کا الزام

 نئی دہلی// بھارت کی حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں نے ایک دوسرے پر الزام لگایا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی ’چالوں‘ کے ذریعے اپنے پیروکاروں کی ذاتی معلومات منتقل کر رہے ہیں۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتی جنتا پارٹی ( بی جے پی ) اور اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کی کانگریس پارٹی کی جانب سے فیس بک اور سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس کے ڈیٹا پر قبضے کا الزام لگا کر اسے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا جارہا۔راہول گاندھی کی جانب سے نریندر مودی پر ان کی موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے لاکھوں بھارتیوں کے ذاتی ڈیٹا بیس بنانے کا الزام لگایا گیا۔اس بارے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ پر ان کا کہنا تھا کہ ’ نریندر مودی بگ باس ہیں جو بھارتیوں کی جاسوسی کو پسند کرتے ہیں‘۔تاہم کانگریس کے سربراہ کی جانب سے ان کی جماعت کی ممبرشپ ویب سائٹ اور موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے ذاتی معلومات منتقل کرنے کے الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ ذاتی معلومات کی منتقل کرنے کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک فرانسیسی سیکیورٹی تحقیق کار الیٹ الڈرسن نے نریندر مودی کی اپلیکیشن کی کچھ خامیوں کے بارے میں ٹوئٹ کیا۔الیٹ الڈرسن نے الزام لگایا کہ جب بھی کوئی صارف نریندر مودی کی اینڈرائڈ ایپلیکیشن میں پروفائل بناتا ہے، اس کی ذاتی معلومات بغیر اجازت کے منتقل ہوجاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس ایپلیکشن کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ یہ صارف کی ذاتی معلومات بغیر اجازت کے تیسرے فریق کو بھیج دیتی ہے۔واضح رہے کہ نریندر مودی بھارت میں سوشل میڈیا پر کافی معروف سیاست دان ہیں اور ان کی اس ایپلیکیشن کو 50 لاکھ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا جبکہ ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر 4 کروڑ 14 لاکھ فالوورز ہیں۔دوسری جانب کانگریس اور بی جے پی نے الیٹ الڈرسن کے الزامات کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا اور راحل گاندھی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ نے کانگریس پارٹی کے سابقہ موبائل پلیٹ فارم کے بارے میں الزامات لگانا شروع کردیا۔