عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی //تحصیل تھنہ منڈی کے منیہال گلی علاقے میں ایک مرتبہ پھر بھاری لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں نہ صرف زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچا بلکہ مسافروں اور عام راہگیروں کو کئی گھنٹوں تک سڑک بند رہنے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لینڈ سلائیڈنگ کے سبب درجنوں چھوٹی بڑی گاڑیاں سڑک پر درماندہ ہوکر رہ گئیں جبکہ مریضوں اور خواتین سمیت مسافروں کو گھنٹوں طویل جام میں پھنسا رہنا پڑا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ منیہال گلی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بھاری زمین کھسکنے کی زد میں آگیا ہے۔ مکینوں نے کہا کہ زمین کھسکنے سے نہ صرف کھیت کھلیان برباد ہوگئے بلکہ کئی درخت جڑ سے اکھڑ کر نیچے آگئے جس سے علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھنے کو ملی۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ’’پاہلیاں کا موڑ‘ کے مقام پر مسلسل زمین کھسکنے کا عمل جاری ہے اور خطرہ ہر دن بڑھتا جا رہا ہے۔اہلِ علاقہ کے مطابق تھنہ–بفلیاز مغل روڈ کی تعمیر و توسیع کے بعد سے منیہال گلی اور اس کے آس پاس کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں نہ صرف کھیت ختم ہوگئے بلکہ کئی پرانے قبرستان زمین برد ہوچکے ہیں۔ متعدد رہائشی مکانات میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ چکی ہیں، جو اب ناقابلِ رہائش ہوکر رہ گئے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ وہ ہر وقت خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو کسی بھی وقت جانی نقصان کا بڑا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔مسافروں نے بھی انتظامیہ پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بار بار شکایات کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ کئی بار سڑک پر بھاری مشینری لائی گئی مگر وقتی صفائی کے بعد مسئلہ جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔ مقامی ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ گھنٹوں جام میں پھنسے رہنے سے مریضوں اور بزرگوں کو شدید تکلیف ہوتی ہے، جبکہ گاڑیوں میں ایندھن ختم ہونے کے مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔اہلِ علاقہ نے تحصیل اور ضلع انتظامیہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ متاثرہ مقام پر مستقل حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے ایس ڈی ایم تھنہ منڈی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو موقع پر جا کر نقصانات کا جائزہ لیں، درست تخمینہ لگائیں اور متاثرہ خاندانوں کو معقول معاوضہ فراہم کریں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر انتظامیہ نے فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آئندہ دنوں میں مزید بڑے حادثات رونما ہوسکتے ہیں۔