موجودہ دور میں انفارمیشن اور ٹکنالوجی زندگی کے ہر شعبے میں اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم ذرائع ابلاغ اور صحافت کو بھی موجودہ سماج میں ایک مساوی اہمیت حاصل ہے۔موجودہ معاشرے میں صحت مند صحافت خاص طور پر قومی سلامتی کے حصول میں جمہوریت کے چوتھے ستون کی حیثیت سے رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف تفریح اور معلومات فراہم کرتا ہے ، بلکہ موجودہ زندگی کی ضرورت بن گئی ہے اور ترقی کے عمل اور معاشرے کے ہر طبقے کو جوابدہ بنانے میں صحافت کا کافی اہم کردار ہے۔
چونکہ موجودہ دور میں عالمگیریت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور معاشرے میں لوگوں کی معاشرتی زندگی بغیر کسی قومی امتیاز کے ساتھ متاثر ہورہی ہے۔ خصوصاََ برصغیر ایشیا میں نظریہ کی آزاد ترسیل کے ایسے بہت سے نتائج برآمد ہوئے، جن کا مشاہدہ ان کی معیشت ، ثقافت کے شعبوں اور تجارت پر اثر انداز ہوئے۔ اس طرح کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر جموں و کشمیر کے صحافتی اداروں نے علاقائی زبانوں میں مختلف نشریات نشر کرکے ثقافتی تہذیب کو فروغ دینے کے لئے ایک عمل شروع کیا ہے اور معاشرے کی سرپرستی کی۔
ماضی میں مغربی ذرائع ابلاغ معاشرے کو صرف چار چیزیں دے رہا تھا ۔وہ تھے خوراک ، فیشن ، فلم اور فنانس تاہم جموں و کشمیر کا ذکر کریں تو یہ بات فراموش نہیں کی جاسکتی کہ یہاں کے ذرائع ابلاغ اداروں نے معاشرے کو تعلیم ، ثقافت اور موجودہ امور کی شکل میں کچھ اور ہی دے دیا ہے اور اس کے علاوہ اس طرح کے مغربی سیلاب کو روکنے کے لئے یہاں کے اخبارات نے معاشرے میں ثقافتی محبت کی کرن کو جنم دیا اور تاریخی واقعات اور ثقافت کو اپنے پہلے صفحات پر اہمیت کے ساتھ جگہ دی۔ بڑے پیمانے معاشرتی حالات پر روشنی ڈالی۔جموں و کشمیر میں اگر چہ افواہیں آگ کی طرح پھیلتی ہیں اور عوام افراتفری کے عالم میں منتشر ہو جاتی ہے،ایسی بے بنیاد خبروں کی تردید اور اصل صورتحال کو عوام کے سامنے لانے میں یہاں کے اخبارات معاشرے کے لئے ایک اہم کردار ادا کررہے ہے اور اس میں پیش کردہ مواد کو مثالی تسلیم کیا جاتا ہے۔
صحت مند جمہوریت میں ذرائع ابلاغ معاشرتی مساوات اور بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ صحافت کا مقصد معاشرے کی بہتر طریقے سے خدمت کرنا ہے۔ جب ذرائع ابلاغ عوام کو معلومات فراہم کرتا ہے تو یہ ان کے پیشہ ورانہ فرائض کا اہم حصہ بن جاتا ہے۔ صحافتی اداروں کی معاشرتی ذمہ داری اور جوابدہی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ معاشرے میں موجود للکار سے کس طرح نمٹنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور ایسے عوامی اعتراضات سے آسانی سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔ ڈی وی آر مورتی ،جو ایک کتاب کے مصنف ہیں، انہوں نے اس بات کو اپنی ایک کتاب میں قلم بند کیا ہے کہ "ذرائع ابلاغ سماج می ںہر اچھی اور بری چیزوں کے لئے ذمہ دار ہے"۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہیں کہ کچھ ادارے اس میدان میں ایک غیر صحت بخش مقابلہ پیش کررہے ہیںاور غیرصحت مندانہ صحافت متعصبانہ خبرسازی کے ساتھ شائع کررہے ہیں۔
جب ٹیلی ویژن اور پرنٹ میڈیا وجود میں آیا تو اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ معاشرے کو بہتر طریقے سے مدد فراہم کرنے کے لئے تعلیم اور عوامی امور کی خبرسازی کی جائے ، تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ بیشتر صحافتی اداروں نے اپنی اصل خدمات کو فراموش کرنے کے ساتھ ساتھ صحافتی اخلاقیات کو بھی خیرباد کہا۔اگرچہ معاشرے میں صحافتی اداروں کا قیام عوامی معاملات کو اجاگر کرنے کے علاوہ سائنس ، تعلیم ، تجارت ، اور ٹکنالوجی کو عام لوگوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے تاہم مختلف صحافتی طبقات بنیادی مقصد کی تکمیل میں ناکام رہے ہیں۔
معاشرے میں صحافت کی جمہوری اہمیت کو آسانی سے اس حقیقت سے سمجھا جاسکتا ہے کہ حکومتی اداروں ، عدلیہ کے بعد اسے چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ اگر سماج میں صحافت تعصب سے پاک رہتی ہے تو معاشرے میں اس کا بہت بڑا کردار ہے یا ہم ایک بہت بڑی تعمیری قدرکہہ سکتے ہیں۔غیر جانبدار صحافت کا معاملہ کئی دہائیوں سے سماجی حلقوں میں زیر بحث رہا ہے کہ کیا ذرائع ابلاغ معاشرے کی عکاسی کرتا ہے یا معاشرے کے قائد کی حیثیت سے کام کرتا ہے؟
رابطہ: [email protected]
������