منشیات کا خاموش طوفان رُکے کیسے؟

 حال ہی میں حکومت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں 6لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں جو اس کی ایک کروڑ 36لاکھ 50ہزار آبادی کا تقریباً 4.6فیصد ہے اور منشیات کا استعمال کرنے والوں میں 90فیصد 17سے35سال کی عمر کے نوجوان ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں گذشتہ 6برسوں کے دوران ہیروئن اور برائون شوگر کا نشہ کرنے والوں کی تعداد میں 85فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ہر دن پولیس کی جانب سے منشیات سمگلروں کو پکڑے جانے کی خبریں موصول ہورہی ہیں اور المیہ تو یہ ہے کہ کشمیر سے کٹھوعہ تک پورا جموںوکشمیر اس وباء کی لپیٹ میں آچکاہے ۔گو پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ منشیات مخالف مہم میں سرگرم ہے تاہم زمینی صورتحال یہ ہے کہ جموںوکشمیر منشیات کے خریدو فروخت اور استعمال کی پسندیدہ جگہ بن چکا ہے۔ جہاں تک ہماری وادی کشمیر کا تعلق ہے تو یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل طور ناآشنا تھا بلکہ یہاں تمباکو کو چھوڑ کر دیگر انواع کے نشوں کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا بھی گناہ عظیم تصور کیاجاتا تھا تاہم اب وہ صورتحال نہیں رہی ہے۔چینیوں کو تودہائیوں قبل اس لت سے نجات مل گئی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر اس دلدل میں پھنستے ہی جارہا ہے اور یہاں ہرگزرنے والے سال کے ساتھ ساتھ نہ صرف منشیات کا کاروبار فروغ پاجارہا ہے بلکہ منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔ ماہرین نفسیات  کے مطابق  16 سے 30 برس کے درمیانی عمروں کے لوگ اس خباثت کی طرف زیادہ آسانی سے راغب ہوتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیرمیں تقریباً 3.8 فیصد آبادی افیم اور افیم سے وابستہ نشے کی عادی ہے، جو انتہائی بڑی تعداد ہے۔ اس معاملے میں کشمیر نے ایران کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جہاں کل آبادی کے 2.6 فیصد لوگ افیم اور اس سے وابستہ نشہ آور چیزیں استعمال کرتے ہیں ۔ کشمیر کی کل آبادی کا دو فیصد لوگ بھنگ استعمال کرتے ہیں جبکہ 1.07 فیصد آبادی Benzodiazepines استعمال کرتی ہے اور 0.7 فیصد لوگ شراب نوشی میں ملوث ہیں۔اسی طرح24.5 فیصد لوگ سگریٹ نوشی کے عادی ہیں جبکہ 10.63 فیصد لوگ سگریٹ نوشی کے دوسرے متبادلات استعمال کرتے ہیں۔تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ افیم کی مختلف اشکال کے استعمال میں کئی سو گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ 1980 میں 9.5 فیصد آبادی افیم او ر اس سے وابستہ اشیاء کا نشہ کرتی تھی، لیکن 2002 تک منشیات سے نجات حاصل کرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 73.1 فیصد ہوگئی ہے۔ 1980 کے دوران تک ہیروئن اور دوسری سخت نشہ آو ر چیزیں ممبئی سے آ یا کرتی تھیں، لیکن 1990 کے بعد ریاست ہیروئن اور اس سے وابستہ اشیاء کی اسمگلنگ کا بین الاقوامی ٹرانزٹ پوائنٹ بن چکی ہے ۔ایک مقامی رضاکار تنظیم CAUSEکی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق کشمیر میں منشیات کی وباء طوفان کی رفتار سے بڑھ رہی ہے اور تشویشناک امر یہ ہے کہ چھوٹے بچے اور نوجوان اس کا شکار ہورہے ہیں۔ادارہ کی پائلٹ سٹیڈی میں کہاگیا ہے کہ 22فیصد گریجوٹ ،6فیصد پوسٹ گریجوٹ اور 2فیصد پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ نوجوان منشیات کی لت میںمبتلا ہوچکے ہیں ۔  اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سب کچھ سرکاری حکام کی ناک کے نیچے کیسے ہوتا ہے؟ بھنگ، پاپی اور ایسی دوسری نشہ آور فصلیں این ڈی پی ایس ایکٹ، 1985 کی دفعہ 18 کے تحت ایک قابل سزا جرم ہے اور اس کیلئے مجرم کو 10 سال قید با مشقت اور ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ایسی منشیات کو خریدنا اور فروخت کرنا بھی اس قانون کی دفعہ 15 کے تحت جرم ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعے پاس کئے گئے اس قانون کو ریاستی حکومتیں اپنی زمینی حقائق کی بنیاد پر نافذ کرتی ہیں۔ اگرچہ اس قانو ن کی دفعہ 10 یوٹی حکومت کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ افیم، پاپی کے پودوں اور دوائوں میں استعمال ہونے والی افیم اور بھنگ کی کھیتی کی بین الریاستی حرکت پر روک لگا سکتے اور اسے ضبط کر سکتے ہیں تاہم عملی طور ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا ہے بلکہ اگر حق گوئی سے کام لیاجائے تو حکومتی سطح پر صرف کاغذے گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں جبکہ عملی سطح پر کچھ کام نہیں ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں ہماری نوجوان نسل اس دلدل میں پھنستی ہی چلی جارہی ہے اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو کشمیری سماج  کے مستقبل کے بارے میں کچھ وثوق کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔اگر افیم زدہ چینی قوم اس خجالت سے نجات پاسکتی ہے توماضی قریب تک اس لعنت سے نامانوس کشمیری قوم کیوں نشے کے سمندر میں غرق ہوتی جارہی ہے ۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا ارباب حل و عقد اور اہل دانش کو دینا پڑے گاوگرنہ یہی کہاجائے گا کہ ارباب اختیار کشمیریوں کی بربادی کا تماشا دیکھنے پر تلے ہوئے ہیں جو کسی صدمہ عظیم سے کم نہ ہوگا۔